دلِ بے خبر ترے ہاتھ سے مرے سب قرار چلے گئے
وہ جو رنج و غم سے تھے آشنا ، وہی غم گسار چلے گئے

وہ جو چند ایک تھیں رونقیں، سبھی دم قدم سے انہی کے تھیں
مری زیست کے تھے جو رہنما ، مرے راز دار چلے گئے

مری زندگی میں تھے راہزن ، مری موت پر ہوئے نوحہ کن
مری ہر گھڑی کا جو ساتھ تھے ، وہی سوگوار چلے گئے

کسی جا تو دل کو سکون ہو ، سنبھل اے مرے دلِ ناتواں
وہ جو کوئے جان کا نور تھے ، کہیں چاند پار چلے گئے

یہی آرزو رہی عمر بھر کہ کبھی تو لوٹ کے آ سکیں
مجھے چھوڑ کر ، مجھے توڑ کر وہ جو بے شمار چلے گئے

از: ناعمہ عزیز

میری پہلی غزل جومیں نے آل پنجاب بین الکلیاتی مشاعرے میں پڑھنے کے لیے لکھی اور دوسرا انعام پایا ۔

Total Pageviews

Contributors

Followers