Showing posts with label میری شاعری. Show all posts
Showing posts with label میری شاعری. Show all posts
یہ دنیا خواب کا دریا نہیں لڑکی
جسے تعبیر پانے کی ہوس میں پار کر لو تم
یہ دنیا اک تماشائی
مسلسل آبلہ پائی
کہ جس پر چلتے پاؤں درد کی جنت کو چھوتے ہیں
یقین و بے یقینی ہی کچل دیتی ہے سر ان کے
یہاں پر آنکھ میں جن کی بہت سے خواب ہوتے ہیں
محبت درد دیتی ہے تو نفرت سیج ہے ایسی
کہ جس کی رہ گزر میں ہر قدم پر خار ہوتے ہیں
مگر تم حوصلہ رکھنا
وفا کا سلسلہ رکھنا
یہ آنکھیں خواب کا گھر ہیں
مگر تم خواب مت بُننا
کہ سارے خواب آنکھوں میں
ہی سانسیں توڑ جاتے ہیں
انہیں تعبیر ملنے کی کوئی امید مت رکھنا
انہیں خوابوں کی ہم نے کرچیاں پلکوں سے چننی ہیں
سنو لڑکی!
خوشی بانٹو
ہنسی کے رنگ بکھراؤ
یہ دنیا خواب کا دریا نہیں جس کو
کسی کچے گھڑے پر پار کر پاؤ۔
ناعمہ عزیز
کہا جو تم نے
جہان بھر میں
مکیں کے اندر، مکاں کے اندر
زمین اور آسماں کے اندر
خدا کہیں بھی نہیں رہا ہے
بجا کہا ہے
یہاں جوظلم و ستم ہے جاری
کہ عشقِ گُل پر بھی سنگ باری
بھرے ہیں طوفان چشمِ نم میں
بہے ہے انسان سیلِ غم میں
زمانے بھر میں کہیں جو وہ دِکھ نہیں رہا ہے
بجا کہا ہے
مگر ذرا تم
ٹھہر تو جاؤ
کہ دو مجھے بھی تو یہ اجازت
عقیدتوں کو زبان دے لوں
حقیقتوں کا بیان دے لوں
یقیں کو بڑھ کر دوام دے لوں
خدا کا تم کو پیام دے لوں
کہ امن و انس و سلام دے لوں
اگر ہے تم کو تلاش اس کی
تو اپنے اندر نگاہ ڈالو
وجود اس کا جو ڈھونڈنا ہے
تو اپنے دل کو ٹٹول کر تم
چہار اکناف اپنے دیکھو
یہ خلق اس کی جو زندگی بھر
محبتوں اور نفرتوں کے ہے کھیل کھیلے
یہ لوحِ محفوظ میں اسی نے تو لکھ رکھا ہے
یہاں کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو
محبتوں کا یقین توڑیں
کسی کو یونہی بلکتے روتے
کسی بھی انجانی رہ پہ چھوڑیں
مگر اسی ایک راہ پر ہی
وفاؤں کے کچھ امین بھی ہیں
جو خضرِ منزل بنے کشادہ دل و نگہ سے
رواں دواں ہیں پکارتے ہیں
جو راستے کے لُٹے مسافر کو
آسرا دے کے کہہ رہے ہیں
کہ ہم ہیں سیلِ وفا کی صورت
تو مہرباں ہیں خدا کی صورت
جو دل کے اندر ترے غموں کو
سمیٹ لیں گے خدا کی صورت
ازل سے لے کر ابد تلک جو
زمین اور آسماں کے اندر
محبتوں کی جو صورتیں ہیں
خدا بھی ان میں ہی دِکھ رہا ہے
خدا زمیں سے نہیں گیا ہے
خدا تمہارا بھی آسرا ہے
خدا ہمارا بھی آسرا ہے 

از : ناعمہ عزیز
میں ڈُب کے تردی رہندی آں
میں ایس اے ڈر وچ رہندی آں
جے ٹٹیا دل نئیں جڑ پایا
کوئی دور گیا نئیں مڑ آیا
ہنجواں نوں روکدی رہندی آں
میں ڈردی کُجھ نئیں کہندی آں

لکھیاں نوں کون مٹا سکدا
نئیں چوٹاں دل تے کھا سکدا
میں سب کجھ دل تے سہندی آں
میں ڈ دی کجھ نئیں کہندی آں

ایس جگ تے کوئی کسے دا نئیں
میں ایس لئی اپنی رہندی آں
میں وانگ شدایاں جیندی آں
میں ڈردی کجھ نئیں کہندی آں

از: ناعمہ عزیز
جہیڑی عشق دی کھیڈ رچائی اے
اے میری سمجھ نا آئی اے
ویکھن نوں لگد ا سادا اے
اے عشق بڑا ای ڈھڈا اے
اے ڈھڈا عشق نچا دیوے
پیراں وچ چھالے پا دیوے
عرشاں دی سیر کر دیوے
اے رب دے نال ملا دیوے
چُپ رہ کے بندہ تَر جاندا
جے بولے سولی چڑھ جاندا
جہیڑا عشق سمندر ور جاندا
او جنیدا وسدا مر جاندا
ایس عشق توں کوئی وی بچیا نئیں
پر ہر اک وچ اے رچیا نئیں
ایس عشق سے کھیڈ نرالے نئیں
فقیراں ناں ایدے پالے نئیں
اے راتاں نوں جگا دیندا
اکھیاں وچ جھریاں لا دیندا
اے ہجر دی اگ وچ ساڑ دیندا
اے بندہ اندروں مار دیندا
ویکھن نوں لگدا سادا اے
پر عشق بڑا ای ڈھڈا اے۔۔

از : ناعمہ عزیز
جب رستہ ہو دشوار بہت
اور منزل دور نظر آئے،
اس لمحے یاد آ جائے
اور بے حساب آ جائے
جب آنسو حد کو توڑ کر
آنکھوں سے باہر آتے ہوں
اور چپکے سے پھر کانوں میں
اک سرگوشی کر جاتے ہوں
تو بات سنو تم یوں کرنا
وہ لمحے یاد کر لینا
جو سنگ ہمارے گزرے تھے
وہ اپنے ساتھ کر لینا
یادوں کے سنگم ساتھ لئے
ہاتھوں میں پھر سے ہاتھ لئے
تم دور کہیں گر کھو جاؤ
اور ہنستے ہنستے سو جاؤ
پھر یادوں کے سب پھول لئے
جب لوٹ کے واپس آ جاؤ
تو دل سے التجا کرنا
وہ دوست جہاں بھی ہو یا رب
اسے غم سے دور صدا کرنا
ہاں جب بھی یاد آ جائے
بس اتنی سی دُعا کرنا۔۔
از ناعمہ عزیز
پیاری دوستوں فریحہ اور مقدس کے نام
بھائی کے نام

یہ حقیقت ہے تو خواب کیوں نہیں ہو جاتی!

تیرے جانے کی سچائی سراب کیوں نہیں ہو جاتی !

کیوں ہوں میں اسقدر یقین و وہم میں مبتلا

یہ کہانی ہے تو مجھ پر وا کیوں نہیں ہو جاتی !

اکثر لگتا ہے یونہی ہنستے کھیلتے چلے آؤ گے تم

یہ امیدجھوٹی ہے تو راکھ کیوں نہیں ہو جاتی !

میں صبر و تحمل کی سب حدود و قیود میں ہوں

میرے ذہن و دل سے تمھاری یاد نہیں جاتی !!

میرے لبوں پہ التجا ہے دعا ہے تیرے واسطے

میری دعاؤں کی ہر راہ ہے تیری طرف جاتی ۔۔

از : ناعمہ عزی
ز
ہنستے چہرے ، باتوں میں دم
کھانا زیادہ ، پڑھائی کم
کہنا ہے تمھیں اتنا ہم دم
ڈھونڈو گے اگر کالج کالج
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
پریزنٹیشن کے وقت آوازیں مدھم
کانفڈنٹ لیول باعثِ شرم
اُٹھا کے سر فخر سے یہ کہتے ہیں ہم
ڈھونڈو گے اگر کالج کالج
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
بھگتی ہے ڈھیرو ڈانٹ ڈپٹ
پر آیا نہیں گردن میں خم
کہنا ہے تمھیں اتنا ہم دم
ڈھونڈو گے اگر کالج کالج
ملنےکے نہیں نایاب ہیں ہم
مجبوری تو ہے پر حقیقت ہے یہ
کالج چھوڑنے کا ہے ہم سب کو غم
کوئی مانے نا مانے مگر سچ ہے یہ
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہیں ہم ۔۔۔
از ۔۔۔ ناعمہ عزیز
پین سیلویا دے کرتوت پُل نا پاواں گے
رچرڈ ویلبر نوں تے اسی پُھل چڑواں گے
ایشبیری دیاں نظماں اُتے طمالاں پاونیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں

ایڈرینن ریچ دا فیمینیزم پار لایا سی
کروسی بل دا جادو وی کر کے دکھایا سی
کیویں کیویں پڑھ کے اساں نیپڑے توڑیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں

ایڈورڈ سید دی سچی گل اے سمجھ نہ آئی سی
بیکن رسل نوں تے اسی سلامی پائی سی
پاہ سوفٹ نوں پڑھ کے ساریاں اے ہی بولیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں

ملٹن نوں پڑھان لئی ساڈی مس نا منی سی
سرے وائٹ دیاں نظماں دی وی لت پنی سی
ڈن نوں پڑھ کے کنیاں سانوں شرماں آونیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں

سفوکل نے کنگ کوئین دے نال ملایا سی
فاوسٹس نے جہنم دا نظارہ کرایا سی
اوسکر وائلڈ پڑھ کے ہس ہس کھلیاں پاونیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں ۔




مرے طزر و فکر کا نقش گر
مرِی عقل و فہم سے بالاتر
کہ میں جان لوں تیرا راستہ
مِرا قلب تو ہے تیرا ہی گھر
مرِی آنکھ میں تیرا عکس ہو
مجھے خود میں اتنا فنا توُ کر
میں چھپی ہوں خود میں ہی کسقدر
مجھے کھول دےمیری ذات پر
مجھے آگہی کی دے روشنی
دے میرے جنون کو ر ہگزر
مرِی زندگی کا ہر اک سفر
ترِی راہ میں ہو گزر بسر
از: ناعمہ عزیز
میری شاعری کو پڑھ کے
میری دوستیں پوچھتی ہیں
سنو گڑیا
کہیں تمھارے لفظوں میں
خوشی کے رنگ ملتے ہیں
کہیں تمھارے جذبوں میں
غموں کے تاثر دکھتے ہیں
کہیں تم روتی ہوں
شدتِ غم کے حوالوں سے
کہیں چپ سی نظر آتی ہو
گہرے خیالوں میں
مگر جب تم
ہمارے ساتھ ہوتی ہو
تو تمھاری آنکھوں میں دُکھ کا
کوئی سایہ نہیں دِکھتا
تمھاری مسکراہٹ
زندگی سے بھرپور ہوتی ہے
کہ تم گنگناتی ہوں
تم سب مدہوش ہوتے ہیں ،
ہمیں اک بتلاؤ
تمھارا کونسا ہے روپ ؟
جسے اصلی سمجھ لیں ہم ؟
تو دھیرے سے میں کہتی ہوں
بہت سادہ سے لفظوں میں
مجھے یہ بات کہنی ہے
کہ میرے لفظ میری شاعری ہے ترجمہ میرا
کہ میں خود ہی نہیں ہوں جانتی اپنا کوئی پتا
ہاں پر اتنی حقیقت ہے
کسی اپنے کے ہجر نے
بہت ہی توڑ ڈالا ہے
وجہ بس اتنی سی ہے کہ
میرے لفظوں کی سب راہیں
اسی منزل کو جاتی ہیں
تو سب محسوس کرتے ہیں
طوفان غم کی شدت کو
میرے سب لفظ سب کو ٹوٹے پھوٹے بکھرے سے لگتے ہیں
میرے جذبے سبھی کو روکھے سوکھے گہرے لگتے ہیں
مگر
خود کو چھپا کر مسکراہٹ کے پردے تلے
میں مسکراتی، کھکھلاتی ، چہچہاتی ہوں
کہ میں یہ جانتی ہوں
زندگی کی قوس قزح کے رنگ ہیں یہ سب
بنا ان کے ادھوری ہوں
اور ان کے سنگ پوری ہوں !

از: ناعمہ عزیز
اسے کہو
تیری آنکھیں
سمندر سے بھی گہری ہیں
بہت شفاف سی آنکھیں
یہ ہنستی کھیلتی آنکھیں
اسے کہو
کہ اتنے مہنگے خواب مت دیکھے
مجھے وہ ہنستی کھیلتی ہی اچھی لگتی ہے
اسے کہو
کہ خوابوں کو سجانے میں
اک عرصہ بیت جاتا ہے
مگر پھر ٹوٹ جانے میں
ذرا سی دیر لگتی ہے۔۔

از ناعمہ عزیز
محبتوں کے وہ باب سارے
وہ چاہتوں کے گلاب سارے
سنبھال رکھنا ،
خیال رکھنا
وفا میں ساری عنایتوں کا
وہ ٹوٹے دل کی شکایتوں کا
حساب رکھنا ،
خیال رکھنا
گلاب رت کے وہ سارے قصے
کبھی کسی کو سنانا چاہو
تو لفظوں کو بے مثال رکھنا
خیال رکھنا
کبھی جو ہم تم کو یاد آئیں
تو ہم سے تعلق بحال رکھنا ،
یہ دوستی لازوال رکھنا
خیال رکھنا ۔

از ناعمہ عزیز



فضاؤں میں ابھی تک احساس ہے دُکھ کا
اندر کہیں کچھ خالی سا ہوا ہے
بہت دنوں سے
کچھ ڈھونڈ رہی ہیں نگاہیں
اک وہ جو اب پاس نہیں رہا ہے
ہاں وہ دور جا بسا ہے کہیں
بنا کے اسکے کچھ سوجھ نہیں رہا ہے
کرب و اذیت نے توڑ دیا ہے اندر تلک
ہاں اب سمجھ آیا
زندگی کیا بلا ہے !
ہم زندہ ہیں یہ حقیقت ہے
لیکن
ہم بھی مر گئے تھے اسی روز
یقین جانو
جس دن سے وہ روٹھ کر گیا ہے
ہاں مگر سانس جاری ہے ابھی تک
کیونکہ
زندگی نے اک نیا جنم لیا ہے ۔
مرحوم بھائی باقر عزیز کے نام اس کے جانے کا اس درد کو بیان کرنے کی کوشش جو اس کے جانے کے بعد اندر کہیں بہت کچھ توڑ پھوڑ رہا ہے ۔


کبھی تم نے یہ سوچا ہے ؟
کہ بہنوں کی ادائیں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیں ،
یہ خود بھوکی بھی رہتی ہیں ،
یہ خود پیاسی بھی رہتی ہیں ،
پر جھلستی دھوپ میں یہ پریاں
چھاؤں جیسی ہوتی ہیں ،
کبھی تم نے یہ سوچا ہے ؟
تمھاری عزتوں کی چادر کی حفاظت کرتی ہیں ،
تمھاری غیرتوں کے نام پر قربان ہوتی ہیں ،
یہ اپنی خواہشوں کے اکثر
گلے کو گھونٹ دیتی ہیں ،
یہ پھولوں سی نازک جانیں ،
تمھارا مان ہوتی ہیں ،
کبھی تم نے یہ سوچاہے ؟
تمھارے غم میں اکثر ،
اٹھ اٹھ کر جو راتوں کو ۔
یہ بے آواز روتی ہیں !
تمھارے حصے کے سب درد ،
اپنی قسمت میں لکھنے کی ،
جو رب سے دعائیں کرتی ہیں!
یہ اپنے حصے کی خوشیاں
جو تم پر وار دیتی ہیں ،
کبھی تم نے یہ سوچا ہے ؟
یہ ایسا کیونکر کرتی ہیں ؟

کیونکہ
یہ ماں کا روپ ہوتی ہیں ۔
یہ ماؤں جیسی ہوتی ہیں ۔
سوال ہونا چاہتی ہوں ،
جواب ہونا چاہتی ہوں
خوشی و غم کے موت و زندگی کے
سبھی جذبوں سے آزاد ہونا چاہتی ہوں،
میں چاہتی ہوں خامشیوں کے سبھی سنگم
آسمان کی وسعتوں میں
محو پرواز ہونا چاہتی ہوں
پر ابھی تو بہت سفر باقی ہے ،
ابھی تو نغمگی کا ہوتا لازم ہے
ابھی تو قرب انسان واجب ہے
ابھی تو میں وفا اور استقامت کی خوبی تک نہیں پہنچی
ابھی تو فقیری عطا بھی نہیں ہوئی
ابھی تو قلندری کے رموز بھی نہاں ہیں
ابھی تو فکر و عمل سے دوری ہے ،
ابھی تو خیالات انتشار کا شکار ہیں
ابھی تو نوک خار پر کوئی صاحب حال
شبنم کی طرح رقص کرتا نہیں آیا
ابھی تو دل و نگاہ میں سمانا باقی ہے
ابھی تو وحدت کے آثار نمودار نہیں ہوئے
ابھی تو اس فیض کے قابل نہیں ہوں میں
ابھی تو یہ فیصلہ نصیب کی بابت ہوگا
از : ناعمہ عزیز 
برسوں بیت جائیں گے۔
معتبر ہونے میں
عزتیں بنانے میں
لیکن
اِک خطا کی قیمت کا
اتنا سود بھر دو گے
عزتوں کی چادر کو
چاک چاک کر دو گے

پگڈنڈی پہ چلنا یوں
کہ پاؤں پھسل جائے
گر جو بھول ہوجائے
عمر بھر کی محنت کا
ساری نیک نامی کا
پردہ فاش کر دو گے۔
از ناعمہ عزیز

کسی کے چھوڑ جانے سے،
سانسوں کی مالا کا،
دھاگا کب ٹوٹا ہے،
تو پھر یہ سوگ کیسا ہے!
یہ دل کا روگ کیسا ہے!
یہ کیسی آگ لگتی ہے!
یہ کیسا درد اُٹھتا ہے!
کہ مجھے کو چین نہیں آتا!
چلو اک کام کرتی ہوں،
وہ سب میں بھول جاتی ہوں،
ہاں میں اِک قبر بناتی ہوں،
کہ جس کے مقبرے پر میں،
تمھارا نام لکھتی ہوں،
تمھاری یادوں کے سائے،
میں اس میں دفن کرتی ہوں،
چلویہ فرض کرتی ہوں،
کہ تم کو بھول جاتی ہوں،
مگر یہ سب ناکارہ ہے،
تمھارے بن نا پہلے تھا،
نا اب میرا گزارہ ہے۔

ناعمہ عزیز :)


اے دوست
اگر رشتہ نبھانا ہے
تو پھر یہ سوچ لینا کہ
تعلق ٹوٹ نا جائے
کوئی بھی روٹھ نا جائے
میری اک بات سن لوتم
جوباتیں تنگ کرتی ہوں
تمھارا دل جلاتی ہوں
اگر کوئی شکایت ہو
کسی کی کوئی غلطی ہو
تو پھر تم چپ نہیں رہنا
میری بس التجا یہ ہے
جو دل میں ہو وہ سب کہنا
حیاتی چار دن کی ہے
جو ہنس کے بیت جاتے ہیں
وہ لمحے یاد رہتے ہیں
مگر خاموش رہنے سے
اکیلے نیر بہانے سے
یوں اپنا دل جلانے
کسی کا کچھ نہیں جاتا
یہ شکوے غم بڑھاتے ہیں
اور یوں
تعلق ٹوٹ جاتے ہیں۔
ناعمہ عزیز

Total Pageviews

Powered By Blogger

Contributors

Followers