یہی کوئی ایک مہینہ پہلے کی بات ہے میرے گھر کے باہر لگے درخت کے پتے پیلے ہو ہو کر گر رہے تھے ، میں نے یونہی ڈرائنگ روم میں کھڑے کھڑے اس کی ایک تصویر بنا لی ، پھر میں نے غور کیا کہ میرے لاؤنج میں پڑے ان ڈورپلانٹس کے پتے بھی جھڑنا شروع ہو گئے۔ میں روز پتے اکھٹے کرتی ، گملوں کو صاف رکھتی ، انہیں پانی دیتی ۔ دل ہی دل میں پریشان بھی ہوئی مجھے لگا شاید سردی کی وجہ سے ہم لوگ ہیٹر آن رکھتے ہیں اس لئے پودے خراب ہو رہے ہیں ۔ اس سے پہلے یہ واقعہ ہو چکا تھا کہ مجھے بھائی کی شادی کے سلسلے میں فیصل آباد جانا پڑا تو واپسی پر میرے گیندے کے پھول عدم توجہی کے سبب اپنی آخری سانسیں پوری کر چکے تھے ، انہیں دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا ۔ پھر گلاب کے پودے کے پتے بھی جھڑنے لگے مجھے فکر ہونے لگے کہ میاں صاحب سے ڈانٹ نا پڑ جائے کیونکہ پودے لانے کا شوق مجھے ہی تھا۔ مگر اپنے مطابق میں انکا پورا خیال رکھ رہی تھی ۔اور چونکہ بحریہ ٹاؤن میں تو جگہ جگہ پھول پودوں کی بھرمار تھی تو ڈر اور بھی پکا ہوتا گیا کہ باہر تو گلاب کے پودے سلامت ہیں بلکہ ان پر پھول نے اپنا قبصہ جما کے رکھا ہے تو پھر یہ میرے ساتھ ہی کیوں ہو رہا ہے ۔
پھر چند دن گزرے کہ ان ڈور پلانٹس کے چھوٹے چھوٹے پتے نکلنے لگے میرے دل کو ذرا سا قرار آیا ،اور یونہی ایک دن صبح سویرے میں ٹیرس پر گئی تو گلاب کا ا یک پھول مسکرا رہا تھا ، پتا نہیں وہ مسکرا رہا تھا کہ میں خود ۔ بہرحال اسے دیکھ کر بہت خوشی ہو ئی کیونکہ میں پھولوں کی بہت دیوانی ہوں ۔
زندگی کسی کو بھی ملے شاید ایسے ہی خوشی ہوتی ہے ، یا پھر خوشی کا دوسرا نام زندگی ہے۔ میرے گھر کے باہر لگے درخت پر آج بھی کوئی پتا نہیں ایسا لگتا ہے وہ بوڑھا ہو گیا ہے ، مگر یہ پھول پودے بھی کیا چیز ہیں ، موسم ان پر اثر انداز ہو تے ہیں ، بالکل انسانوں کی طرح جب ان کی ٹہنوں پر پھولوں ، پھلوں ، اور پتوں کی بہار رہتی ہیں ، یہ انتہائی خوبصورت لگتے ہیں ، انہیں دیکھنے کو دل کرتا ہے، اور جیسے ہی ان پر خزاں آتی ہے کتنے اکیلے ہو جاتے ہیں ،خراں کا دکھ انہیں بوڑھا سا کر دیتا ہے ، پھر بہار اپنے بادل برسانے لگتی ہے ، بس یہی سلسلہ چلتا رہتا ہے،
مجھے خراں زدہ درخت دیکھ کر بوڑھے لوگ بڑی شدت سے یاد آتے ہیں ، اپنی ذمہ داریاں پوری کر کے ، اپنے فرائض ادا کرنے کے بعد جب وہ اولاد کے سہارے زندگی گزارتے ہیں ،بڑے کم خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ کہ جن کو بڑھاپے میں اولاد کے سہار ے کے ساتھ ان کا ساتھ بھی میسر ہوتا ہے ،
ورنہ بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو گوشہ نشینی اختیار کر لیتے اور یاد خدا میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کے فرائض ڈھلتی عمر میں بھی ختم نہیں ہو پاتے ، میں نے سڑکوں پر کام کی تلاش میں بیٹھے مزدوروں کو دیکھا ہے ، سبزی منڈیوں میں جھکی کمر کے پر ڈھیرو ں وزن اٹھائے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف ہوتے ہیں۔
اور کچھ بیچارے معذور ہو جاتے ہیں دوسروں کے سہاروں پر زندہ رہتے ہیں ، جس میں انہیں بھی تکلیف ہوتی ہیں اور سہارا بننے والوں کو بھی ۔ کیونکہ ہر انسان اپنی برداشت تک ہی مشکل وقت میں ساتھ دیتا ہے ۔
کبھی کبھار میں سوچتی ہوں کہ زندگی پر خزاں آتی ہی کیوں ہے ، بہار ہی کیوں نہیں رہتی ہمیشہ۔
میرے گھر کے باہر لگا درخت دیکھ کر مجھے اپنی نانی اماں بہت یاد آتی ہیں، اب تو بہت کمزرو ہو گئی ہیں ، مگر ایک زمانہ تھا کہ ان پر بہار بہت مہربان تھی ، جتنا ایکٹیو میں نے اپنی نانی اماں اور امی کو دیکھا شاید ہی کسی کو دیکھا ہو ۔ گھر کے کام کاج کے ساتھ ساتھ زمینوں کے کام کاج میں بھی نانا جان کا ہاتھ بٹایا کرتیں تھی ، جانوروں کی دیکھ بھال ، زمینوں کے لیے بیج کا بندوبست، سردیوں میں اوون کا کام ، گھر کی رضائیاں ، چارپائیاں بنانا، نانی اماں کے گھر میں ہمیشہ مرغیاں ہوتی تھیں ، انڈے کبھی ختم نہیں ہوتے ، گھر میں پکنے والی سبزی زمینوں پر لگی ہوتی تھی ، اور اس کا خیال رکھنا نانی جان کی ذمہ داری تھی ، گھر میں بھی انہوں نے لہسن ، پیاز، اور سبز مرچیں وغیرہ لگائی ہوتیں تھی کہ انہیں کسی دکان پر نا جانا پڑے ۔ غرض میں نے اپنے بچپن میں اپنی نانی اماں کو گھر کے ہی نہیں ہمسائیوں کے ساتھ کام میں بھی مصروف دیکھا۔ اور آج جب وہ خود اٹھ کر چل نہیں سکتیں تو دیکھ کر دل کو ہمیشہ دکھ سا ہوتا ہے۔ہم اپنے پیاروں کو ہمیشہ صحت مند و تندرست دیکھنا چاہتے ہیں مگر کاش یہ ہمارے اختیار میں ہوتا۔۔۔۔۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


Total Pageviews

Contributors

Followers