وہ نسلی کتا تھا ، بس چند ہی دن کا کہ اسے اس کی ماں سے الگ کر دیا گیا ،اس کی نسل کون سی تھی یہ مجھے یاد نہیں ، مگر یہ یاد ہے کہ امی کے کزن کے کے پاس بڑے عرصے سے اس نسل کا کتا اور کتیا موجود تھے۔ ماموں جان کی فرمائش تھی کہ انہیں کتا چاہئے ۔ زمینوں کے کام کے سلسلے میں اکثر وہ راتوں کو جایا کرتے تھے اور بسا اوقات تو ان کا بسیرا بھی رات کو ووہیں ہوتا تھا ، کتوں کا شوق انہیں جوانی سے ہی تھا۔ بہت عرصہ تک ان کے پاس جرمن شیفرڈ رہا جو کہ ان کے ایک قریبی دوست کے انہیں گفٹ کیا تھا۔بڑا وفادار کتا تھا ، ماموں نے اس کا نام موتی رکھا تھا۔مالک کے منہ میں نوالا جانے سے پہلے اپنے کھانے کی طرف دیکھتا بھی نہیں تھا۔ اور ماموں جان کو کوئی کچھ کہہ جائے یہ بھی اس سے برداشت نہیں ہوتا تھا فورا سے پہلے وہ اس بندے کی ٹانگیں پکڑ لیا کرتا تھا۔ کرکٹ کا شوقین تھا مگر کرکٹ میں اسے وکٹ کیپر بننا ہی پسند تھا ۔ ایک دفعہ بیمار ہوا اور چپ چاپ حویلی کے کونے میں پڑ کے مر گیا ، اس کی موت کے بعد بہت عرصہ تک ماموں جان نے کوئی کتا نہیں پالا۔
اور اب یہ جو انہوں نے کزن سے منگوایا تھا ۔ بڑا دل پھینک تھا سب کے پاوں میں لوٹنے لگتا ، دنوں میں ہی بڑا ہو گیا تھا، یا شاید عرصے بعد ماموں جان نے کتا پالا تھا تو اس کا خوب خیال رکھا دن رات کھلایا پلایا دیکھتے ہی دیکھتے ایک دم ہٹا کٹا جوان ہو گیا۔
ہوا کچھ یوں کہ بہت دنوں سے ایک باؤلا کتا ماموں جان کی زمینوں پر بندھے جانوروں کے اردو گرد بولایا بولایا پھر رہا تھا ، کبھی کبھار قریب بھی آ جاتا تو ہمارا کتا اس پر بھونکنے لگتا ۔ ایک دن وہ جانوروں پر چڑھ دوڑھا اور ایک گائے اور بھینس کے بچے کو کاٹ لیا۔ اور ہمارے کتے سے اس کی مدبھیڑ ہوگئی۔ اچانک ماموں جان آئے اور اس مار بھگایا ۔
وہ نہیں جانتے تھے کتا جانوروں کو کاٹ کر گیا ہے۔ایک لاپرواہی انہوں نے یہ کی کہ کتے کی ویکسینیشن نہیں کروائی۔ چند دن گزرے کہ جانوروں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔ اور ہمارے کتے نے اپنی سی کرتے چند دن وفاداری نبھانے کی پوری کوشش کی مگر جب اس کے اختیار سے باہر ہوا تو اس نے میرے ماموں کو اور انکے بیٹے کو دانت لگا دئیے ۔اور انہیں ویکسینیشن کروانی پڑی۔ گھر والوں کو تشویش ہو ئی ، جانوروں کو بھی ٹیکے وغیرہ لگے مگر دیر ہو چکی تھی ۔جانور بیچنے پڑے نتیجتا نقصان ہوا۔
اب اس کتے کو کچھ کہنے کو دل نا کرے۔ وہ گھر سے چلا گیا ۔ گاؤں میں کبھی یہاں کبھی وہاں بولایا بولایا پھرتا رہا کہ ایک دو جگہ اور لوگوں کے جانوروں کا نقصان ہوا۔ بہرحال ایک دن ممانی کے اصرار پر ماموں جان نے بندوق اٹھائی اور نکل پڑے اسے ڈھونڈنے۔ وہ کہیں کوڑے کے ڈھیر کے پاس ملا ، دو گولیاں کھا کے ڈھیر ہو گیا ۔
اس بات کو چار پانچ سال ہو چکے ، مگر آج یونہی بیٹھے بیٹھے میں انسانی خواہشات کے بارے میں سوچ رہی تھی تو مجھے وہ بہت یاد آیا ۔ ہماری بہت سی خواہشات بھی تو کسی باؤلے کتے کی طرح ہی ہوتی ہیں، اور ان خواہشات کے پیچھے بھاگتے ہم اپنے پرائے کا فرق بھول جاتے ہیں ، باؤلے ہو کر کاٹنا شروع کر دیتے ہیں ۔
غلط اور صحیح کا فرق ختم کر دیتے ہیں ، بس ہر وقت بولائے بولائے پھرتے ہیں ، نا ہمیں سکون آتا ہے نا ان لوگوں کو جن کا ہم نقصان کر رہے ہیں ۔ اور ایسے خواہشات کا انجام یقننا ماموں جان کے باؤلے کتے کی طرح ہوتا ہے ۔ یا تو جان جاتی ہے یا پھر خسارے کے سوا ہاتھ کچھ نہیں آتا۔
یا شاید باؤلا ہونا ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا، ہم بھی اپنی ممکنہ کوشش کر کے نبھاتے ہیں مگر جہاں خواہشات کا گھیرا تنگ پڑتا ہے تو اپنی جان بچانے کے لئے دوسروں کو کاٹنے لگتے ہیں۔۔۔۔۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


Total Pageviews

Contributors

Followers