آپ مراقبہ کریں ، تفکیر کریں ، یا خاموش ہو کر ایسے ہی بیٹھ رہیں - اس میں آپ کو ایک اصول پر ضرور عمل پیرا ہونا پڑیگا ، کہ آپ کے ارد گرد روشنی ہے - روشنی کا بہت بڑا تنبو ہے اور آپ اس کے نیچے بیٹھے ہیں - روشنی کی ایک آبشار ہے - نیا گرا فال ہے اور آپ اس کے امڈتے ہوئےجھلار میں نہا رہے ہیں -
روشنی کیوں ؟ میں نے پوچھا " خوشبو کیوں نہیں ، رنگ کیوں نہیں ، نظارہ کیوں نہیں ؟ "
پروفیسر نے کہا " اگر میں عربی
میں کہونگا تو تمھاری سمجھ میں نہیں آئے گا بہتر یہی ہے کہ میں اطالوی میں سمجھاؤں - آسان اور سادہ اطالوی میں اور تمھارے قریب ہو کر بتاؤں کہ الله روشنی دینے والا ہے - آسمانوں کواور زمین کو - مثال اس روشنی کی یہ ہے کہ جیسے ایک طاق ہو اور اس کے اندر ایک چراغ ........... اور وہ چراغ دھرا ہو ایک شیشے میں ، ایک قندیل میں اور وہ قندیل ہے جیسے ایک چمکتا ہوا ستارہ ، تیل جلتا ہے اس میں ایک برکت والے درخت کا جو زیتون کا ہے اور جو نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف !
لگتا ہے کہ اس کا تیل روشنی ہے اگرچے اس میں آگ نہ لگی ہو ............. روشن پر روشن ، نور پر نور .............. الله جس کو چاہے اپنی روشنی کی آگ دکھا دیتا ہے ، اور بیان کرتا ہے - الله کی مثالیں لوگوں کے واسطے ہیں اور الله سب چیز جانتا ہے - "
میں نے کہا " یہ تو کسی مذھبی کتاب کا بیان معلوم ہوتا ہے ، کسی پرانے صحیفے کا - "
انھوں نے میری بات کا جواب دینے کے بجائے کہا " خداوند زمین و آسمان کی رونق اور بستی ہے اور کائنات کی ساری مخلوقات کو اسی سے نور وجود ملتا ہے - چاند ، سورج ، ستارے ، سیارے ، معلوم اور لا معلوم ، حاضر اور غائب ، انبیاء ، اولیاء ، فرشتے اور ان کے علاوہ اور بھی جو کچھ ہے - اور ان میں جو واضح اور پوشیدہ روشنی ہے - وہ اسی خزانہ نور کی بدولت ہے - یہی وجہ ہے کہ استاد ، گرو ، پیر مرشد ، شیخ اور ہادی ، باطن کے مسافر کا پہلا قدم اندھیرے سے نکال کر نور کی شاہراہ پر رکھتے ہیں اور پھر اس کی انگلی پکڑ کر قدم قدم چلاتے ہیں - "
" لیکن اس میں طاق کا کیا مطلب ہے ؟ " میں نے پوچھا " جس میں روشنی کی قندیل رکھی ہے ؟"
کہنے لگے یوں تو خدا کے نور سے کل کائنات کے موجودات روشن ہیں لیکن گیان ذات کے متلاشی کا جسم ایک طاق کی مانند ہوجاتا ہے - ایک دراز قد محرابی طاق کی طرح ، اور اس کے اندر ستارہ کی طرح کا چمکدار شیشہ قندیل رکھ دیا جاتا ہے - یہ شیشہ اصل میں اس کا قلب ہوتا ہے - جو ایک اینٹینا کی طرح عالم بالا سے متعلق ہوتا ہے اور اپنے سارے سگنل وہیں سے وصول کرتا ہے -

از اشفاق احمد بابا صاحبا

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


Total Pageviews

Contributors

Followers