فضاؤں میں ابھی تک احساس ہے دُکھ کا
اندر کہیں کچھ خالی سا ہوا ہے
بہت دنوں سے
کچھ ڈھونڈ رہی ہیں نگاہیں
اک وہ جو اب پاس نہیں رہا ہے
ہاں وہ دور جا بسا ہے کہیں
بنا کے اسکے کچھ سوجھ نہیں رہا ہے
کرب و اذیت نے توڑ دیا ہے اندر تلک
ہاں اب سمجھ آیا
زندگی کیا بلا ہے !
ہم زندہ ہیں یہ حقیقت ہے
لیکن
ہم بھی مر گئے تھے اسی روز
یقین جانو
جس دن سے وہ روٹھ کر گیا ہے
ہاں مگر سانس جاری ہے ابھی تک
کیونکہ
زندگی نے اک نیا جنم لیا ہے ۔
مرحوم بھائی باقر عزیز کے نام اس کے جانے کا اس درد کو بیان کرنے کی کوشش جو اس کے جانے کے بعد اندر کہیں بہت کچھ توڑ پھوڑ رہا ہے ۔

1 comments:

عبدالرزاق قادری نے لکھا ہے

بھائی کب گئے اس دارِ فانی سے؟

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


Total Pageviews

Contributors

Followers