یہ سال بھی گزر گیا ، جب بھی میری سالگرہ آتی ہے اور جب بھی جنوری کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو میں ایک بار پیچھے کی طرف ضرور نظر ڈالتی ہوں ، ہمیشہ میں ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ ’’ کل میں کیا تھی اور آج میں کیا ہوں ‘‘؟؟؟؟
ہاں اس بار جب پچھلے سال پر ایک نظر ڈالی تو اپنے اندر ایک فرق واضح محسوس کیا، اب میں بہت حد تک حقیت پسند ہو گئی ہو ں ، خوابوں اور خیالوں کی دنیا میں رہنا چھوڑ دیا ہے، پتا نہیں کیوں جو چیز نا ملے ہمیں اُسی میں اتنی کشش کیوں نظر آتی ہے !! مجھے ہمیشہ گلہ رہتا تھا کہ یہ چیز مجھے کیوں نہیں ملی ، لیکن اب میں نے زندگی سے سمجھوتا کرنا سیکھ لیا ہے، اور شاید سب کو ہی سیکھ لینا چاہئے ، ہم جتنی جلدی یہ بات سیکھ لیتے ہیں ہمارا اتنا ہی فائدہ ہوتا ہے، لوگ صرف ایک لفظ ’’زندگی‘‘ کو بہت سے مفہوم پہناتے ہیں ، لیکن میرے خیال سے زندگی بی۔ اے کے (بی ) پیپر کے جیسی ہوتی ہے ، بالکل ان ایکسپکٹڈ!!
اور میرے خیال سے زندگی ٖصرف اور صرف compromise and sacrifices
نام ہے ، ہمیں کبھی کسی خواہش پر سکرفائز کرنا پڑتا ہے ، اور کبھی کسی انسان سے، کبھی اپنے آپ سے !!
اگر ہم سیکریفائز اور کمپرومائز کرنا سیکھ جاتے ہیں تو زندگی آسان ہو جاتی ہے، پھر آپ کے پاس کچھ ہو یا نا ہو کچھ خاص فرق نہیں پڑتا، اور اس کو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں جب کوئی چیز قسمت میں ہے ہی نہیں تو پھر افسوس اور دُکھ کیسا؟؟
اور دراصل پچھلے سارا سال میں نے صرف یہی ایک بات سیکھی ہے اور اب مجھے اتنی عادت ہو گئی ہے کہ کچھ خاص فرق نہیں پڑتا!!!
اور دوسری بات ، جو میں نے سیکھی وہ یہ تھی کہ حال میں خوش رہو، یہ ٹھیک ہے کہ ماضی ایک غذاب ہوتا ہے ، ماضی ایک ایسا اندھیرا کمرہ ہے جس کی تاریکی ہمیں کھنچتی ہے ، مگر اس تاریکی اور تنہائی میں سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں ہوتا ، ایسا پچھتاوہ جس سے صرف اذیت ہوتی ہے، اشقاق احمد صاحب ٹھیک فرماتے ہیں ، ہم میں سے بہت سے لوگ ماضی کے پچھتاوں میں زندہ رہتے ہیں اور کچھ لوگ مستقبل کے خوف میں، حال میں رہنے کا ہنر کسی کو نہیں آتا،
اور آپ کسی ایک لمحے کو ،، وہ ایک لمحہ جس میں آپ کو سانس آ رہی ہے ، صرف اس لمحے میں جی کر دیکھیں ، جو گزر گیا وہ تو موت کی طرح ہے جو کہ کبھی واپس نہیں آسکتا ہے ، جو آنے والا ہے ، اُس کے بارے میں کیوں فکر مند ہونا جب آپ کو اپنی سانس کے رک جانے کا بھی علم نہیں ہے ؟؟؟ تو پھر اُس لمحے میں کیوں نا رہا جائے جو ہمارے پاس ہے ؟؟؟ اُسے کیوں نا خوشی سے بھر پور کر لیا جائے !!!
میری طرف سے سال نو سب کو مبارک۔

اور اس دعا کے ساتھ کہ یہ اور آنے والے سب سال میرے سب بہن بھائیوں ، شاکر بھیا، بلال بھیا، عائشہ باقر ، سامعہ، صالحہ سب کے خوشیاں اور کامیاں لے آئیں اور اللہ تعالیٰ ہمارے والدین کو صحت و تندرستی دے اور ان کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے ،
اور آپ سب کی نیک خواہشات کو پورا کرے، اور پاکستان میں امن ہو جائے۔آمین

3 comments:

احمد عرفان شفقت نے لکھا ہے

بہت اچھی تحریر لگی یہ مجھے۔ اس لحاظ سے کہ اس میں جینے کے حوالے سے کچھ کارآمد حقیقتیں علم میں آئیں۔
شکریہ

وسیم بیگ نے لکھا ہے

عمدہ تحریر

ناعمہ عزیز نے لکھا ہے

شفقت لالہ اور وسیم لالہ حوصلہ افزائی کا شکریہ :)

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


Total Pageviews

Contributors

Followers