نفس پرستی انسان کی فطرت ہے، اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس فطرت سے آزاد ہیں، اپنی مست دنیا میں مگن اس سے لو لگا کے اس دنیاوی سفر کے اختتام کا انتظار کر رہے ہیں، یہ زمین کسی بشر کے لئے ایسی ہی ہے، جیسے کسی مسافر کے لمبے سفر کی تھکن سے آرام لینے کو چند لمحے کسی پیڑ کے نیچے سستا لینا، جیسے فضاؤں میں سفر کرتے کسی جہاز کا چند گھنٹے بادلوں پر رینگنا، موت اور زندگی کے درمیان بس اتنا ہی فاصلہ ہے، مگر اس فاصلے میں نفس ہرستی حائل ہو گئ ہے، بندہ موت کی فکر ہی نہیں کرتا، وہ ایسا نفس کی بھوک مٹانے میں مصروف ہے کہ خود کو ہی بھول گیا، وہ کیا ہے کیوں ہے ! یہ کونسا سفر ہے جو وہ طے کر رہا ہے؟ اور اس کی منزل کیا ہے؟ یہ کونسا امتحان ہے جو وہ دے رہا ہے، اور نتیجہ کیا ہو گا؟ یہ کونسی آزمائش ہے جس سے وہ گزر رہا ہے ! اور کیا وہ اس میں سرخرو ہو پائے گا؟

یہ سوال تو زہن میں آتا ہی نہیں، ضمیر کو لوریاں دئیے رکھتا ہے، سو جا سو جا ! کہ کہیں جو ضمیر جاگ جائے گا تو نفس پرستی چھوڑنا پڑ جائے گی، کہیں جو عدالت لگ گئی تو جواب دینا پڑ جائے گا، کہیں جو ناکام ہوئے تو پچھتاؤں کی آگ میں جلنا پڑ جائے گا!

ہر بندے نے اپنا شیطان پال رکھا ہے، فرق یہ ہے کسی کا بہت بڑا ہے، کسی کا درمیانہ کسی کا ذرا چھوٹا، اور اسی شیطان کا نام ہے نفس!

یہ دراصل نفس کی خواہشات ہیں کہ جن کے پیچھے بھاگتا انسان اپنی ہڈیاں گلا دیتا ہے، لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا، ایک کے بعد ایک، پھر ایک کے بعد دو، دو کے بعد چار اور یوں ان گنت، بے انتہا خواہشات، نا ختم ہونے والی، مگر سانسوں کی ڈوری کا وقت مخصوص کر دیا گیا ہے، بندے کو پاپند کر دیا گیا ہے، حدود لاگو ہے، بندہ بشر ان کو پاٹ نہیں سکتا مگر پاٹنے کی کوشش کی میں گرتا ہے، اٹھتا ہے، اور پھر انہی راستوں پر چلنے لگتا ہے، یہ بات جانتے ہوئے کہ نفس پرستی کا سفر ختم نہیں ہو جائے گا، یہ تو لا محدود سفر ہے، یہ وہ سڑک ہے جس کا کوئی اختتام ہی نہیں، یہ وہ بازار ہے جہاں گلیاں ہی گلیاں ہیں،چھوٹی بڑی، یہ ناختم ہونے والا موسم ہے، یہ وہ پہاڑ ہے جو اونچے سے اونچا چلا جاتا ہے، مگر رکتا نہیں، ٹھہرتا نہیں، بس بندے کو رکنا پڑتا ہے، جب وہ بے بس ہو جاتا ہے، لاچار ہو جاتا ہے، جب نفس پرستی کے پیچھے بھاگتے وہ تھک جاتا ہے، اور جب اس کا وقت قریب آجاتا ہے، جب اسے اس فانی زندگی سے لافانی دنیا میں بھیجنے کا وقت اس کے سر پہ آن پہنچتا ہے تو شاید تب اس پر ادراک کے دورازے وا ہوتے ہیں کہ بندہ بشر کا پیٹ صرف مٹی سے بھر سکتا ہے ورنہ دنیا کی کوئی شے ایسی نہیں جو اس کی بھوک کو ختم کر سکے۔۔۔
جہیڑی عشق دی کھیڈ رچائی اے
اے میری سمجھ نا آئی اے
ویکھن نوں لگد ا سادا اے
اے عشق بڑا ای ڈھڈا اے
اے ڈھڈا عشق نچا دیوے
پیراں وچ چھالے پا دیوے
عرشاں دی سیر کر دیوے
اے رب دے نال ملا دیوے
چُپ رہ کے بندہ تَر جاندا
جے بولے سولی چڑھ جاندا
جہیڑا عشق سمندر ور جاندا
او جنیدا وسدا مر جاندا
ایس عشق توں کوئی وی بچیا نئیں
پر ہر اک وچ اے رچیا نئیں
ایس عشق سے کھیڈ نرالے نئیں
فقیراں ناں ایدے پالے نئیں
اے راتاں نوں جگا دیندا
اکھیاں وچ جھریاں لا دیندا
اے ہجر دی اگ وچ ساڑ دیندا
اے بندہ اندروں مار دیندا
ویکھن نوں لگدا سادا اے
پر عشق بڑا ای ڈھڈا اے۔۔

از : ناعمہ عزیز
جب رستہ ہو دشوار بہت
اور منزل دور نظر آئے،
اس لمحے یاد آ جائے
اور بے حساب آ جائے
جب آنسو حد کو توڑ کر
آنکھوں سے باہر آتے ہوں
اور چپکے سے پھر کانوں میں
اک سرگوشی کر جاتے ہوں
تو بات سنو تم یوں کرنا
وہ لمحے یاد کر لینا
جو سنگ ہمارے گزرے تھے
وہ اپنے ساتھ کر لینا
یادوں کے سنگم ساتھ لئے
ہاتھوں میں پھر سے ہاتھ لئے
تم دور کہیں گر کھو جاؤ
اور ہنستے ہنستے سو جاؤ
پھر یادوں کے سب پھول لئے
جب لوٹ کے واپس آ جاؤ
تو دل سے التجا کرنا
وہ دوست جہاں بھی ہو یا رب
اسے غم سے دور صدا کرنا
ہاں جب بھی یاد آ جائے
بس اتنی سی دُعا کرنا۔۔
از ناعمہ عزیز
پیاری دوستوں فریحہ اور مقدس کے نام
بھائی کے نام

یہ حقیقت ہے تو خواب کیوں نہیں ہو جاتی!

تیرے جانے کی سچائی سراب کیوں نہیں ہو جاتی !

کیوں ہوں میں اسقدر یقین و وہم میں مبتلا

یہ کہانی ہے تو مجھ پر وا کیوں نہیں ہو جاتی !

اکثر لگتا ہے یونہی ہنستے کھیلتے چلے آؤ گے تم

یہ امیدجھوٹی ہے تو راکھ کیوں نہیں ہو جاتی !

میں صبر و تحمل کی سب حدود و قیود میں ہوں

میرے ذہن و دل سے تمھاری یاد نہیں جاتی !!

میرے لبوں پہ التجا ہے دعا ہے تیرے واسطے

میری دعاؤں کی ہر راہ ہے تیری طرف جاتی ۔۔

از : ناعمہ عزی
ز
ہنستے چہرے ، باتوں میں دم
کھانا زیادہ ، پڑھائی کم
کہنا ہے تمھیں اتنا ہم دم
ڈھونڈو گے اگر کالج کالج
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
پریزنٹیشن کے وقت آوازیں مدھم
کانفڈنٹ لیول باعثِ شرم
اُٹھا کے سر فخر سے یہ کہتے ہیں ہم
ڈھونڈو گے اگر کالج کالج
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
بھگتی ہے ڈھیرو ڈانٹ ڈپٹ
پر آیا نہیں گردن میں خم
کہنا ہے تمھیں اتنا ہم دم
ڈھونڈو گے اگر کالج کالج
ملنےکے نہیں نایاب ہیں ہم
مجبوری تو ہے پر حقیقت ہے یہ
کالج چھوڑنے کا ہے ہم سب کو غم
کوئی مانے نا مانے مگر سچ ہے یہ
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہیں ہم ۔۔۔
از ۔۔۔ ناعمہ عزیز
آج کل تازہ ترین موضوع سیاست ہے ، ہر وہ میرے جیسا بندہ جسے نا سیاست میں دلچسبی ہے اور نا ہی اس کے بارے میں معلومات ہے سیاست پر بحث کرتا نظر آرہا ہے ، میں تو ویسے ہی اس موضوع سے بچتی ہوں ، الیکشن سے پہلے ہر بندے کی رائے کی ساری پارٹیوں کے بابت اپنی اپنی رائے تھی ہر کوئی دلائل دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ فلاں کو ووٹ دینا چاہئے ، بھئی سچی بات تو یہ ہے کہ میری زندگی کا پہلا ووٹ تھا جو میں نے کل دیا ، بلال بھائی نے کہا تھا ووٹ پی ٹی آئی کو دینا ہے ہمارے گھر سے چھ ووٹ پی ٹی آئی کو گئے ، مقصد یہ تھا کہ کچھ تبدیل ہو ہم سب تبدیلی چاہتے ہیں ، ہم ملک کے حالات کی بہتری ہم اپنی اور قوم کی بہتری چاہتے ہیں ، ہم وہ قیادت چاہتے ہیں جو پاکستان کو ترقی پذیر سے ترقی یافتہ بنائے ۔
الیکشن سے پہلے یہ حال ہے تھا کہ لوگ سیاستدانوں پر کیچڑ اچھالنے پر لگے تھے ، زرداری انکل کی تو جو مٹی پلید کرنی تھی وہ کی ساتھ ہی ساتھ عمران خان اور نواز شریف اور شہباز شریف پر تنقید کا سلسلہ کثرت سے جاری تھا ، ہمارے پاکستانیوں کا اور کوئی مسئلہ نہیں یہ تنقید اتنی پابندی سے کرتے ہیں جتنی پابندی سے ان کو عبادت کرنی چاہیے ،
لو جی الیکشن ہو گئے سیاپا مکا، ن لیگ فتح قرار پائی ، مجھے کوئی افسوس نہیں ، تحریک انصاف کو جتنی سیٹیں ملیں بڑی ہیں ،
اب آتے ہیں اصل مسئلے کی طرف، جو یہ ہے کہ اب ہر ہر ن لیگ کا ووٹر اور ن لیگ کا نعرہ لگانے والا پی ٹی آئی کے ووٹرز کو جھنڈی دکھا رہا ہے ، او اللہ دے بندیو ! تانو ملک نال غرض اے کہ پارٹی نال ؟؟؟ پارٹی سب کی ایک نا ہو گی ملک تو ایک ہی ہے کہ نہیں ؟
ابھی تھوڑی دیر پہلے مجھ سے کسی نے پوچھا جی کہ کہاں ہے آپ کا بلا ؟؟ نظر نہیں آ رہا ، اور اردو محفل پر آ کے دیکھا تو میں تو حیران ہو گئی ، فتح جس کو بھی ملی بجائے دوسروں پر تنقید کرنے اور پارٹی کی اچھائیاں بیان کرنے کے اللہ سے دعا کرو کہ وطن عزیز کی تقدیر جن ہاتھوں میں گئی اللہ ان کو مضبوط بنائے ، اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں ان کی مدد فرمائے ۔ اور ان کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے ۔ آمین
پین سیلویا دے کرتوت پُل نا پاواں گے
رچرڈ ویلبر نوں تے اسی پُھل چڑواں گے
ایشبیری دیاں نظماں اُتے طمالاں پاونیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں

ایڈرینن ریچ دا فیمینیزم پار لایا سی
کروسی بل دا جادو وی کر کے دکھایا سی
کیویں کیویں پڑھ کے اساں نیپڑے توڑیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں

ایڈورڈ سید دی سچی گل اے سمجھ نہ آئی سی
بیکن رسل نوں تے اسی سلامی پائی سی
پاہ سوفٹ نوں پڑھ کے ساریاں اے ہی بولیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں

ملٹن نوں پڑھان لئی ساڈی مس نا منی سی
سرے وائٹ دیاں نظماں دی وی لت پنی سی
ڈن نوں پڑھ کے کنیاں سانوں شرماں آونیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں

سفوکل نے کنگ کوئین دے نال ملایا سی
فاوسٹس نے جہنم دا نظارہ کرایا سی
اوسکر وائلڈ پڑھ کے ہس ہس کھلیاں پاونیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں ۔



بہار آئی
تو جیسے یک بار لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے
وہ خواب سارے
شباب شارے
ایگری کلچر یونیورسٹی فیصل آباد میں ہر سال جشن بہاراں کے سلسلے میں ایک میلے کا اہتمام کیا جاتا ہے ، جس میں اندرون و بیرون ملک سے لوگ شرکت کرتے ہیں ، دنیا بھر کے پھولوں اور جانوروں کی نمائش ہوتی ہے ۔ اور جب بہار آتی ہے تو ہر جگہ ہی نظر آنے لگتی ہے ، ٹھنڈی ہواؤں میں پھولوں کی خوشبو کا امتزاج، درختوں، بیلوں ، ٹہنیوں پر لدے پھول، ہرطرف قدرتی حسن چھا جاتا ہے ۔ زندگی لوٹ آتی ہے ، کالج جاتے ہوئے ، کنال روڈ نہر کے کنارے لگے قطار در قطار سفیدے کے درخت نہر کی خوبصورتی میں اصافہ کرتے آنکھوں کو بہت بھلے لگتے ہیں، اور کنال روڈ سے اتر کے دونوں سڑکوں کے درمیان گارڈن میں طرح طرح کے پھول، پھلوں کے درخت چھو لینے اور گھاس پر ننگے پاؤں چلنے کی خواہش بڑھنے لگتی ہے ، ہاں مگر سڑک کے اس پار بیٹھے اس بوڑھے شخص پر مجھے کسی موسم کا کوئی اثر نہیں لگتا ، سردی ، گرمی، بہار ، خزاں میں اس بوڑھے شخص کو وہاں ہی بیٹھے دیکھا ہے ، گنتی کے چند ایک کپڑے ، کبھی کبھی چائے کا ایک کپ تھامے ، چپ چاپ بیٹھے اس شخص کو دیکھ کر خزاں کا گمان گزرتا ہے ، دل کرتا ہے ان کے پاس جاؤں اور پوچھوں
بابا جی تسی ایتھے ای کیوں بیٹھے رہندے او ؟
بابا جی روٹی دا انتظام کتھوں کر دے او ؟
بابا جی تواڈی اولاد کوئی نہیں ِ؟

غرض کئی سوال ذہن میں لئے میں روز وہاں سے گزر جاتی ہوں ، مگر خزاں کا گمان صرف ان باباجی کو دیکھ کر ہی نہیں ہوتا، یہاں ہر شخص خزاں رسیدہ ہے ، اپنے اندر خزاں کا موسم چھپائے ہوئے ہے ، ایسا ہی نہیں بہار، گرمی سردی بھی انسانوں کے اندر چھپی ہے مگر خزاں کا موسم مستقل ہے بالکل بابا جی کے مستقل چپ کی طرح !
جو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھے
نکھر گئے ہیں گلاب سارے
یادوں کے موسم کو خزاں سے بھی تشبہیہ دی جاتی ہے ، اور شاید ہر کسی کے اندر یاد کا موسم ایسے ہی ہے جیسے کسی بوڑھے درخت کی جڑ، کہیں بہت اندر تلک ، بہت گہری !

جو تیری یادوں سے مشک بو ہیں
جو تیری عشاق کا لہوں ہیں
ابل پڑے ہیں عذاب سارے
کہنا صرف اتنا ہی ہے کہ موسم گرمی ہو یا سردی ، خزاں رہے یا بہار ، جب اندر کے موسم اچھے ہوں ، سکون اور اطمینان کے وسعتوں کو چھوتے ہوں تو خزاں بھی بہار لگنے لگتی ہے ، جون کی سخت دھوپ میں بھی ٹھنڈک اندر اتر جاتی ہے ۔ اور جب اندر بے سکونی کے گھٹاٹوپ اندھیرے لئے ، یادوں کے طوفان اپنی بپھرتی موجوں کے ساتھ آنکھوں میں اتر آتے ہوں تو مقابل بہار ہو ، قدرتی حسن کی بھرمارہو یا سرما کی پہلی بارش وہ طوفان آ کر ہی رہتا ہے ۔
ملال احوال دوستاں بھی
خمار آغوش مہوشاں بھی
غبار خاطر کے باب سارے
بہار آئی تو کھل گئے ہیں
نئے سرے سے حساب سارے۔



مرے طزر و فکر کا نقش گر
مرِی عقل و فہم سے بالاتر
کہ میں جان لوں تیرا راستہ
مِرا قلب تو ہے تیرا ہی گھر
مرِی آنکھ میں تیرا عکس ہو
مجھے خود میں اتنا فنا توُ کر
میں چھپی ہوں خود میں ہی کسقدر
مجھے کھول دےمیری ذات پر
مجھے آگہی کی دے روشنی
دے میرے جنون کو ر ہگزر
مرِی زندگی کا ہر اک سفر
ترِی راہ میں ہو گزر بسر
از: ناعمہ عزیز
میری شاعری کو پڑھ کے
میری دوستیں پوچھتی ہیں
سنو گڑیا
کہیں تمھارے لفظوں میں
خوشی کے رنگ ملتے ہیں
کہیں تمھارے جذبوں میں
غموں کے تاثر دکھتے ہیں
کہیں تم روتی ہوں
شدتِ غم کے حوالوں سے
کہیں چپ سی نظر آتی ہو
گہرے خیالوں میں
مگر جب تم
ہمارے ساتھ ہوتی ہو
تو تمھاری آنکھوں میں دُکھ کا
کوئی سایہ نہیں دِکھتا
تمھاری مسکراہٹ
زندگی سے بھرپور ہوتی ہے
کہ تم گنگناتی ہوں
تم سب مدہوش ہوتے ہیں ،
ہمیں اک بتلاؤ
تمھارا کونسا ہے روپ ؟
جسے اصلی سمجھ لیں ہم ؟
تو دھیرے سے میں کہتی ہوں
بہت سادہ سے لفظوں میں
مجھے یہ بات کہنی ہے
کہ میرے لفظ میری شاعری ہے ترجمہ میرا
کہ میں خود ہی نہیں ہوں جانتی اپنا کوئی پتا
ہاں پر اتنی حقیقت ہے
کسی اپنے کے ہجر نے
بہت ہی توڑ ڈالا ہے
وجہ بس اتنی سی ہے کہ
میرے لفظوں کی سب راہیں
اسی منزل کو جاتی ہیں
تو سب محسوس کرتے ہیں
طوفان غم کی شدت کو
میرے سب لفظ سب کو ٹوٹے پھوٹے بکھرے سے لگتے ہیں
میرے جذبے سبھی کو روکھے سوکھے گہرے لگتے ہیں
مگر
خود کو چھپا کر مسکراہٹ کے پردے تلے
میں مسکراتی، کھکھلاتی ، چہچہاتی ہوں
کہ میں یہ جانتی ہوں
زندگی کی قوس قزح کے رنگ ہیں یہ سب
بنا ان کے ادھوری ہوں
اور ان کے سنگ پوری ہوں !

از: ناعمہ عزیز
اسے کہو
تیری آنکھیں
سمندر سے بھی گہری ہیں
بہت شفاف سی آنکھیں
یہ ہنستی کھیلتی آنکھیں
اسے کہو
کہ اتنے مہنگے خواب مت دیکھے
مجھے وہ ہنستی کھیلتی ہی اچھی لگتی ہے
اسے کہو
کہ خوابوں کو سجانے میں
اک عرصہ بیت جاتا ہے
مگر پھر ٹوٹ جانے میں
ذرا سی دیر لگتی ہے۔۔

از ناعمہ عزیز
محبتوں کے وہ باب سارے
وہ چاہتوں کے گلاب سارے
سنبھال رکھنا ،
خیال رکھنا
وفا میں ساری عنایتوں کا
وہ ٹوٹے دل کی شکایتوں کا
حساب رکھنا ،
خیال رکھنا
گلاب رت کے وہ سارے قصے
کبھی کسی کو سنانا چاہو
تو لفظوں کو بے مثال رکھنا
خیال رکھنا
کبھی جو ہم تم کو یاد آئیں
تو ہم سے تعلق بحال رکھنا ،
یہ دوستی لازوال رکھنا
خیال رکھنا ۔

از ناعمہ عزیز


2012 کا سورج غروب ہو گیا !
ہاہ !!!!
ہر سال یونہی تو ہوتا ہے۔بڑی تیزی سے وقت چلتا ہی جا رہا ہے۔ زندگی گزر رہی ہے اور گزرتی ہی جارہی ہے۔ 2012 ہی نہیں ہر سال ہی آتا ہے اور آ کر چلا جاتا ہے۔ کتاب حیات میں کئی باب کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ کئی ٍ صفحات کالے ہوچلے ہیں ۔ کہیں تلخ اسباق کی تلخی ہے اور کہیں شریں لفظوں کی مٹھاس ہے۔
دنیا میں آئے اتنا عرصہ ہو چلا ہے ۔ ایک نظر پیچھے کی طرف دیکھا تو خیال ہے کہ زندگی کیا ہے !
تو محسوس ہوا کہ زندگی ریل گاڑی کی طرح ہے آہستہ آہستہ سب ہی اپنی زندگی کی گاڑیوں کو لے رواں دواں ہیں ۔ کہیں رُک جاتی ہے ۔ کہیں چلنے لگتی ہے ۔ لوگ اس میں سوار ہوتے ہیں اور اپنے مطلوبہ اسٹیشن پر اتر جاتے ہیں ۔ جذبات میں ہلچل ہونے لگتی ہے ۔ خون جوش مارتا ہے لیکن یہ وقت بڑا ظالم ہے ۔ ہر زخم کو بھرتا ہی چلا جاتا ہے !
زندگی ایک کتاب کی طرح ہے ! لفظ بکھرے پڑے ہیں ! فہرست کی ترتیب ہو چکی ہے مگر آنکھوں سے اوجھل ہے ۔ ابواب میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، کتاب کے صفحات تیزی سے بڑھنے لگتے ہیں ۔ محبتوں سے دور کا آغاز ہوتا ہے نفرتوں سے آشنائی ہوتی ہے ۔ جنون ہوتا ہے تو ہم وہ سب کرتے ہی چلے جاتے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں ! پھر موجوں کے اضطراب کو سکون میسر آتا ہے ۔ پچھلے صفحات پر نظر ڈالتے ہیں تو ڈھیر ساری غلطیوں کا پچھتاوا ڈسنے لگتا ہے ۔تجربات کی دنیا وسیع ہو جاتی ہے مگر وقت ختم ہو چکا ہوتا ہے ۔
زندگی یہی ہے شاید !!

ہر دن کا سورج چڑھتا ہے غروب ہوتا ہے ۔ دن پورے ہو جاتے ہیں ۔ سال گزر جاتا ہے ۔ اور پھر دن پورے ہوتے ہیں تو زندگی ختم ہو چکی ہوتی ہے ۔
ہر سال نیا سال آنے کی بڑی خوشی ہوتی تھی ! اس بار نہیں ہوئی ۔ پتا نہیں کیوں ۔ جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو ہم مکمل ہی بے سکون ہو جاتے ہیں۔ بڑے عرصے سے زندگی بے سکون ہے ۔ حالات میں ڈھالنے کا سلیقہ نہیں آرہا ! خون کی گردش تیز ہو جاتی ہے ۔ اذیت بڑھ جاتی ہے ، زندگی سے وحشت ہونے لگتی ہے اور موت سے خوف آتا ہے ۔ پر پھر بھی ہم زندہ ہے پتا ہے کیوں ؟ کیوں کہ ہمیں اپنے حصے کا جینا ہی ہے ۔ غم کا برتنا نہیں آیا تو بھی ! زندگی نہیں گزر رہی یہ ہمیں لگتا ہے مگر زندگی کی گاڑی اب بھی رواں ہے اور رہے گی۔ جینا بھی آہی جائے گا، شاید کچھ اور وقت لگ جائے۔
ہر سال کی طرح اس بار بھی ڈھیروں دعائیں میرے پیاروں کے لیے میرے اپنوں کے لئے ، خدا ان کو سدا سلامت خوش و مطمئن رکھے اور سب کے لئے آسانیاں عطا فرمائے آمین

Total Pageviews

Contributors

Followers