جب بالی عمر تھی تو چاند دیکھنے کا بہت شوق ہوا کرتا تھا ، سردیوں کی سرد ٹھٹھرتی راتوں میں بھی چپکے سے چھت پہ جا کے چاند نظارہ کرتی مگر یہ ڈر بھی ہوتا کہ اگر کسی نے دیکھ لیا تو پتا نہیں کیا سمجھے گا، بہت شوق ہوتا تھاچاند و بہت دیر تک دیکھوں، اس تک رسائی ہو جائے، اس کی روشنی کو اپنے قریب محسوس کروں،
گرمیوں میں چھت پہ سوتے تھے تو ستاروں بھرا آسمان دیکھتے نیند آ جاتی اور رات کو خواب میں بھی تارے ہی نظر آتے، جب کبھی بادل چھا جاتے تو دل چاہتا کہ کہ درختو ں کی اور پھولوں کی لمبی قطار ہو اور میں چہل قدمی کروں ٹھنڈے موسم کو محسوس کروں اور طرح طرح کے پھولوں کی خوشبو میرے گرد رقص کرتی ہو،
جب کبھی بارش آتی تو دل کرتا کہ سڑکیں صاف ہو جائیں اور ان پہ ننگے پاؤں دور تک چلوں اور کوئی مجھے حیران ہو کے نا دیکھے،
جب ڈھلتی شام پرندے اپنے گھروں کو واپس جاتے ہوئے اٹکھلیاں کرتے تو دل چاہتا کہ میں بھی ایک آزاد پرندہ ہوتی، کوئی فکر نا ہوتی آزاد ٖفضاؤں میں گھومتی اور پرودگار کی تخلیقات کو دیکھتی۔
جب بہار میں درختوں پہ نئے پھول لگتے تو دل چاہتا کہ وہ یونہی اپنی خوشبو چاروں طرف بکھیرتے رہیں کہیں نا جائیں ، مگر جب بھی خزاں آتی تو اداسیاں اور ویرانیاں خود بہ خود چاروں طرف گھیرا ڈال کر اپنی حکمرانی کا اعلان کر دیتیں۔
گرمیوں سے تو میری جان جاتی تھی مگر سردیوں کا موسم تو دل چاہتا تھا کبھی بھی نا گزرے سردیوں کی شام چائے بنانا اور سرد ہوا کو اندر تک محسوس کرکے پرسکون ہونا بہت پسند تھا۔
میں ہر چیز کو محسوس کرتی تھی ہر وہ چیز جسے خالقِ کائنات نے تخلیق کیا مگر میں کبھی بھی حقیقت پسند نہیں رہی ، اس دنیا پہ میری مرضی مسلط نہیں ہو سکتی یہ بات میں نے کبھی بھی نہیں سوچی تھی بس مجھے تو خبط تھا ہر موسم کا ہر رنگ مجھے بھاتا تھا۔
اب جب خوابوں کی عمر گزر گئی تو پتا لگا کہ زندگی کیا ہے ؟؟ دنیا کیا ہے؟؟ دونوں ہی تلخ ہیں ، ہم کچھ اپنی مرضی سے نہیں کر سکتے کچھ ہمارے اختیار میں نہیں ، اب ہر چیز سے بیزاریت بڑھ گئی ہے، ہر لفظ میں بغاوت ہے، ہر وہ شخص جو میری بات نہیں سنتا یا سن کر اپنی دھونس جماتا ہے ، اور مجھے نہیں سمجھتا اس کے خلاف ایک جنگ برپا ہو جاتی ہے ، ایک اضطراب ہے، ایک ہلچل ہے ، جیسے میں ایک سمندر ہوں اور اندر طوفان ہی طوفان ہے، اپنی ذا ت کی نفی کرتی بھی ہوں نہیں بھی کرتی ، ایک لمحہ میں مثبت اگلے لمحے میں منفی ، پتا نہیں کیوں میری شخصیت میں ٹھہراؤ نہیں آجاتا ، کیوں طوفان تھم نہیں جاتا۔ میں بے حس ہو جانا چاہتی ہوں مگر ہو نہیں پاتی ، ہر کوئی میری شخصیت کی نفی کرتا ہے مگر میں خود نہیں کرپاتی۔ ہر کوئی میرے فیصلے سے اختلاف کرتا ہے مگر مجھ سے نہیں ہوتا ۔ میں کسی ضدی بچے کی طرح دلائل چاہتی ہوں ۔
کیا ہم کسی کی شخصیت کی نفی کر کے کسی کو اچھا انسان بنا سکتے ہیں؟؟؟ اگر ہم کسی کی سننا ہی نہیں چاہتے تو پھر ہم اس سے کس طرح یہ تو قع کر سکتے ہیں کہ اس کی شخصیت میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی؟؟؟ اگر ہم کسی کو اس کے کسی چھوٹے اقدام پر نہیں سراہیں گے تو وہ بڑا کام کیسے کرے گا؟؟اگر ہم مسلسل کسی ایک انسان پہ دوسر کو ترجیح دیں گے تو دو صورتیں ہی ہوں گی یا تو وہ بہت اچھا بن جائے گا یا بہت بُرا۔
کوئی بھی انسان یہ نہیں چاہتا کہ لوگ اس کی ذات کی نفی کریں مگر جب بھی ایسا ہوتا ہے تو اس ماحول میں پرورش پانے والی شخصیت کبھی بھی اچھائی کی طرف مائل نہیں ہو سکتی۔ احساس کمتری انسان کی شخصیت کو روند کے رکھ دیتی ہے۔ اس لئے ہمارے معاشرے میں برائیاں بڑھتی ہیں مگر ہم کبھی بھی خود کو ان کا قصوروار ٹھہرانا پسند نہیں کرتے۔
ساری پاکستانی اور ہندوستانی قوم پاگل ہوئی پڑی تھی 30 مارچ کو سیمی فائنل دیکھنے کے لئے، ہندوستا ن میں پوجا پاٹ اور پاکستان میں نمازیں ، نفل اور دعاؤں میں ساری لوگ مشغول عمل تھے۔ جب بھارتی کھیل رہے تھے تو ہر بال پہ یہ دعا کی جاتی تھی کہ آؤٹ ہو جائے، اور جب پاکستانی کھیل رہے تھے تو ہر بال پہ دل دھڑکتا تھا کہ آؤٹ نا ہو جائے اور جب ایسا کو ئی چانس نظر نا آتا تو دعا کرتے کہ چوکا ، چھکا لگ جائے۔
پر جب آفریدی آؤٹ ہو گیا تو میں تو مایوس ہو کر سو گئی کہ بس اب تو کچھ نہیں ہو سکتا ۔ اب تو کو ئی معجزہ ہی ہے جو ان کو ہارنے سے بچا لے۔
دراصل پاکستان بھارت کا میچ پاکستانیوں کے لئے کھیل سے کچھ بڑھ کر تھا، ہم لوگ کچھ دیر کے لئے اپنے ملک کے اپنی نجی زندگی کے مسائل کو بھول کر خوشی کا بہانہ چاہتے تھے، دنیا چپ تھی، جب کوئی چوکا لگتا تو سیٹیوں ، شور اور ہوائی فائر نگ کی آواز سنائی دیتی ورنہ سڑکوں پہ گاڑیوں کے ہارن بھی عام دنوں سے کم ہی سنائی دے رہے تھے، ہو کا عالم تھا، اور یہ ہمارے جذبات تھے، توقعات تھیں ، ہمیں اعتماد تھا کہ پاکستان اس بار عالمی کپ جیت کر ہی آئے گا۔ اور پورے ملک میں خوشی پھر سے لوٹ آئے گی۔

پاکستان کے ہارنے پر سب پاکستانیوں کو دکھ ہوا ، سب ہی اداس تھے میں خود دل گرفتہ تھی۔ مگر ہم حقیقت سے منہ نہیں موڑ سکتے ، بات وہی ہے کہ ہمیں تو ہماری قسمت کا ہی ملنا تھا مل گیا۔ اب ہم خوش ہو ں یا اداس اس سے کیا فرق کسی کو نہیں پڑنا ہمارا ہی نقصان ہو نا ہے۔
اشفاق احمد فرماتے ہیں کہ
’’خوش نصیب وہ نہیں ہوتا جس کا نصیب اچھا ہوتا بلکہ خوش نصیب وہ ہوتا ہے جو اپنے نصیب پہ خوش ہو۔‘‘
دنیا امیدپہ قائم ہے اور انسانوں کی زندگی کا انحصار بھی امید پر ہے اگر امید نا ہو پے در پے آئی ناکامیوں اور نقصانات پہ ہم مر جانے کو ترجیح دیں۔
اور ہم آج بھی اسی امید پہ قائم ہیں کہ اب نہیں تو اگلی بار ہم عالمی کب جیتیں گے ہم دنیا کو باور کروایں گے کہ ہم باصلاحیت لوگ ہیں۔
ہار اور جیت تو کھیل کا حصہ ہے کسی ایک فریق کو تو ہارنا ہی ہے۔
خیر میں تو بھولنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ جیسے میں نے میچ دیکھا ہی نہیں
ساری پاکستانی اور ہندوستانی قوم پاگل ہوئی پڑی تھی 30 مارچ کو سیمی فائنل دیکھنے کے لئے، ہندوستا ن میں پوجا پاٹ اور پاکستان میں نمازیں ، نفل اور دعاؤں میں ساری لوگ مشغول عمل تھے۔ جب بھارتی کھیل رہے تھے تو ہر بال پہ یہ دعا کی جاتی تھی کہ آؤٹ ہو جائے، اور جب پاکستانی کھیل رہے تھے تو ہر بال پہ دل دھڑکتا تھا کہ آؤٹ نا ہو جائے اور جب ایسا کو ئی چانس نظر نا آتا تو دعا کرتے کہ چوکا ، چھکا لگ جائے۔
پر جب آفریدی آؤٹ ہو گیا تو میں تو مایوس ہو کر سو گئی کہ بس اب تو کچھ نہیں ہو سکتا ۔ اب تو کو ئی معجزہ ہی ہے جو ان کو ہارنے سے بچا لے۔
دراصل پاکستان بھارت کا میچ پاکستانیوں کے لئے کھیل سے کچھ بڑھ کر تھا، ہم لوگ کچھ دیر کے لئے اپنے ملک کے اپنی نجی زندگی کے مسائل کو بھول کر خوشی کا بہانہ چاہتے تھے، دنیا چپ تھی، جب کوئی چوکا لگتا تو سیٹیوں ، شور اور ہوائی فائر نگ کی آواز سنائی دیتی ورنہ سڑکوں پہ گاڑیوں کے ہارن بھی عام دنوں سے کم ہی سنائی دے رہے تھے، ہو کا عالم تھا، اور یہ ہمارے جذبات تھے، توقعات تھیں ، ہمیں اعتماد تھا کہ پاکستان اس بار عالمی کپ جیت کر ہی آئے گا۔ اور پورے ملک میں خوشی پھر سے لوٹ آئے گی۔

پاکستان کے ہارنے پر سب پاکستانیوں کو دکھ ہوا ، سب ہی اداس تھے میں خود دل گرفتہ تھی۔ مگر ہم حقیقت سے منہ نہیں موڑ سکتے ، بات وہی ہے کہ ہمیں تو ہماری قسمت کا ہی ملنا تھا مل گیا۔ اب ہم خوش ہو ں یا اداس اس سے کیا فرق کسی کو نہیں پڑنا ہمارا ہی نقصان ہو نا ہے۔
اشفاق احمد فرماتے ہیں کہ
’’خوش نصیب وہ نہیں ہوتا جس کا نصیب اچھا ہوتا بلکہ خوش نصیب وہ ہوتا ہے جو اپنے نصیب پہ خوش ہو۔‘‘
دنیا امیدپہ قائم ہے اور انسانوں کی زندگی کا انحصار بھی امید پر ہے اگر امید نا ہو پے در پے آئی ناکامیوں اور نقصانات پہ ہم مر جانے کو ترجیح دیں۔
اور ہم آج بھی اسی امید پہ قائم ہیں کہ اب نہیں تو اگلی بار ہم عالمی کب جیتیں گے ہم دنیا کو باور کروایں گے کہ ہم باصلاحیت لوگ ہیں۔
ہار اور جیت تو کھیل کا حصہ ہے کسی ایک فریق کو تو ہارنا ہی ہے۔
خیر میں تو بھولنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ جیسے میں نے میچ دیکھا ہی نہیں
میں یقین رکھتی ہوں کہ ہر انسان کو ہر لمحے ہر دن اور زندگی میں اُتنا ہی ملتا ہے جتنا کہ اُس کی قسمت ہو، تقدیر تو رب کی ذات نے لکھ دی ہے مگر تدبیر ہمیں ہی کرنی ہے۔ اور ہم کرتے ہیں ، ہر صبح سے شام تک ہم تدبیر کرتے ہیں، ہمیں کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا ، کس راہ پہ چلنا ہے کس پہ نہیں چلنا ، کس کو خوش رکھنا ہے کس سے بات تک نہیں کرنی۔
مگر اس سب کے باوجود ہم وہ بھی کرتے ہیں جو ہم نہیں کرنا چاہتے ، ہم وہ کام بھی کرتے ہیں جس کا انجام اچھا نہیں ہو تا ، ہم جانے انجانے میں لوگوں کو دکھ بھی دیتے ہی اور پھر بھول جاتے ہیں ہم اُس راہ پہ بھی چلتے ہیں جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی،
بقو ل علامہ اقبال
’’ اگر راستہ خوبصورت ہے تو پتا کرو کس منزل کو جاتا ہے لیکن اگر منزل خوبصورت ہے تو راستے کی پروا مت کرو۔‘‘
پر ہم یہ کہاں سوچے ہیں؟؟؟؟ اگر ہم ایسی باتوں پہ عمل کرنے لگ جائیں تو کیا زندگی آسان نا ہو جائے!!
پر مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے نفس کے غلام ہیں، ہر وہ کام کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں جس کا کسی نا کسی کو نقصان ضرور ہوتا ہے۔ پر ہم یہ بھول جاتے ہمارے اندر بھی ایک جج براجمان ہے ، جونا بکتا ہے نا جھکتا ہے ، عین ٹائم پہ آپ کے دماغ میں الارم بجے گا اور ٹک ٹک ٹک ،،آپ کو بلایا جائے گا آپ کو مجرم بنا کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا اور ٖ ثابت کیا جائے گا ’’غلط کیا ،غلط کیا‘‘ پھر فیصلہ بھی ہوجائے گا اُسی وقت!!! سز ا ملنے میں دیر لگے گی ، تب تک آپ خود کو بہلائیں گے ، تسلی دیں گے کہ نہیں سب ٹھیک ہے، آپ کے اندر بے سکونی رہے گی ہلچل رہے گی، پھر ایک دن کچھ ویسا ہی سلوک آپ کے ساتھ کیا جائے گا جو آپ نے کسی اور کے ساتھ کیا ہو گا ، پھر جا کے آپ کو اندازہ ہو گا کہ آپ نےغلط کیا تھا ۔

پر یہ جو سب میں نے لکھا یہ سب اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جن کے ضمیر ابھی زندہ ہوں ، جو لوگ ٖغلطی، گناہ، اور دھوکے دے کر اپنے دل کو کالا کر دیتے ہیں انہیں ایسا کوئی احساس نہیں کیوں کہ اُن کا ضمیر مر چکا ہوتا ہے اُن کے اندر ایک شیطان براجمان ہو جاتا ہے جو ہر فیصلہ ان ہی کہ حق میں کرتا ہے اور وہ بڑے فخر سے سر بلند کرکے کہتے ہیں ہم ٹھیک کر رہے ہیں ، نا صرف یہ بلکہ وہ آپ کو الزام دیں گے آپ پہ چڑھائی کریں گے کہ آپ غلط ہیں۔ ایسے لوگوں کو ایک ہی بار چوٹ لگتی ہے جو ان کی روح کو اندر تک گھائل کر دیتی ہے، پھر جب وہ اپنے آپ سے ملتے ہیں تب اُن کو احساس ہوتا ہے۔پر تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ گزرا وقت لوٹ کر نہیں آسکتا اور پچھتاوے کے سوا اور کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔

ہم دنیا میں آئے ہیں ایک دن جانا بھی ہے۔
یہ دنیا مکافات عمل ہے، یہاں ہر شخص کو اپنے کیے کا حساب دینا ہے، ہر جھوٹ ، ہر دھوکے، ہر فریب ، ہر تکلیف، ہر اذیت جو وہ کسی کو دیتا ہے، اُسے اپنی ذات پہ بھگتنا ہے۔ہر غلط ارادے ، سوچ، عمل کا حساب دینا ہے۔
با با آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی ؟شہر کا رخ بھی کرتے ہیں؟
میں نے آنکھیں موندے بظاہر تھکن سے چُور نظر آنے والے بابا سے پوچھا ۔
’’ ہماری کوئی ایک جگہ مقرر نہیں ہوتی ۔ اور ہمیں خؤد بھی یاد نہیں رہتا کل کہاں تھے ور آج کہاں ہیں‘‘
ان کی آنکھوں نے سرخ ڈوروں نے میرے اندر کچھ خوف سا جگا دیا۔
’’ ہم جاہ جاہ پھرتے ، نگر نگر گھومتے اور پھر چرسا بھر زمین کی چادر اوڑھے سو رہتے ہیں۔ سکون کہیں بھی نہیں ہوتا ۔ بس اپنے اندر ہوتا ہے۔ جس تک پہنچنے کے لئے اندر دھیان لگانا پڑتا ہے۔ یہ جو شخص مٹی کی چادر اوڑھے پڑا ہے نا ۔ برسوں پہلے ایک عام شخص تھا ۔ روٹی ، کپڑا، مکان کے چکر میں ذلیل و خوار ہونے والا شخص ۔ یہاں آیا تو اپنی پریشانیؤن کا حل سو چنے کو اسی پہاڑ پر بیٹھا۔ اور اسے ان کاحل مل گیا اس نے اپنے اندر دھیان لگایا ۔ اور فطرت کی گہرائی میں بھکرے سکون نے اسے اندر کے دھیان میں پکا کر دیا ۔ اور پھر اس نے اس دھیان کو ٹوٹنے نا دیا ۔۔۔۔۔ چھوڑ دیا بس کچھ بس یہیں کا ہو رہا ۔۔۔۔۔ اب تک یہیں ہے‘‘


لیکن کیا ، دنیا میں اپنی ذمہ داریوں سے یوں گھبرا کر ایک کونے میں بیٹھ کر اللہ کے نام کی مالا جپتے رہنا بہت آسان نہیں‘‘
’’کم فہم انسان ہے نا تو عشق کو نہیں جانتا ۔۔۔۔ عشق کی دیوانگی کو کیا سمجھے گا، عشق پہ کسی کا زور ہوتا تو دنیا میں کوئی دیوانہ نا ہوتا، تو عشق کو آسان سمجھتا ہے۔ ایک بھی منزل عبو کر کے دکھا تو تجھے جانوں۔ ہر منزل پہ انگنت کشٹ ہیں اور ساری بات نصیب کی ہے۔ کسی کے نصیب میں عشق ہے اور کسی کے نہیں ‘‘۔


میں بابا کے لہجے میں اپنے لئے کرختگی دیکھ کر سہم سا گیا۔
یوں لگا جیسے میں نے عشق کی تو ہین کر کے بابا کا دل دکھایا ہے۔
’’ بابا عشق کا یقین کیسے آتا ہے۔‘‘
’’یقین، میں تیری کج فہمی پہ حیران ہوں کیا تو نے زندگی میں کبھی عشق نہیں کیا۔ کسی بندے سے بھی نہیں ۔۔۔۔ وہ جو عشق کی پہلے منزل ہے، تجھے اتنا بھی معلوم نہیں کہ عشق تو خود اپنا یقین ہے۔ جب یہ ہو جائے تو اس سے بڑا یقین اور کوئی نہیں رہتا‘‘۔
مجھے اپنے گئے گزرے عشق پہ حقارت ہونے لگی وہ جوہمیشہ بے یقینی کا شکار رہا۔ عین وصل میں ہجر کا ڈر۔۔۔ بہار کی دہلیز پہ خزاں کے خشک پتوں کا اُدھم، مجھے یوں لگا جیسے میرے سامنے ایک ٹھنڈے پانی کا جھڑنا ہے اور میں اس کے قریب پیاس سے مر رہا ہوں۔ میں سوچنے لگا۔

محبت اسقدر بے سکونی اور بے یقینی کیوں دیتی ہے۔ پھر بابا سے نظریں ملانے کی بجائے سورج کی زائل ہونے والی توانائیوں کی آسمان پر بے بسی کا نظارہ کرنے لگا جیسے کوئی اپنے زوال کے تھکے ہارے سفر کو مائل ہو۔
میں بابا سے اور بھی باتیں کرنا چاہتا تھالیکن عشق کے بارے میں اپنی ناسمجھی اور بے خبری کی وجہ سے ڈرتے ہوئے کوئی اور سوال نا کر سکا ۔ میرا دھیان عشق کے سبق سے ٹوٹا نا تھا ۔ کب سے بابا کو خاموشی سے ذکرِ الہٰی کرتے دیکھ رہا تھا۔ بابا نے بہت وقت بیت جانے کے بعد آنکھیں کھولیں اور بولے۔
’’ تو سمجھ رہا ہے کہ تیرا دھیان ٹوٹا نہیں ، تو سمجھ لے کہ تیرا دھیان کبھی عشق سے جڑا ہی نہیں۔ کچی مٹی پہ چھڑکاؤ کرو تو ہرجاہ بھینی بھینی خوشبو پھوٹتی ہے۔ اس خوشبو کے لئے مٹی ہزاروں سال سے چلچلاتی دھوپ میں جلتی بلتی چلی آ رہی ہے۔ وہ اگر دھوپ میں نا جلتی تو پانی چھڑکا ؤ اس کے وجود میں مہک کے بھانبھڑ نا مچاتا۔ من کو عشق کی خوشبو دینے کے لیے تن کو دکھوں اور آزمائشوں کی دھوپ میں جلانا پڑتا ہے۔ تو دنیا کے مقام مرتبے کا دھنی ، تیرا گزر عاشق کے بے سروسامان راستے سے کہاں؟؟
دیکھ بچے ہر روح تلاش کے سفر میں ہے۔ حقیقت کے باطن میں چھپے اسرار کی تلاش ، محدود سے لا محدود کے رستے کی تلاش، منظر جو سامنے ہے بڑا دلکش ہے، دلفریب ہے لیکن منظر جو پوشیدہ ہے وہی اصل ہے۔ منظر سے دھیان ہٹا کر پسِ منظر کو کریدنا اتنا آسان نہیں جتنا تو سمجھتا ہے۔ ظاہر کے بدن کو چیر کر باطن میں اترنا اتنا سہل نہیں جتنا تیرے گمان میں ہے۔ ٕمحدود کت سکون کو چھوڑ کر لامحدود کے اضطراب میں قدم رکھنا اتنا آسان ہوتا تو سب جستجو کرنے والے بامراد ہو جاتے۔ محدود سے آگے دیکھنے کے لیے وہ نظر چاہیے جو عشق ہی دے سکتا ہے۔ عشق ہی وہ طاقت ہے جو ظاہر کو چیر کر باطن میں اتر جانے کو اسلوب سکھاتی ہے۔ ہاں واحد نام عشق کا قائم ۔۔ باقی ہر اک شے فانی۔‘‘
" تمہیں بھی اپنے لیے کوئی راہ تلاش کرنا ہو گی سیمی ،،،،، پیچھے رہ جانے والوں کے لیے اور کوئی صورت نہیں ہوتی !"


وہ محبت کے ترازو میں برابر کا تلنا چاہتی تھی اور دوسری طرف مجھے کوئی ایسا بٹہ رکھنا نہیں آتا تھا جس کی وجہ سے اس کا توازن ٹھیک ہو جاتا۔ اگر میں آفتاب کو خوش ظاہر کرتا تو وہ تنفر کی صورت میں بے قابو ہو جاتی ، اگر میں اسے اداس ظاہر کرتا تو بے یقینی ، ناامیدی اور شدید غم تلے دب کر آہیں بھرنے لگتی، محبت کا آرا اوپر تلے برابر اس کے تختے کاتتا چلا جا رہا تھا۔


میں سوشیالوجی کے طالبعلم کی طرح سوچنے لگا کہ جب انسان نے سوسائیٹی کو تشکیل دیا ہو گا تو یہ ضرورت محسوس کی ہو گی کہ فرد علیحدہ علیحدہ مطمئن زندگی بسر نہیں کر سکتے، باہمی ہمدردی ، میل جول اور ضروریات نے معاشرہ کو جنم دیا ہو گا، لیکن رفتہ رفتہ سوسائٹی اتنی پیچ در پیچ ہو گئی کہ باہمی میل جول ، ہمدردی اور ضرورت نے تہذیب کے جذباتی انتشار کا بنیادی پتھر رکھا ۔ جس محبت کے تصور کے بغیر معاشرے کی تشکیل ممکن نہ تھی شاید اسی محبت کو مبالغہ پسند انسان نے خداہی سمجھ لیا اور انسان دوستی کو انسانیت کی معراج ٹھہرایا ،پھر یہی محبت جگہ جگہ نفرت حقارت اور غصے سے زیادہ لوگوں کی زندگیا سلب کرنے لگی ، محبت کی خاطر قتل ہونے لگے ، خود کشی وجود میں آئی ،،،،، سوسائٹی اغوا سے شبخون سے متعارف ہوئی ، رفتہ رفتہ محبت ہی سوسائٹی کا ایک بڑا روگ بن گئی ، اس جن کو ناپ کی بوتل میں بند رکھنا معاشرے کے لیے ممکن نہ رہا ، اب محبت کے وجود یا عدم وجود پر ادب پیدا ہونے لگا ، بچوں کی سائیکالوجی جنم لینے لگی ، محبت کے حصول پر مقدمے ہونے لگے ، ساس بن کر ماں ڈائن کا روپ دھارنے لگی ، معاشرے میں محبت کے خمیر کی وجہ سے کئی قسم کا ناگوار بیکٹیریا پیدا ہوا۔
نفرت کا سیدھا سادا شیطانی روپ ھے ۔ محبت سفید لباس میں ملبوس عمرو عیار ھے ، ہمیشہ دو راہوں پر لا کھڑا کر دیتی ھے ۔ اس کی راہ پر ہر جگہ راستہ دکھانے کو صلیب کا نشان گڑا ہوتا ھے ، محبتی جھمیلوں میں کبھی فیصلہ کن سزا نہیں ہوتی ہمیشہ عمر قید ہوتی ھے ، جس معاشرے نے محبت کو علم بنا کر آگے قدم رکھا وہ اندر ہی اندر اس کے انتظار سے بری طرح متاثر بھی ہوتی چلی گئی۔ جائز و ناجائز محبت کے کچھ ٹریفک رولز بنائے لیکن ہائی سپیڈ معاشرے میں ایسے سپیڈ بریکر کسی کام کے نہیں ہوتے کیونکہ محبت کا خمیر ہی ایسا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زیادہ خمیر لگ جائے تو بھی سوسائٹی پھول جاتی ھے ، کم رہ جائے تو بھی پپڑی کی طرح تڑخ جاتی ھے ۔
شکست و ریخت، بد بختی و سوختہ سامانی ۔

آج تک سوسائٹی جرائم کی بیخ کنی پر اپنی تمام قوت استعمال کرتی رہی ھے ، اس نے اندازہ نہیں لگایا کہ کتنے گھروں میں کتنے مسلکوں میں سارا نقص ہی محبت سے پیدا ہوتا ھے ، سوسائٹی کا بنیادی تضاد ہی یہ ھے کہ ابھی تک وہ محبت کا علم اٹھائے ہوئے ھے حالانکہ وہ اس کے ہاتھوں توفیق بھر تکلیف اٹھا چکی ھے ، جب تک یہ ن دوبارہ بوتل میں بند نہیں ہو جاتا اور اس کے ٹریفک رولز مقرر نہیں ہوتے ، تب تک شانتی ممکن نہیں کیونکہ محبت کا مزاج ہوا کی طرح ھے کہیں ٹکتا نہیں اور معاشرے کو کسی ٹھوس چیز کی ضرورت ھے ۔
وہ کہتا تھا۔
جب میری بیوی مجھ پہ الزام دھرتی اور وہ اکثر مجھ پہ الزام دھرتی تھی، اس وقت میرا جی چاہتا کہ اسے کہوں بی بی میرا قصور نہیں ہےعین اُس وقت قدرت اللہ شھاب میرے منہ پہ ہاتھ رکھ دیتا اور اور کہتا وہ جو کہتی ہے مان تو کہہ ہان جی ۔ جھگڑا نا کرو۔ مان لینے میں برا سُکھ ہے۔
میں بڑا عفیل آدمی ہوں اور میرا غصہ سُدھ بُدھ مار دینے والا ہے۔ا ِک جھکڑ چلتا ہے ٹہنی ٹہنی پتا پتا گزرتا ہے اور پھر وہی گرد۔
جب مجھے غصہ آتا تو قدرت اللہ میرے کان میں کہتا چھلنی بن جاؤ اس جھکڑ کو گزر جانے دو اندر رُکے نہیں۔ روکو گے تو چینی کی دکان میں ہاتھی گھس آئے گا۔ غصہ کھانے ی نہیں پینے کی چیز ہے۔
جب میں کسی چیز کے حصول کے لئے کوشش بار بار کو شش کرتا تو قدرت اللہ کی آواز آتی ضد نا کرو اللہ کو اجازت دو اپنی مرضی کو کام میں لائے۔
جب میں دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا تو وہ کہتا نا ہار جاؤ۔ ہار جاؤ ۔ ہار جانے میں ہی جیت ہے۔
جب بھی میں تھکا ہوتا کوئی مریض دوا لینے آتا تو میں اُسے ٹالنے کی سوچتا تو قدرت اللہ کہتا دے دو دوا ، شاید اللہ کو تمھاری یہی ادا پسند آ جائے۔
یہ وہ سبق ہے جو ہماری روز مرہ کی زندگی میں کام آ سکتا ہے۔ کتنی آسان باتیں ہیں اگر ہم سمجھیں تو عمل کرنا بھی آسان ہوجائے گا:)

Total Pageviews

Powered By Blogger

Contributors

Followers