ہمیں نرم خوئی کا حکم ہے - بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی شخص کے فعل پر ہمیں بہت غصہ آ رہا ہوتا ہے - لیکن آپ اس کے باوجود کہ اس پہ غصہ کیا جانا چائے آپ غصہ نہیں کرتے ہیں - یہ ان کا کمال فن ہوتا ہے یا پھر وہ نان ڈگری ماہر نفسیات ہوتے ہیں - ایک بار ایسا ہی ایک واقعہ میرے ساتھ بھی پیش آیا - میں ایک ضروری میٹنگ کے سلسلے میں مری گیا - وہ بارشوں کا موسم تھا - اب میں جلدی میں تھا اور میں نے دو جوڑے ہی کپڑوں کے ساتھ لیے تھے - راستے میں موسلا دھار بارش ہوئی اور خوب برسی - اس شدید بارش میں باوجود بچنے کے میں شدید بھیگ گیا - میں شام کو مری پہنچا - میں خود بھیگ چکا تھا جب کہ دوسرا جوڑا میرے پاس تھا ، پانی اس میں بھی گھس گیا - اب میں سخت پریشان - اگلے روز میٹنگ بھی اٹینڈ کرنی تھی - خیر میں مال روڈ پر آگیا کہیں سے کوئی لانڈری وغیرہ مل جائے تا کہ وہ کپڑے سکھا کر استری کر دے - مجھے مال پر تو کوئی لانڈری نہ ملی ، البتہ لوئر بازار میں چھوٹی سی ایک دکان نظر آئی جس پر لکھا تھا " کپڑے چوبیس گھنٹے میں تیار ملتے ہیں " میں یہ پڑھ کر بہت خوش ہوا اور جا کر کپڑے کاؤنٹر پر رکھ دیے - دکان کے مالک بابا جی نے کپڑوں کو غور سے دیکھا ، پھر بولے ٹھیک ہے " پرسوں شام کو لے جانا - جمعرات کی شام مغرب سے پہلے - "
میں نے ان سے کہا کہ " حضور آپ نے تو چوبیس گھنٹے میں تیار کرنے کا بورڈ لگایا ہوا ہے ؟"
وہ بابا جی (ذرا بڑی عمر کے تھے ) مسکرا کر بولے " ٹھیک ہے بیٹا چوبیس گھنٹوں میں ہی تیار کر کے دیتے ہیں - لیکن ہم روزانہ صرف آٹھ گھنٹے کام کرتے ہیں - آٹھ گھنٹے آج ، آٹھ گھنٹے کل ، اور آٹھ گھنٹے پرسوں - یہ کل چوبیس گھنٹے بنتے ہیں - آپ کے کپڑے پرسوں شام چوبیسواں گھنٹہ ختم ہونے سے پہلے مل جائیں گے - "
اب میں حیران و پشیمان کھڑا بابا جی کا منہ دیکھ رہا ہوں کہ انھوں نے کس طرح سے چوبیس گھنٹے پورے کر دیے اور میرے پاس کوئی جواب بھی نہ تھا -
آپ مراقبہ کریں ، تفکیر کریں ، یا خاموش ہو کر ایسے ہی بیٹھ رہیں - اس میں آپ کو ایک اصول پر ضرور عمل پیرا ہونا پڑیگا ، کہ آپ کے ارد گرد روشنی ہے - روشنی کا بہت بڑا تنبو ہے اور آپ اس کے نیچے بیٹھے ہیں - روشنی کی ایک آبشار ہے - نیا گرا فال ہے اور آپ اس کے امڈتے ہوئےجھلار میں نہا رہے ہیں -
روشنی کیوں ؟ میں نے پوچھا " خوشبو کیوں نہیں ، رنگ کیوں نہیں ، نظارہ کیوں نہیں ؟ "
پروفیسر نے کہا " اگر میں عربی
میں کہونگا تو تمھاری سمجھ میں نہیں آئے گا بہتر یہی ہے کہ میں اطالوی میں سمجھاؤں - آسان اور سادہ اطالوی میں اور تمھارے قریب ہو کر بتاؤں کہ الله روشنی دینے والا ہے - آسمانوں کواور زمین کو - مثال اس روشنی کی یہ ہے کہ جیسے ایک طاق ہو اور اس کے اندر ایک چراغ ........... اور وہ چراغ دھرا ہو ایک شیشے میں ، ایک قندیل میں اور وہ قندیل ہے جیسے ایک چمکتا ہوا ستارہ ، تیل جلتا ہے اس میں ایک برکت والے درخت کا جو زیتون کا ہے اور جو نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف !
لگتا ہے کہ اس کا تیل روشنی ہے اگرچے اس میں آگ نہ لگی ہو ............. روشن پر روشن ، نور پر نور .............. الله جس کو چاہے اپنی روشنی کی آگ دکھا دیتا ہے ، اور بیان کرتا ہے - الله کی مثالیں لوگوں کے واسطے ہیں اور الله سب چیز جانتا ہے - "
میں نے کہا " یہ تو کسی مذھبی کتاب کا بیان معلوم ہوتا ہے ، کسی پرانے صحیفے کا - "
انھوں نے میری بات کا جواب دینے کے بجائے کہا " خداوند زمین و آسمان کی رونق اور بستی ہے اور کائنات کی ساری مخلوقات کو اسی سے نور وجود ملتا ہے - چاند ، سورج ، ستارے ، سیارے ، معلوم اور لا معلوم ، حاضر اور غائب ، انبیاء ، اولیاء ، فرشتے اور ان کے علاوہ اور بھی جو کچھ ہے - اور ان میں جو واضح اور پوشیدہ روشنی ہے - وہ اسی خزانہ نور کی بدولت ہے - یہی وجہ ہے کہ استاد ، گرو ، پیر مرشد ، شیخ اور ہادی ، باطن کے مسافر کا پہلا قدم اندھیرے سے نکال کر نور کی شاہراہ پر رکھتے ہیں اور پھر اس کی انگلی پکڑ کر قدم قدم چلاتے ہیں - "
" لیکن اس میں طاق کا کیا مطلب ہے ؟ " میں نے پوچھا " جس میں روشنی کی قندیل رکھی ہے ؟"
کہنے لگے یوں تو خدا کے نور سے کل کائنات کے موجودات روشن ہیں لیکن گیان ذات کے متلاشی کا جسم ایک طاق کی مانند ہوجاتا ہے - ایک دراز قد محرابی طاق کی طرح ، اور اس کے اندر ستارہ کی طرح کا چمکدار شیشہ قندیل رکھ دیا جاتا ہے - یہ شیشہ اصل میں اس کا قلب ہوتا ہے - جو ایک اینٹینا کی طرح عالم بالا سے متعلق ہوتا ہے اور اپنے سارے سگنل وہیں سے وصول کرتا ہے -

از اشفاق احمد بابا صاحبا
برسوں بیت جائیں گے۔
معتبر ہونے میں
عزتیں بنانے میں
لیکن
اِک خطا کی قیمت کا
اتنا سود بھر دو گے
عزتوں کی چادر کو
چاک چاک کر دو گے

پگڈنڈی پہ چلنا یوں
کہ پاؤں پھسل جائے
گر جو بھول ہوجائے
عمر بھر کی محنت کا
ساری نیک نامی کا
پردہ فاش کر دو گے۔
از ناعمہ عزیز
دو تین دن پہلے سے ہی ویلنٹائن سے متعلقہ شعر و اشعار کا سلسلہ اور ٹی وی پر ویلنٹائن کے موقع کو ترغیب ملنا شروع ہو گئی تو میں نے چھوٹی سے پوچھا یہ ویلنٹائن کو بھی عید کی طرح ہی منانے لگ گئے ہیں، خیر میں سوچ رہی تھی کہ میں ویلنٹائن ڈے پر کچھ نا کچھ لکھوں گی ، پر پھر میں نے سوچا کہ اگر میں نے ویلنٹائن کے حق میں لکھا تو بہت تنقید ہو گی ، پر اس وقت میں تنقید کی پروا کی بنا لکھ رہی ہوں ۔
میں ویلنٹائن کی ہسٹری میں نہیں جارہی ، میں اس جذبے پر لکھ رہی ہوں جو امر ہے، لافانی ہے، جس کا کوئی اختتام نہیں،
میرے لئے محبت لڑکا اور لڑکی کی جذباتی وابستگی کا نام نہیں ہے، محبت کے کئی روپ ہو تے ہیں، آپ کی ماں باپ کی آپ کی پروا کرتے ہیں، آپ کا ہر لمحہ خیال کرتے ہیں آپ کے بھلا سوچتے ہیں ، یہ محبت ہے، بھائیوں کے لئے بہنیں بلا جواز دعائیں مانگتی ہیں ان کی خوشیوں میں خوش اور غٕموٕںمیں دُکھی ہو جاتی ہیں ، یہ محبت ہے، بھائی بہنوں کے سر پر سا یہ شفقت ہو تے ہیں، ان کی حفاظت کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتے ہیں یہ محبت ہے ،
آپ اپنے رشتہ داروں سے ملتے ہیں، ان کی خوشیوں میں شریک ہو تے ہیں ، ان کے دُکھوں میں روتے ہیں، تو آپ کے اندر یہ سب ایک جذبے کے تحت ہو ر ہا ہو تا ہے، یہ پورا ایک نظام ہے، احساسات جذبا ت ہمیں نظر نہیں آ رہے ہوتے مگر وہ وجود رکھتے ہیں ، اور ان کی وجہ سے ہی ایک خاندان کے افراد آپس میں جُڑے ہوتے ہیں،
آپ کے دوست جن سے آپ دل کی بات کہہ لیتے ہیں، آپ کو اُمید ہوتی ہے کہ وہ بات جو آپ نے اپنے دوست سے کہہ دی ، اور اسے کہہ کر آپ کا دل ہلکا ہو گیا ، اب آپ کے دوست کے دل میں رہے گی اور اگر آپ اس سے مشورہ مانگتے ہیں تو یہ سب ایک جذبے کے تحت ہو تا ہے ، کوئی آپ کو اپنا سمجھتا ہے تو آپ کا کوئی کام کرتا ہے، اور اپنا سمجھنے میں خون کا رشتہ ہو یا نا ہو اگر احساس کا رشتہ ہے تو سمجھ لیں کہ وہ محبت ہے ،
آپ کسی بھولے کو بنا کسی وجہ سے راستہ دکھا دیتے ہیں، آپ کسی بھوکے کو کھانا کھلا دیتے ہیں، آپ کسی کی مدد کرتے ہیں ، آپ کسی کو تسلی دیتے ہیں، آپ کسی کو اپنا خون دے دیتے ہیں ، آپ کسی زخمی کو ہسپتال پہنچا آتے ہیں، تو ان سب کے پیچھے آپ کے جذبات کا گہرا تعلق ہو تا ہے، اور جذبات میں سب سے برتر جذبہ محبت کا جذ بہ ہے۔
آج کل ہمارے ملک کے جو حالات چل رہے ہیں، جتنی فریسٹریشن ہے، جتنے مسئلے مسائل ہیں، اگر ا ن سب میں سے الگ ہو کر ایک دن ہم کوئی خوشی منا لیتے ہیں تو اس میں اتنی تنقید کرنے کی کوئی بات نہیں ہے، میں ہر گز یہ نہیں کہہ رہی کہ ایک لڑکا کسی لڑکی کو لے کر ہوٹل میں جائے کھا نا کھائے ، گلاب کا پھول دے ، اور کہے آئی لویو، میں ا یسی محبتوں پر یقین کی قائل نہیں ہوں ۔
لیکن جذبہ محبت کے وجود سے ہم انکار نہیں کر سکتے ، پر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اُسے مثبت انداز میں نہیں لے سکتے ؟؟؟ کیا ہم اس جذبے کا دن نہیں منا سکتے جس کو لافانی بنایا گیا ؟؟
مجھے اس کو ویلنٹائن کہنے کی ضرورت نہیں ہے ، پر بھر بھی میں کہوں گی گلاب رت کا یہ دن میں نے اپنی دوستوں کے ساتھ منایا، چند لمحے خوش ہو کر مجھے ہرگز نہیں لگا کہ میں کوئی گناہ کر رہی ہوں۔ اور نا مجھے اس پر کوئی شرمندگی ہے۔

لوگ اکثر کہتے ہیں کہ دنیا میں انصاف نہیں رہا ، ہر کسی پر ظلم ہو رہا ہے، ہر کسی کو اپنا آپ مظلوم نظر آتا، ہر کسی کویہ لگتا ہے کہ میں ہی بیچارہ ہوں ، پر میں نے تو جب بھی مشاہدہ کیا مجھے یہ ہی نظر آیا کہ دنیا میں ہر روز ہر کسی کے ساتھ انصاف ہوتا ہے اور ایسا انصاف ہوتا ہے کہ اس دنیا کی کوئی عدالت ویسا انصاف نہیں کر سکتی، سب سے بڑا جج تو انسان کے اندر بیٹھا ہوتا ہے، جو ہمیں بتا تا ہے کہ یہ نا کرو وہ نا کرو، اگر ایسا کرو گے تو نقصان ہو گا ، اگر ویسا کرو گے تو تباہ و برباد ہو جاؤ گے، ہاں یہ جو(دل) ہم جھوٹا وکیل ہائر کر لیتے ہیں نا دلائل دینے کو اِسے اگر نوکری سے برطرف کر دیا جائے تو سچائی، جھوٹ، ناانصافی اور انصاف ہمیں ٹھیک ٹھیک نظر آنے لگے،
دوسروں پر الزام دھرنا بڑا آسان کام ہے، پیسے نہیں لگتے نا اور مزہ آتا ہے، پر اپنے اندر جھانکنا بڑا مشکل ہے، کیا کریں، ہم تو یہ نہیں چاہتے کہ کوئی ہمیں بُرا کہے تو ہم اپنے آپ کو کیسے بُرا کہہ سکتے ہیں؟؟ مگر ہمارے کہنے یا نا کہنے سے کیا ہوتا ہے، میں سمجھتی ہوں کہ عدالت روز لگتی ہے، انصاف روز ہوتا ہے، وہ جس نے ہمیں تخلیق کیا وہ ماسٹر مائنڈ خود جج کی سیٹ پر بیٹھ کر ایسا انصاف کر تاہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے، میں اکثر مثال دیا کرتی ہوں کہ اگر آپ کسی کی بہن ، بیٹی ، بیوی اور ماں کا احترام نہیں کرتے، ان کو عزت نہیں دیتے تو پھر اپنے ذہن میں یہ خیال مت لائیں کہ آپ کی بہن ، بیٹی، بیوی، اور ماں محفوظ ہیں، چاہے آپ نے ان کو کتنی ہی مضبوط دیواروں کے اندر رکھ کر ان پر کتنی ہی پاپندیاں کیوں نا عائد کی ہوں، انصاف کرنے والی ذات اوپر بیٹھی ہے،
ایک ساس اپنے بیٹے کی بہو بیاہ کر لاتی ہے ، چار دن سُکھ کے گزرتےہیں اور پھر وہی چخ چخ جو ہر گھر کا معمول ہے، اور وہی ساس ایک ماں بھی جو یہ چاہتی ہے کہ اُس کی بیٹی سُکھی رہے، ہنستی مسکراتی رہے، بھئی جب وہ کسی کی بیٹی کو سُکھ نہیں دے گی تو اس کی بیٹی کو دنیا کے کسی کونے سے سُکھ نہیں ملنے والا!
اس لئے کہ انصاف کرنے والا اوپر بیٹھا ہے۔
اگر آپ کسی دفترمیں نوکری کر رہے ہیں اور ساتھ ہی سات ہیرا پھیری کا کام بھی جاری ہے تاکہ آپ اپنی اولاد کو اچھا کھلا پلا سکیں، ان کی ضرورتیں پوری ہوں ، اور آپ کا گھرانہ خوشحال رہے ، تو یہ مت بھولیں کہ حرام کھلا کر آپ اپنی اولاد کے خواہشات تو پوری کر سکتے ہیں لیکن اگر وہ اولاد ہی آپ کو دھوکہ دینا شروع کر دے تو پھر آپ کس کو ذمہ دار ٹھہرانا پسند کر یں ؟؟
دنیا اس اصول پر چلتی ہے کہ اچھادو اور اچھا لو، بُرا دو اور بُرا لو۔
کل ہم بیکن کو پڑھ رہے تھے ، بیکن ایسی خوبصورت بات کہتا ہے کہ بندہ ایک لمحے کو سوچتا ہی رہتاہے ، ٹاپک تھا آف گریٹ پلیس ، گریٹ پلیس ، مطلب آپ کے پاس کوئی اختیار ہونا، کہ جیسے ہمارے زرداری صاحب کے پاس ہے، تو بیکن کہتا ہے کہ جب آپ لوگوں پر اختیار حاصل کر لیتے ہو تو اپنی ذات پر اختیار کھو دیتے ہو، جی ہاں ، ایسا ہی ہے ، ملک و قوم کا صدر جس کے پاس اتھارٹی ہے، اُسے کوئی چرسی بھی اُٹھ کر گالی دے دیتا ہے، کوئی مسئلہ نہیں، پر یہ بات جب ایک ایسے بندے کی ذات پر آتی ہے جس کی معاشرے میں کوئی خاص حثیت نہیں تو وہ لڑنے مرنے پر آمادہ ہوجا تا ہے ، ہے نا عجیب بات؟
بندہ پوچھے زرداری انسان نہیں ؟ وہ جن ہے کہ سارے کام ایک ہی دن میں کر دے ؟ آپ اپنے آپ کو کیوں نہیں دیکھتے کہ آپ نے کیا کیا ؟؟ اگر گیس نہیں ہے، بجلی نہیں ہے تو اس میں اکیلا زرداری قصور وار تو نہیں ہے !! یہ جو گیس چور بجلی چور بیٹھے ہیں یہ کس کھاتے میں جائیں گے ؟ اور شاعر کیا خوب فرماتا ہے کہ
شکوہِ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے۔
ارفع کریم کی مثال ہمارے سامنے ہے ، آج دینا ا ُسے سلیوٹ کرتی ہے، اس پر فخر کرتی ہے، مگر اس کے جو ایک مثال قائم کر دی کہ کچھ کر کے دکھاؤ ، کچھ بن کے دکھاؤ اُسے کتنے لوگ فالو کرئیں گے؟ یا گھر بیٹھ آپ سب گھر بیٹھ کر طعنے کوسنے دینے کے لئے پیدا کئے گئے ہو؟؟؟
خیر بات انصاف سے نکل کر کہاں آ گئی،
میں تو صرف یہ جانتی ہوں کہ اس دنیا میں کوئی بندہ مظلوم نہیں ہے، ہر کسی کو اس کے کئے کا روز ملتا ہے، اور کیسا خوب انصاف ہے کہ جیسا جرم ویسی سزا!!!
اس لئے اپنے اندر جھانکو، خود کو بہتر کرو، کوئی جو کرتا ہے کرے، لیکن آپ اکیلے ہی دنیا میں آئے تھے اور اکیلے ہی رب کی بارگاہ میں دنیا اور آخرت میں جواب دہ ہو۔
قلزم ہستی میں تو اُبھرا ہے مانند ِ حباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی۔

کسی کے چھوڑ جانے سے،
سانسوں کی مالا کا،
دھاگا کب ٹوٹا ہے،
تو پھر یہ سوگ کیسا ہے!
یہ دل کا روگ کیسا ہے!
یہ کیسی آگ لگتی ہے!
یہ کیسا درد اُٹھتا ہے!
کہ مجھے کو چین نہیں آتا!
چلو اک کام کرتی ہوں،
وہ سب میں بھول جاتی ہوں،
ہاں میں اِک قبر بناتی ہوں،
کہ جس کے مقبرے پر میں،
تمھارا نام لکھتی ہوں،
تمھاری یادوں کے سائے،
میں اس میں دفن کرتی ہوں،
چلویہ فرض کرتی ہوں،
کہ تم کو بھول جاتی ہوں،
مگر یہ سب ناکارہ ہے،
تمھارے بن نا پہلے تھا،
نا اب میرا گزارہ ہے۔

ناعمہ عزیز :)


یہ سال بھی گزر گیا ، جب بھی میری سالگرہ آتی ہے اور جب بھی جنوری کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو میں ایک بار پیچھے کی طرف ضرور نظر ڈالتی ہوں ، ہمیشہ میں ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ ’’ کل میں کیا تھی اور آج میں کیا ہوں ‘‘؟؟؟؟
ہاں اس بار جب پچھلے سال پر ایک نظر ڈالی تو اپنے اندر ایک فرق واضح محسوس کیا، اب میں بہت حد تک حقیت پسند ہو گئی ہو ں ، خوابوں اور خیالوں کی دنیا میں رہنا چھوڑ دیا ہے، پتا نہیں کیوں جو چیز نا ملے ہمیں اُسی میں اتنی کشش کیوں نظر آتی ہے !! مجھے ہمیشہ گلہ رہتا تھا کہ یہ چیز مجھے کیوں نہیں ملی ، لیکن اب میں نے زندگی سے سمجھوتا کرنا سیکھ لیا ہے، اور شاید سب کو ہی سیکھ لینا چاہئے ، ہم جتنی جلدی یہ بات سیکھ لیتے ہیں ہمارا اتنا ہی فائدہ ہوتا ہے، لوگ صرف ایک لفظ ’’زندگی‘‘ کو بہت سے مفہوم پہناتے ہیں ، لیکن میرے خیال سے زندگی بی۔ اے کے (بی ) پیپر کے جیسی ہوتی ہے ، بالکل ان ایکسپکٹڈ!!
اور میرے خیال سے زندگی ٖصرف اور صرف compromise and sacrifices
نام ہے ، ہمیں کبھی کسی خواہش پر سکرفائز کرنا پڑتا ہے ، اور کبھی کسی انسان سے، کبھی اپنے آپ سے !!
اگر ہم سیکریفائز اور کمپرومائز کرنا سیکھ جاتے ہیں تو زندگی آسان ہو جاتی ہے، پھر آپ کے پاس کچھ ہو یا نا ہو کچھ خاص فرق نہیں پڑتا، اور اس کو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں جب کوئی چیز قسمت میں ہے ہی نہیں تو پھر افسوس اور دُکھ کیسا؟؟
اور دراصل پچھلے سارا سال میں نے صرف یہی ایک بات سیکھی ہے اور اب مجھے اتنی عادت ہو گئی ہے کہ کچھ خاص فرق نہیں پڑتا!!!
اور دوسری بات ، جو میں نے سیکھی وہ یہ تھی کہ حال میں خوش رہو، یہ ٹھیک ہے کہ ماضی ایک غذاب ہوتا ہے ، ماضی ایک ایسا اندھیرا کمرہ ہے جس کی تاریکی ہمیں کھنچتی ہے ، مگر اس تاریکی اور تنہائی میں سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں ہوتا ، ایسا پچھتاوہ جس سے صرف اذیت ہوتی ہے، اشقاق احمد صاحب ٹھیک فرماتے ہیں ، ہم میں سے بہت سے لوگ ماضی کے پچھتاوں میں زندہ رہتے ہیں اور کچھ لوگ مستقبل کے خوف میں، حال میں رہنے کا ہنر کسی کو نہیں آتا،
اور آپ کسی ایک لمحے کو ،، وہ ایک لمحہ جس میں آپ کو سانس آ رہی ہے ، صرف اس لمحے میں جی کر دیکھیں ، جو گزر گیا وہ تو موت کی طرح ہے جو کہ کبھی واپس نہیں آسکتا ہے ، جو آنے والا ہے ، اُس کے بارے میں کیوں فکر مند ہونا جب آپ کو اپنی سانس کے رک جانے کا بھی علم نہیں ہے ؟؟؟ تو پھر اُس لمحے میں کیوں نا رہا جائے جو ہمارے پاس ہے ؟؟؟ اُسے کیوں نا خوشی سے بھر پور کر لیا جائے !!!
میری طرف سے سال نو سب کو مبارک۔

اور اس دعا کے ساتھ کہ یہ اور آنے والے سب سال میرے سب بہن بھائیوں ، شاکر بھیا، بلال بھیا، عائشہ باقر ، سامعہ، صالحہ سب کے خوشیاں اور کامیاں لے آئیں اور اللہ تعالیٰ ہمارے والدین کو صحت و تندرستی دے اور ان کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے ،
اور آپ سب کی نیک خواہشات کو پورا کرے، اور پاکستان میں امن ہو جائے۔آمین

Total Pageviews

Powered By Blogger

Contributors

Followers