یہ دنیا خواب کا دریا نہیں لڑکی
جسے تعبیر پانے کی ہوس میں پار کر لو تم
یہ دنیا اک تماشائی
مسلسل آبلہ پائی
کہ جس پر چلتے پاؤں درد کی جنت کو چھوتے ہیں
یقین و بے یقینی ہی کچل دیتی ہے سر ان کے
یہاں پر آنکھ میں جن کی بہت سے خواب ہوتے ہیں
محبت درد دیتی ہے تو نفرت سیج ہے ایسی
کہ جس کی رہ گزر میں ہر قدم پر خار ہوتے ہیں
مگر تم حوصلہ رکھنا
وفا کا سلسلہ رکھنا
یہ آنکھیں خواب کا گھر ہیں
مگر تم خواب مت بُننا
کہ سارے خواب آنکھوں میں
ہی سانسیں توڑ جاتے ہیں
انہیں تعبیر ملنے کی کوئی امید مت رکھنا
انہیں خوابوں کی ہم نے کرچیاں پلکوں سے چننی ہیں
سنو لڑکی!
خوشی بانٹو
ہنسی کے رنگ بکھراؤ
یہ دنیا خواب کا دریا نہیں جس کو
کسی کچے گھڑے پر پار کر پاؤ۔
ناعمہ عزیز

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


Total Pageviews

Contributors

Followers