2012 کا سورج غروب ہو گیا !
ہاہ !!!!
ہر سال یونہی تو ہوتا ہے۔بڑی تیزی سے وقت چلتا ہی جا رہا ہے۔ زندگی گزر رہی ہے اور گزرتی ہی جارہی ہے۔ 2012 ہی نہیں ہر سال ہی آتا ہے اور آ کر چلا جاتا ہے۔ کتاب حیات میں کئی باب کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ کئی ٍ صفحات کالے ہوچلے ہیں ۔ کہیں تلخ اسباق کی تلخی ہے اور کہیں شریں لفظوں کی مٹھاس ہے۔
دنیا میں آئے اتنا عرصہ ہو چلا ہے ۔ ایک نظر پیچھے کی طرف دیکھا تو خیال ہے کہ زندگی کیا ہے !
تو محسوس ہوا کہ زندگی ریل گاڑی کی طرح ہے آہستہ آہستہ سب ہی اپنی زندگی کی گاڑیوں کو لے رواں دواں ہیں ۔ کہیں رُک جاتی ہے ۔ کہیں چلنے لگتی ہے ۔ لوگ اس میں سوار ہوتے ہیں اور اپنے مطلوبہ اسٹیشن پر اتر جاتے ہیں ۔ جذبات میں ہلچل ہونے لگتی ہے ۔ خون جوش مارتا ہے لیکن یہ وقت بڑا ظالم ہے ۔ ہر زخم کو بھرتا ہی چلا جاتا ہے !
زندگی ایک کتاب کی طرح ہے ! لفظ بکھرے پڑے ہیں ! فہرست کی ترتیب ہو چکی ہے مگر آنکھوں سے اوجھل ہے ۔ ابواب میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، کتاب کے صفحات تیزی سے بڑھنے لگتے ہیں ۔ محبتوں سے دور کا آغاز ہوتا ہے نفرتوں سے آشنائی ہوتی ہے ۔ جنون ہوتا ہے تو ہم وہ سب کرتے ہی چلے جاتے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں ! پھر موجوں کے اضطراب کو سکون میسر آتا ہے ۔ پچھلے صفحات پر نظر ڈالتے ہیں تو ڈھیر ساری غلطیوں کا پچھتاوا ڈسنے لگتا ہے ۔تجربات کی دنیا وسیع ہو جاتی ہے مگر وقت ختم ہو چکا ہوتا ہے ۔
زندگی یہی ہے شاید !!

ہر دن کا سورج چڑھتا ہے غروب ہوتا ہے ۔ دن پورے ہو جاتے ہیں ۔ سال گزر جاتا ہے ۔ اور پھر دن پورے ہوتے ہیں تو زندگی ختم ہو چکی ہوتی ہے ۔
ہر سال نیا سال آنے کی بڑی خوشی ہوتی تھی ! اس بار نہیں ہوئی ۔ پتا نہیں کیوں ۔ جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو ہم مکمل ہی بے سکون ہو جاتے ہیں۔ بڑے عرصے سے زندگی بے سکون ہے ۔ حالات میں ڈھالنے کا سلیقہ نہیں آرہا ! خون کی گردش تیز ہو جاتی ہے ۔ اذیت بڑھ جاتی ہے ، زندگی سے وحشت ہونے لگتی ہے اور موت سے خوف آتا ہے ۔ پر پھر بھی ہم زندہ ہے پتا ہے کیوں ؟ کیوں کہ ہمیں اپنے حصے کا جینا ہی ہے ۔ غم کا برتنا نہیں آیا تو بھی ! زندگی نہیں گزر رہی یہ ہمیں لگتا ہے مگر زندگی کی گاڑی اب بھی رواں ہے اور رہے گی۔ جینا بھی آہی جائے گا، شاید کچھ اور وقت لگ جائے۔
ہر سال کی طرح اس بار بھی ڈھیروں دعائیں میرے پیاروں کے لیے میرے اپنوں کے لئے ، خدا ان کو سدا سلامت خوش و مطمئن رکھے اور سب کے لئے آسانیاں عطا فرمائے آمین

فضاؤں میں ابھی تک احساس ہے دُکھ کا
اندر کہیں کچھ خالی سا ہوا ہے
بہت دنوں سے
کچھ ڈھونڈ رہی ہیں نگاہیں
اک وہ جو اب پاس نہیں رہا ہے
ہاں وہ دور جا بسا ہے کہیں
بنا کے اسکے کچھ سوجھ نہیں رہا ہے
کرب و اذیت نے توڑ دیا ہے اندر تلک
ہاں اب سمجھ آیا
زندگی کیا بلا ہے !
ہم زندہ ہیں یہ حقیقت ہے
لیکن
ہم بھی مر گئے تھے اسی روز
یقین جانو
جس دن سے وہ روٹھ کر گیا ہے
ہاں مگر سانس جاری ہے ابھی تک
کیونکہ
زندگی نے اک نیا جنم لیا ہے ۔
مرحوم بھائی باقر عزیز کے نام اس کے جانے کا اس درد کو بیان کرنے کی کوشش جو اس کے جانے کے بعد اندر کہیں بہت کچھ توڑ پھوڑ رہا ہے ۔
بظاہر ایک چھوٹا سا لفظ ہے
"یاد"
مگر نہیں یہ چھوٹا سہی ! اس نے اپنے اندر ایک دنیا آباد کر رکھی ۔ دنیا ! خوشی کی دنیا ! غم کی دنیا ! مسکراہٹ اور آنسوؤں کی دنیا ، قہقوں اور آہ زاریوں کی دنیا ! یہ لفظ خوشی کے شادیانوں کے لمحات بھی بھی یہ اپنے اندر رکھتا ہے اور اذیت و کرب کا وقت بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے !
یہ لفظ دیکھنے میں پڑھنے میں لکھنے میں بالکل بڑا نہیں ہے ، لیکن جب اسے محسوس کیا جائےتو یہ جذبات کی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دینے کی طاقت اپنے اندر رکھتا ہے ! یہ آنکھوں کووضو کرانے کی قوت رکھتا ہے ! یہ ہونٹوں پر ہنسی بکھیر دیتا ہے ! یہ لمحے میں تنہا کر دیتا ہے اور پل میں ہمارے اردگرد بھیڑ لگا دیتا ہے ۔
ہم گزرے لمحوں کو یاد کرتے ہیں، روتے ہیں ہنستے ہیں ، وہ سب اذیت اور کرب کے لمحے جو ہمارے آنکھوں میں مجسم ہو جاتے ہیں جو ہمارے دل کے زمین پر نقش ہو جاتے ہیں، آنکھیں بند کر کے جب ان لمحوں کو یاد کیا جاتا ہے تو آنکھیں ہمارے اختیار میں نہیں رہتی ! خون کی گردش تیز ہو جاتی ہے ، دل بند ہونے کا امکان لگتا ہے ، دماغ سائیں سائیں کرنے لگتا ہے ، غرض یوں لگتا ہے وقت تھم گیا ، زندگی رک گئی ، ہم ایک بار پھر سے اسی گھڑی میں پہنچ جاتے ہیں ، وحشت عود آتی ہے ! مایوسی چھانے لگتی ہے ! اور پھر جب ہم وہ سب دہرا کر اپنی زندگی کی حقیقتوں میں واپس آتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یادیں ہمیں کھنچ کر کہاں لے گئیں تھیں ۔
اور یہی یاد جب ہمیں خوشی کے شادیانوں میں لئے جاتی ہیں ، زندگی کے لمحے حسین ہو جاتے ہے ، دل جینے پر آمادہ ہو جاتا ہے ، جذبات احساسات میں ہلچل مچ جاتی ہے ، لیکن یہ ہلچل ہمیں خوشی اور فرحت کا احساس مہیا کر دیتی ہے ، بے اختیار لبوں پر مسکراہٹ رقص کرنے لگتی ہے ۔ مایوسی کے بادل چھٹنے لگتے ہیں ،وقت تیزی سے گزرنے لگتا ہے ، اور کتنی ہی دیر تک یہ احساسات ہم پر حاوی رہتے ہیں ، ہمیں سکون پہنچاتے اور آسودگی مہیا کرتے ہیں ۔
یادیں سرمایہ بھی ہوتی ہیں اور کمزوری بھی ، یہ ہمیں مضبوط بھی کرتی ہیں اور ہماری توڑ پھوڑ بھی جاری رکھتی ہیں ، غرض یادوں کا طوفان اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ ہماری زندگی میں اپنا اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ یاد چیزوں سے وابسطہ ہو یا لوگوں سے ، کسی پیارے کے دائمی جدائی کا دکھ ہو کسی کے ساتھ گزرے حسین لمحے ، ہمارے اندر کی دنیا میں ایک طوفان آتا ہے اور آکر گزر جاتا ہے پھر سب کچھ ساکت و جامد ہو جاتا ہے ، سفر جاری ہو جاتا ہے ، اور یادیں بنتی رہتی ہے ، اور پھر یادوں کا یہ سلسلہ جو ہمارے ہوش میں آنے سے شروع ہو جاتا ہے تو سانس ختم ہونے پر یہ بھی اپنا اختتام کر دیتا ہے ، اس طرح ہم سے وابسطہ لوگوں میں ہماری ساتھ گزری وہ تمام یادیں منتقل ہو جاتیں ہیں پھر وہ ہمیں یاد کرتے ہیں ، ہمارے ساتھ گزرے اچھے بُرے لمحات اور زندگی کی گاڑی یادوں کا سفر ساتھ لئے یونہی جاری رہتی ہے ۔۔۔ ۔۔۔

تحریر۔ ناعمہ عزیز ۔


کبھی تم نے یہ سوچا ہے ؟
کہ بہنوں کی ادائیں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیں ،
یہ خود بھوکی بھی رہتی ہیں ،
یہ خود پیاسی بھی رہتی ہیں ،
پر جھلستی دھوپ میں یہ پریاں
چھاؤں جیسی ہوتی ہیں ،
کبھی تم نے یہ سوچا ہے ؟
تمھاری عزتوں کی چادر کی حفاظت کرتی ہیں ،
تمھاری غیرتوں کے نام پر قربان ہوتی ہیں ،
یہ اپنی خواہشوں کے اکثر
گلے کو گھونٹ دیتی ہیں ،
یہ پھولوں سی نازک جانیں ،
تمھارا مان ہوتی ہیں ،
کبھی تم نے یہ سوچاہے ؟
تمھارے غم میں اکثر ،
اٹھ اٹھ کر جو راتوں کو ۔
یہ بے آواز روتی ہیں !
تمھارے حصے کے سب درد ،
اپنی قسمت میں لکھنے کی ،
جو رب سے دعائیں کرتی ہیں!
یہ اپنے حصے کی خوشیاں
جو تم پر وار دیتی ہیں ،
کبھی تم نے یہ سوچا ہے ؟
یہ ایسا کیونکر کرتی ہیں ؟

کیونکہ
یہ ماں کا روپ ہوتی ہیں ۔
یہ ماؤں جیسی ہوتی ہیں ۔
سوال ہونا چاہتی ہوں ،
جواب ہونا چاہتی ہوں
خوشی و غم کے موت و زندگی کے
سبھی جذبوں سے آزاد ہونا چاہتی ہوں،
میں چاہتی ہوں خامشیوں کے سبھی سنگم
آسمان کی وسعتوں میں
محو پرواز ہونا چاہتی ہوں
پر ابھی تو بہت سفر باقی ہے ،
ابھی تو نغمگی کا ہوتا لازم ہے
ابھی تو قرب انسان واجب ہے
ابھی تو میں وفا اور استقامت کی خوبی تک نہیں پہنچی
ابھی تو فقیری عطا بھی نہیں ہوئی
ابھی تو قلندری کے رموز بھی نہاں ہیں
ابھی تو فکر و عمل سے دوری ہے ،
ابھی تو خیالات انتشار کا شکار ہیں
ابھی تو نوک خار پر کوئی صاحب حال
شبنم کی طرح رقص کرتا نہیں آیا
ابھی تو دل و نگاہ میں سمانا باقی ہے
ابھی تو وحدت کے آثار نمودار نہیں ہوئے
ابھی تو اس فیض کے قابل نہیں ہوں میں
ابھی تو یہ فیصلہ نصیب کی بابت ہوگا
از : ناعمہ عزیز 
میرے ساتھ بڑا عجیب مسئلہ ہے کہ جب کوئی بات مل جائے اس کی کھال اتارنے کو تیار ہو جاتی ہوں ، اور جب تک اسکی کھال نا اتر جائے مجھے چین نہیں آتا، مختصر الفاظ میں یہ کہ جب تک اپنے اندر کا اُبال باہر نا نکا ل لوںٕ مجھے وہ سوچ تنگ کرتی ہی رہتی ہے۔ میں نے سوچا تھا کہ جب تک امتحان نہیں ہو جاتے میں کچھ نہیں لکھوں گی ، نا کچھ سوچوں گی ،
مزے کی بات یہ ہو ئی کہ رات کو خواب میں بھی میں یہ کہتی رہی ہوں کہ
Excess of everything is bad.
اب اسکی بھی وضاحت کرتی چلوں ، دراصل ہر چیز کی زیاتی بُری ہو تی ہے اس کا تعلق بھی میرے موضوع سے ہے،!


اب یہ معاملہ ہی لے لیں کہ دو دن پہلے کی با ت ہے کہ میری دوست نے میرےسامنے اپنے تین چار سال کے بھانجے کو اس لئے ڈانٹ دیا کہ وہ پنجابی بول رہا تھا ، میں نے کہا ، کوئی بات نہیں بول رہا ہے تو بولنے دو ، اتنی اچھی لگ رہی اس کی انداز میں پنجابی ، اور ویسے بھی پنجابی ایک زبان ہے ،اور جتنا مزہ پنجابی میں ہے اتنا اور کسی زبان میں نہیں ،
آپ میری بات سے اتفاق کریں گے کہ اردو بولتے ہو ئے ذرا تکلف آجاتا ہے ، اور انگلش ایسی تو اس قدر تکلفانہ زبان ہے کہ میرے تو بول بول کر منہ میں درد ہو جاتا ہے !


میں یہ سمجھتی ہوں کہ نا کبھی بھی کچھ ایک انسان کی وجہ سے نہیں ہو تا ، آپ دیکھیں کہ بات پورے ملک کی ہے ، اور پورا ملک کسی ایک انسان کے غلط فیصلوں کی وجہ سے تھوڑی برباد ہو سکتا ہے ؟ جیسے ایک انسان کی بربادی کے پیچھے صرف اس کا اپنا ہی ہاتھ نہیں ہوتا بلکہ بہت سے لوگ جو اس کے اردگرد ہوتے ہیں ، اس سے وابسطہ ہوتے ہیں ، سب مل کر اسے تباہ و برباد کرتے ہیں ،
اسی طرح اگر ہم جائزہ لیتے ہیں تو ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ ہم آج بھی ایک غلام قوم ہیں ، ہماری تہذیب و روایات ہمار ی تاریخ ، ثقافت کو ہم سب نے خود مل کر ختم کیا ہے ، آپ دیکھیں کہ ہمارا قومی لباس شلوار قمیض ہے لیکن آپ دیکھیں کہ کوئی بھی شلوار قمیض پہننا پسند نہیں کرتا ، ہر نئے فیشن کی پیروی کرنا ثواب کا کام سمجھا جاتا ہے ، پہلے پی ٹی وی ایک ایسا چینل تھا جس کو سب کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا جاسکتا تھا لیکن اب پی ٹی وی والوں پر بھی مغرب کا رنگ چڑھ آیا ہے!
دراصل ہمارے ساتھ ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اصول پسند لوگ نہیں ہے ، کم ازکم ایک ملک میں رہنے والے باشندوں کو اپنی تہذیب و ثقافت اور روایات پر سمجھوتانہیں کرنا چاہئے ، ایران اور چین جیسے ملکوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ،
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ چین کے وزیراعظم تھے شاید جن سے ایک کانفرنس میں سوال کیا گیا کہ آپ انگلش میں کیوں نہیں جواب دیتے
تو انہوں نے جواب دیا
" کیا چین کی اپنی زبان نہیں"؟
اور یہ پڑھ کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ بیان سے باہر ہے!
ہمارے یہاں تو تعلیم کا معیار ہی ایسا بنا دیا گیا ہے کہ بیکن میں اعلیٰ درجے کی تعلیم دی جاتی ہے، ایجو کیٹرز میں ذرا درجہ اس سے نیچے ہے اور اس سے جیسے جیسے پرائیویٹ سکول نیچے آتے جاتے ہیں ، درجہ اتنا ہی کم ہوتا جاتا ہے ،
اور جب آتے ہیں آپ گورنمنٹ سکولوں کی طرف تو میں نے اکثریت یہی دیکھی ہے کہ پرائمری اور مڈل لیول کے سکولوں میں تعلیم کا معیار بہت گر چکا ہے ! ظاہر ہے غریبوں کے بچے گورنمنٹ سکولوں میں پڑھتے ہیں اس لئے ہمارے یہاں زیادہ تر وہ ہی بچے لائق فائق کہلائے جاتے ہیں جو سب سے اعلیٰ درجے انگلش فر فر بولتے ہیں اور وہ ہیں امیر طبقے کی اولاد!
آپ حیران ہو ں گے کہ میری دوست بتاتی ہے کہ میرے بھتیجے مجھ سےپو چھتے ہیں کہ پھوپھو بیلون کو اردو میں کیا کہتے ہیں ؟؟
امیر طبقہ زیادہ تر اپنے بچوں کو انگریزی بولتا دیکھ کر ہی خوش ہوتاہے ، مجھے یہ نہیں سمجھ آتا کہ ہم آج تک کیوں اپنے ذہنوں کو آزادنہیں کروا پائے ! انگلش بولنا کوئی ثواب کا کام تو نہیں ؟ آپ ہی بتائیے کہ پنجابی بولنے میں کیا گناہ ہے ؟؟ اگر بچہ پنجابی بولتا ہے تو بُرا کیوں سمجھا جاتا ہے ؟
میں یہ نہیں کہتی ہوں کہ آپ انگریزی نا سیکھیں میں خود انگریزی ادب میں ماسٹرز کر رہی ہوں ، اچھی چیز انسان کو جہاں سے بھی ملے اسے اپنا لینی چاہئے لیکن ایسا نا ہو کہ
" کو ا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا "
پنجابی کی اپنی کی ایک اہمیت ہے ، اپنا ایک مقام ہے ، یہ اتنے مزے کی زبان ہے کہ میں اکثر کہا کرتی ہوں کہ آپ اگر اس کو متبادل ڈھونڈیں تو آپ کو کہیں نہیں ملے گا ،آپ دیکھیں کہ اگر ہم انگریزی کو اتنا زیادہ بولیں گے تو پنجابی کا تو نام و نشان مٹ جائے گا نا ! اور ہمیں تو فخر کرنا چاہئے کہ ہمیں اردو اور انگلش کے علاوہ اور بھی زبانیں آتی ہیں ۔
خیر دیکھئے ، غور کرئیے ، اپنی شناخت کو مت کھویں ، اپنا آپ ختم کرکے دوسروں کا رنگ مت چڑھائیں خود پر ، ورنہ ایک روز ایسا آئے گا کہ یہ سب چھوٹی چھوٹی چیزیں ختم ہو کر رہ جائیں گی ۔


جب بھی کوئی موقع ایسا آتا ہے کہ پاکستان کی بات کی جائے ، پاکستانیوں کی بات کی جائے ، پاکستان کی سیاست کی بات کی جائے ، پاکستان کے حالات کی بات کی جائے تو بس ایک لمحے کو دل کرتا ہے کہ بندہ کہے ،
"نو کمنٹس"
مگر نہیں یہ بھی اختیار میں نہیں ہے ، ہم یہاں رہتے ہیں ، ہمیں پاکستان ایسے ہیعزیز ہے جیسے کہ ہمارا اپنا گھر ، جیسے ہم روز اپنا گھر صاف کرتے ہیں ، ایسے ہی دل کرتا ہے کہ ہمارا ملک بھی صاف ہو ، جیسے ہم اپنے خاندان کے لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں ایسے ہی دل کرتا ہے پاکستان کے لوگ مل جل کر رہیں ، پر افسوس ہوتا ہے جب ہم ملکی سیاست پر کیچر اچھالتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ ہم تو خود ہر جگہ ہر بندے کے ساتھ سیاست کھیلتے ہیں ، بات غور کرنے کی ہے ، کبھی غور کرئیے گا کہ ہم اپنےحصے کا ایک روپیہ بھی کسی کو معاف کرکے راضی نہیں ہیں، جبکہ دوسروں سے دس روپے بٹورنے کو بھی ہر لمحہ ہر وقت ایسے تیار رہتے ہیں جیسے ہندوستان کی ٹیم پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو ہرانے کے لئے ۔
خواب سا لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی ایسا بندہ ہو جو سب کچھ ٹھیک کر دے ، ہر جگہ ، ہر معاملے میں انصاف ہو۔
پاکستانی ہونے پر مجھے آج بھی فخر ہے ، اور فخر اس بات کا ہے کہ ہاں یہ وہ ملک ہے جسکو حاصل کرنے کے لئے ہم نے ایسی ایسی ناقابل فراموش قربانیاں دیں ہیں کہ آج بھی سننے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، پاکستان کی ہسٹری کو نکال کر دیکھ لیا جائے ، بڑے بڑے علما، مفکر، صوفی لوگ آپ کو ملیں گے ، آج بھی اس ملک میں اتنا ہی ٹیلنٹ موجود ہے ، مگر کمی صرف ڈائریکشن کی ہے ، ہمیں ڈائریکشن نہیں ملتی ، کمی صرف اتحاد کی ہے ، ہم مل جل کر نہیں رہتے ، کمی صرف جذبے کو جوان کرنے کی ہے ، کوئی تو ایسا ہو کہ جو اس جذبے کو ابھارے ، جو یہ بتائے کہ ہم ہی تو نگران ہیں ، ہمیں خود نگرانی کرنی ہے ، اور اگر ہم ہی گمراہ ہو لئے تو پھر یہ گھر کیسے بچ پائے گا ؟ اگر ہم خود ہی ہتھیار پھینک دیں گے تو کس طرح سے تحفظ کا احساس رہے گا ؟
ہم بس یہ کہتے ہیں ، کہ جب تک زرداری ہے کچھ نہیں ہو سکتا ، یہ آج کی بات نہیں ، یہ قصہ برسوں پرانا ہے ، جب تک مشرف تھا تب تک بھی تو کچھ نہیں ہوا ، تب حالات تھوڑے ٹھیک تھے ، اب تھوڑے اور خراب ہو گئے ہیں ، اور زرداری انکل کے بعد جو آئے گا تب شاید اس سے بھی زیادہ خراب ہو جائیں !
مسئلہ سیاست میں نہیں ، ہمارے اپنے اندر ہے ، ہم تعمیری کام نہیں کرتے ، بس تخیل میں دیکھتے ہیں ، لیکن سوال یہ ہے کہ جب آپ خواب دیکھتے ہیں اپنے ملک کی بہتری کے ، تو ایک اس میں تھوڑا سا حصہ تو ڈالیے ۔ قدم تو آگے بڑھائیے ، ایک بار اس خواب کی تعبیر کے لئے کوشش کر کے تو دیکھیے ! کیا خبر کہ آپ کے اس عمل سے کوئی متاثر ہو ، اور اپنا حصہ ڈالنے کو قدم بڑھائے ، کیا پتا آپ کسی کی آواز بن جائیں ، ایک بار اتحاد کا عہد تو کیا جائے ، اپنے حصے کی وفا کرنا پڑتی ہے تاکہ اندر بیٹھا ٖٖوکیل سوال وجواب نا کرے ، ہمیں کٹہرے میں کھڑا کرکے یہ نا پوچھے کہ تم نے کیا کر دیا ،کونسا کارنامہ سر انجام دیا اور کس بنیاد پر دوسروں کو تنقید کا نشانہ کیوں بنائے ہو ؟
خیر دُعا ہے کہ پاکستان کا مستقبل اچھا ہو، ہمارا اچھے لیڈروں سے واسطہ پڑے ، ہم سب کے اندر برداشت ، تحمل اور اتحاد و اتفاق ہو، اور ہم دوسروں پر تنقید کی بجائے اپنے حصے کا پودا لگائیں تاکہ آنے والی نسلیں یہ نا کہہ سکیں کہ قصور ہم لوگوں کا تھا ۔
إٓمین

Total Pageviews

Powered By Blogger

Contributors

Followers