جب رستہ ہو دشوار بہت
اور منزل دور نظر آئے،
اس لمحے یاد آ جائے
اور بے حساب آ جائے
جب آنسو حد کو توڑ کر
آنکھوں سے باہر آتے ہوں
اور چپکے سے پھر کانوں میں
اک سرگوشی کر جاتے ہوں
تو بات سنو تم یوں کرنا
وہ لمحے یاد کر لینا
جو سنگ ہمارے گزرے تھے
وہ اپنے ساتھ کر لینا
یادوں کے سنگم ساتھ لئے
ہاتھوں میں پھر سے ہاتھ لئے
تم دور کہیں گر کھو جاؤ
اور ہنستے ہنستے سو جاؤ
پھر یادوں کے سب پھول لئے
جب لوٹ کے واپس آ جاؤ
تو دل سے التجا کرنا
وہ دوست جہاں بھی ہو یا رب
اسے غم سے دور صدا کرنا
ہاں جب بھی یاد آ جائے
بس اتنی سی دُعا کرنا۔۔
از ناعمہ عزیز
پیاری دوستوں فریحہ اور مقدس کے نام

1 comments:

عمار ابنِ ضیا نے لکھا ہے

واہ، بہت خوب۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


Total Pageviews

Contributors

Followers