جب رستہ ہو دشوار بہت
اور منزل دور نظر آئے،
اس لمحے یاد آ جائے
اور بے حساب آ جائے
جب آنسو حد کو توڑ کر
آنکھوں سے باہر آتے ہوں
اور چپکے سے پھر کانوں میں
اک سرگوشی کر جاتے ہوں
تو بات سنو تم یوں کرنا
وہ لمحے یاد کر لینا
جو سنگ ہمارے گزرے تھے
وہ اپنے ساتھ کر لینا
یادوں کے سنگم ساتھ لئے
ہاتھوں میں پھر سے ہاتھ لئے
تم دور کہیں گر کھو جاؤ
اور ہنستے ہنستے سو جاؤ
پھر یادوں کے سب پھول لئے
جب لوٹ کے واپس آ جاؤ
تو دل سے التجا کرنا
وہ دوست جہاں بھی ہو یا رب
اسے غم سے دور صدا کرنا
ہاں جب بھی یاد آ جائے
بس اتنی سی دُعا کرنا۔۔
از ناعمہ عزیز
پیاری دوستوں فریحہ اور مقدس کے نام
بھائی کے نام

یہ حقیقت ہے تو خواب کیوں نہیں ہو جاتی!

تیرے جانے کی سچائی سراب کیوں نہیں ہو جاتی !

کیوں ہوں میں اسقدر یقین و وہم میں مبتلا

یہ کہانی ہے تو مجھ پر وا کیوں نہیں ہو جاتی !

اکثر لگتا ہے یونہی ہنستے کھیلتے چلے آؤ گے تم

یہ امیدجھوٹی ہے تو راکھ کیوں نہیں ہو جاتی !

میں صبر و تحمل کی سب حدود و قیود میں ہوں

میرے ذہن و دل سے تمھاری یاد نہیں جاتی !!

میرے لبوں پہ التجا ہے دعا ہے تیرے واسطے

میری دعاؤں کی ہر راہ ہے تیری طرف جاتی ۔۔

از : ناعمہ عزی
ز

Total Pageviews

Contributors

Followers