" تمہیں بھی اپنے لیے کوئی راہ تلاش کرنا ہو گی سیمی ،،،،، پیچھے رہ جانے والوں کے لیے اور کوئی صورت نہیں ہوتی !"
وہ محبت کے ترازو میں برابر کا تلنا چاہتی تھی اور دوسری طرف مجھے کوئی ایسا بٹہ رکھنا نہیں آتا تھا جس کی وجہ سے اس کا توازن ٹھیک ہو جاتا۔ اگر میں آفتاب کو خوش ظاہر کرتا تو وہ تنفر کی صورت میں بے قابو ہو جاتی ، اگر میں اسے اداس ظاہر کرتا تو بے یقینی ، ناامیدی اور شدید غم تلے دب کر آہیں بھرنے لگتی، محبت کا آرا اوپر تلے برابر اس کے تختے کاتتا چلا جا رہا تھا۔
میں سوشیالوجی کے طالبعلم کی طرح سوچنے لگا کہ جب انسان نے سوسائیٹی کو تشکیل دیا ہو گا تو یہ ضرورت محسوس کی ہو گی کہ فرد علیحدہ علیحدہ مطمئن زندگی بسر نہیں کر سکتے، باہمی ہمدردی ، میل جول اور ضروریات نے معاشرہ کو جنم دیا ہو گا، لیکن رفتہ رفتہ سوسائٹی اتنی پیچ در پیچ ہو گئی کہ باہمی میل جول ، ہمدردی اور ضرورت نے تہذیب کے جذباتی انتشار کا بنیادی پتھر رکھا ۔ جس محبت کے تصور کے بغیر معاشرے کی تشکیل ممکن نہ تھی شاید اسی محبت کو مبالغہ پسند انسان نے خداہی سمجھ لیا اور انسان دوستی کو انسانیت کی معراج ٹھہرایا ،پھر یہی محبت جگہ جگہ نفرت حقارت اور غصے سے زیادہ لوگوں کی زندگیا سلب کرنے لگی ، محبت کی خاطر قتل ہونے لگے ، خود کشی وجود میں آئی ،،،،، سوسائٹی اغوا سے شبخون سے متعارف ہوئی ، رفتہ رفتہ محبت ہی سوسائٹی کا ایک بڑا روگ بن گئی ، اس جن کو ناپ کی بوتل میں بند رکھنا معاشرے کے لیے ممکن نہ رہا ، اب محبت کے وجود یا عدم وجود پر ادب پیدا ہونے لگا ، بچوں کی سائیکالوجی جنم لینے لگی ، محبت کے حصول پر مقدمے ہونے لگے ، ساس بن کر ماں ڈائن کا روپ دھارنے لگی ، معاشرے میں محبت کے خمیر کی وجہ سے کئی قسم کا ناگوار بیکٹیریا پیدا ہوا۔
نفرت کا سیدھا سادا شیطانی روپ ھے ۔ محبت سفید لباس میں ملبوس عمرو عیار ھے ، ہمیشہ دو راہوں پر لا کھڑا کر دیتی ھے ۔ اس کی راہ پر ہر جگہ راستہ دکھانے کو صلیب کا نشان گڑا ہوتا ھے ، محبتی جھمیلوں میں کبھی فیصلہ کن سزا نہیں ہوتی ہمیشہ عمر قید ہوتی ھے ، جس معاشرے نے محبت کو علم بنا کر آگے قدم رکھا وہ اندر ہی اندر اس کے انتظار سے بری طرح متاثر بھی ہوتی چلی گئی۔ جائز و ناجائز محبت کے کچھ ٹریفک رولز بنائے لیکن ہائی سپیڈ معاشرے میں ایسے سپیڈ بریکر کسی کام کے نہیں ہوتے کیونکہ محبت کا خمیر ہی ایسا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زیادہ خمیر لگ جائے تو بھی سوسائٹی پھول جاتی ھے ، کم رہ جائے تو بھی پپڑی کی طرح تڑخ جاتی ھے ۔
شکست و ریخت، بد بختی و سوختہ سامانی ۔
آج تک سوسائٹی جرائم کی بیخ کنی پر اپنی تمام قوت استعمال کرتی رہی ھے ، اس نے اندازہ نہیں لگایا کہ کتنے گھروں میں کتنے مسلکوں میں سارا نقص ہی محبت سے پیدا ہوتا ھے ، سوسائٹی کا بنیادی تضاد ہی یہ ھے کہ ابھی تک وہ محبت کا علم اٹھائے ہوئے ھے حالانکہ وہ اس کے ہاتھوں توفیق بھر تکلیف اٹھا چکی ھے ، جب تک یہ ن دوبارہ بوتل میں بند نہیں ہو جاتا اور اس کے ٹریفک رولز مقرر نہیں ہوتے ، تب تک شانتی ممکن نہیں کیونکہ محبت کا مزاج ہوا کی طرح ھے کہیں ٹکتا نہیں اور معاشرے کو کسی ٹھوس چیز کی ضرورت ھے ۔
وہ کہتا تھا۔
جب میری بیوی مجھ پہ الزام دھرتی اور وہ اکثر مجھ پہ الزام دھرتی تھی، اس وقت میرا جی چاہتا کہ اسے کہوں بی بی میرا قصور نہیں ہےعین اُس وقت قدرت اللہ شھاب میرے منہ پہ ہاتھ رکھ دیتا اور اور کہتا وہ جو کہتی ہے مان تو کہہ ہان جی ۔ جھگڑا نا کرو۔ مان لینے میں برا سُکھ ہے۔
میں بڑا عفیل آدمی ہوں اور میرا غصہ سُدھ بُدھ مار دینے والا ہے۔ا ِک جھکڑ چلتا ہے ٹہنی ٹہنی پتا پتا گزرتا ہے اور پھر وہی گرد۔
جب مجھے غصہ آتا تو قدرت اللہ میرے کان میں کہتا چھلنی بن جاؤ اس جھکڑ کو گزر جانے دو اندر رُکے نہیں۔ روکو گے تو چینی کی دکان میں ہاتھی گھس آئے گا۔ غصہ کھانے ی نہیں پینے کی چیز ہے۔
جب میں کسی چیز کے حصول کے لئے کوشش بار بار کو شش کرتا تو قدرت اللہ کی آواز آتی ضد نا کرو اللہ کو اجازت دو اپنی مرضی کو کام میں لائے۔
جب میں دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا تو وہ کہتا نا ہار جاؤ۔ ہار جاؤ ۔ ہار جانے میں ہی جیت ہے۔
جب بھی میں تھکا ہوتا کوئی مریض دوا لینے آتا تو میں اُسے ٹالنے کی سوچتا تو قدرت اللہ کہتا دے دو دوا ، شاید اللہ کو تمھاری یہی ادا پسند آ جائے۔
یہ وہ سبق ہے جو ہماری روز مرہ کی زندگی میں کام آ سکتا ہے۔ کتنی آسان باتیں ہیں اگر ہم سمجھیں تو عمل کرنا بھی آسان ہوجائے گا:)
جب میری بیوی مجھ پہ الزام دھرتی اور وہ اکثر مجھ پہ الزام دھرتی تھی، اس وقت میرا جی چاہتا کہ اسے کہوں بی بی میرا قصور نہیں ہےعین اُس وقت قدرت اللہ شھاب میرے منہ پہ ہاتھ رکھ دیتا اور اور کہتا وہ جو کہتی ہے مان تو کہہ ہان جی ۔ جھگڑا نا کرو۔ مان لینے میں برا سُکھ ہے۔
میں بڑا عفیل آدمی ہوں اور میرا غصہ سُدھ بُدھ مار دینے والا ہے۔ا ِک جھکڑ چلتا ہے ٹہنی ٹہنی پتا پتا گزرتا ہے اور پھر وہی گرد۔
جب مجھے غصہ آتا تو قدرت اللہ میرے کان میں کہتا چھلنی بن جاؤ اس جھکڑ کو گزر جانے دو اندر رُکے نہیں۔ روکو گے تو چینی کی دکان میں ہاتھی گھس آئے گا۔ غصہ کھانے ی نہیں پینے کی چیز ہے۔
جب میں کسی چیز کے حصول کے لئے کوشش بار بار کو شش کرتا تو قدرت اللہ کی آواز آتی ضد نا کرو اللہ کو اجازت دو اپنی مرضی کو کام میں لائے۔
جب میں دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا تو وہ کہتا نا ہار جاؤ۔ ہار جاؤ ۔ ہار جانے میں ہی جیت ہے۔
جب بھی میں تھکا ہوتا کوئی مریض دوا لینے آتا تو میں اُسے ٹالنے کی سوچتا تو قدرت اللہ کہتا دے دو دوا ، شاید اللہ کو تمھاری یہی ادا پسند آ جائے۔
یہ وہ سبق ہے جو ہماری روز مرہ کی زندگی میں کام آ سکتا ہے۔ کتنی آسان باتیں ہیں اگر ہم سمجھیں تو عمل کرنا بھی آسان ہوجائے گا:)
کچھ عرصہ پہلے میں نے اردو ویب کی لائبریری کے لیے ایک کتاب ’حسنِ خیال‘ کے چند صفحات کو یونی کوڈ میں لکھا تھا۔ ان میں سے مجھے جو پسند اور سمجھ آیا سوچا اُسے الگ سے یہاں پوسٹ کروں۔
’’حضرت بہلول رضی اللہ عنہ نے ایک درویش سے پوچھا کہ تمھاری زندگی کیسی گزرتی ہے؟
درویش نے کہا: تمام عالم میرے اشاروں پہ چل رہا ہے،
بہلول نے اس اجما ل کی تفصیل پوچھی ،
درویش نے جواب دیا: یہ سُن لو کہ تمام کام اُسی کے حکم سے ہوتے ہیں ۔
توخدا کی مرضی اور بندے کی خواہش ایک ہی چیز ہے۔ اس لئے میں وہ چاہتا ہوں جو ہو رہا ہے۔ اور جو ہوتا ہے یعنی میں نے اپنی خواہش کو رضائے الہٰی میں فنا کر دیا ہے۔ اس لئے زمین آسمان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے میری مرضی کے موافق ہو رہاہے۔
اس لئے میں وہ ہوں کہ ،
دریا اور سیلاب میری مرضی سے چلتے ہیں،
ستارے میرے کہنےکے مطابق گردش کرتے ہیں،
میری مرضی کے بغیر ایک پتا درخت سے نہیں گرتا،
میری مرضی کے بغیر کو ئی موت واقع نہیں ہوتی،
میری مرضی کے بغیر زمین سے آسمان تک ایک بھی اگ جنبش نہیں کرسکتی‘‘۔۔۔
’’حضرت بہلول رضی اللہ عنہ نے ایک درویش سے پوچھا کہ تمھاری زندگی کیسی گزرتی ہے؟
درویش نے کہا: تمام عالم میرے اشاروں پہ چل رہا ہے،
بہلول نے اس اجما ل کی تفصیل پوچھی ،
درویش نے جواب دیا: یہ سُن لو کہ تمام کام اُسی کے حکم سے ہوتے ہیں ۔
توخدا کی مرضی اور بندے کی خواہش ایک ہی چیز ہے۔ اس لئے میں وہ چاہتا ہوں جو ہو رہا ہے۔ اور جو ہوتا ہے یعنی میں نے اپنی خواہش کو رضائے الہٰی میں فنا کر دیا ہے۔ اس لئے زمین آسمان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے میری مرضی کے موافق ہو رہاہے۔
اس لئے میں وہ ہوں کہ ،
دریا اور سیلاب میری مرضی سے چلتے ہیں،
ستارے میرے کہنےکے مطابق گردش کرتے ہیں،
میری مرضی کے بغیر ایک پتا درخت سے نہیں گرتا،
میری مرضی کے بغیر کو ئی موت واقع نہیں ہوتی،
میری مرضی کے بغیر زمین سے آسمان تک ایک بھی اگ جنبش نہیں کرسکتی‘‘۔۔۔
میں پچھلے تین دن سے بخا ر میں مبتلا ہوں۔ ایسا بھی نہیں بخار مجھے مسلسل رہا ہے۔ کافی دنوں سے گلا خراب ہو رہا تھا اور تین دن پہلے رات کو ذرا کھانسی کا دورہ پڑا اور صبح بخار۔ دوپہر کو ٹھیک ہوگئی تھی رات کو پھر بخار ہوگیا، اگلے دن بالکل تھی یہ بھی نہیں تھا کہ بخار کے بعد کمزوری محسوس ہو رہی ہو۔ مگر اسی شام پھر بخار ہوگیا۔ اور کل پھر ٹھیک ہو گئی تھی بس یہ سوچا تھا کہ اب ذرا بیڈ ریسٹ کو لوں تاکہ مکمل طور پہ ٹھیک ہو جاؤں پھر بستر کی جان چھوڑ دو ں گی۔
آج رات پھر کھانسی کو دورہ پڑا تھا 2 بجے تھے تب اماں بھی اٹھی تھیں میں نے اماں کو کہا مجھے بھی پانی لا دیں ۔ انہوں نے پانی لا دیا اور میں کھانسی کا شربت پیا۔ اس کے بعد چل سو چل۔ کبھی نیند آجاتی کبھی آنکھ کھل جاتی۔ اسی اثناٰ میں وقت دیکھا تو 5:27 ہو گئے تھے۔ سوچا اماں کو جگا دوں ناشتہ بنا لیں یہی سوچتے پھر سے آنکھ لگ گئی۔ 6 بجے اماں نے لائٹ آن کی تو میں بھی جاگ گئی۔
یہ سب تو میں نے مختصراً حال بتا یا ہے آ پ کو۔ اب آگے چلیے مجھے جو یہ لگ رہا تھا میں ٹھیک ہو گئی ہوں، تو میں نے سوچا نیند تو آنہیں رہی کیوں نا ذرا اماں کے ساتھ جا کے ہا تھ بٹا لیا جائے ۔ ہڈیاں بھی ڈھیٹ ہوگئی تھی آرام کرکر کے لچک ہی ختم ہو گئی تھی۔ میں اٹھنے لگی تو میری گردن میں بل پڑ گیا ۔ اور میں اٹھ کے بیٹھی تو مجھے لگا کہ میرے اندر بہت سی زہریلی گیسیں جمع ہو گئی ہیں سانس لینا مشکل ہو گیا ۔ اس سے پہلے کہ قے آجاتی میں آہستہ سے کھڑی ہوئی اور چپل پہنی۔ دروازہ کھولا اور میرے ذہن کی بتیاں بجھنے لگ گئیں۔ اس سے پہلے کی سب ہی بتیاں بجھ جاتیں میں 6 قدم کا فاصلہ طے کیا اور واقع اندھیرا چھا گیا اور بے بسی کی آخری حدوں کو چھوتے ہو ئے اور اپنے حواسوں کو بحال کرنے کی ناکام کوشش میں ، میں گر پڑی اور گرتے ہوئے آخری لفظ جو میرے منہ سے نکلا"امی"
امی کچن میں تھیں کہنے لگی کیا ہوا ؟
میں نے جواب نہیں دیا تو خود اٹھ کے آئیں مجھے گرا ہو ا دیکھ کے اٹھا یا ، کہنے لگی ایسے کیوں چلی آئی۔ خیر کوئی 1 منٹ کے بعد میرے حواس بحال ہوئے تو میں پانی کے نل کے قریب گئی۔ امی نے پوچھا کیا ہوا ہے؟ میں نےاشارے سے کہا قے آرہی ہے۔ اگلے ایک منٹ میں اسی کیفیت میں رہی کہ جیسے ابھی قے آجائے گی مگر میرے معدے میں پانی کے ایک بوند میں بھی ہلچل نہیں ہوئی۔
اس لئے کہ میں نے رات کو کچھ کھا یا ہی نہیں تھا۔
اگلے لمحے میرا سارا جسم پسینےسے ایسے شرابور تھا جیسے جون جولائی میں بجلی کے چلے جانے پہ ہوتا ہے اور اس سے اگلہ لمحہ اِس سے بھی حیران کن تھا میں کھڑ ی ہوئی تو ایسے ٹھنڈی پڑ گئی جیسے برف کی سِل میں لگا دیا ہو یہاں تک کے میرے کانوں سے سردی نکل رہی تھی۔ جو بھی تھا بہت عجیب تھا۔ میں نے کُلی کی اور چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی کمرے میں اور بستر پہ لیٹ گئی۔
اب اپنے پاؤں پہ کھڑا نہیں ہوا جارہا۔ دھوپ میں بیٹھتی ہوں تو گرمی لگتی چھاؤں میں بیٹھتی ہوں تو سردی لگتی ہے۔ سر ابھی بھی بہت بھاری ہے۔ اور میں سوچ رہی ہوں ابھی میں نے اتوار والے دن ہی دوست کو کہا تھا یار بخار ہی نہیں ہوتا بندہ ذرا خدمت ہی کروا لیتا ہے۔ !!!!!!
آج رات پھر کھانسی کو دورہ پڑا تھا 2 بجے تھے تب اماں بھی اٹھی تھیں میں نے اماں کو کہا مجھے بھی پانی لا دیں ۔ انہوں نے پانی لا دیا اور میں کھانسی کا شربت پیا۔ اس کے بعد چل سو چل۔ کبھی نیند آجاتی کبھی آنکھ کھل جاتی۔ اسی اثناٰ میں وقت دیکھا تو 5:27 ہو گئے تھے۔ سوچا اماں کو جگا دوں ناشتہ بنا لیں یہی سوچتے پھر سے آنکھ لگ گئی۔ 6 بجے اماں نے لائٹ آن کی تو میں بھی جاگ گئی۔
یہ سب تو میں نے مختصراً حال بتا یا ہے آ پ کو۔ اب آگے چلیے مجھے جو یہ لگ رہا تھا میں ٹھیک ہو گئی ہوں، تو میں نے سوچا نیند تو آنہیں رہی کیوں نا ذرا اماں کے ساتھ جا کے ہا تھ بٹا لیا جائے ۔ ہڈیاں بھی ڈھیٹ ہوگئی تھی آرام کرکر کے لچک ہی ختم ہو گئی تھی۔ میں اٹھنے لگی تو میری گردن میں بل پڑ گیا ۔ اور میں اٹھ کے بیٹھی تو مجھے لگا کہ میرے اندر بہت سی زہریلی گیسیں جمع ہو گئی ہیں سانس لینا مشکل ہو گیا ۔ اس سے پہلے کہ قے آجاتی میں آہستہ سے کھڑی ہوئی اور چپل پہنی۔ دروازہ کھولا اور میرے ذہن کی بتیاں بجھنے لگ گئیں۔ اس سے پہلے کی سب ہی بتیاں بجھ جاتیں میں 6 قدم کا فاصلہ طے کیا اور واقع اندھیرا چھا گیا اور بے بسی کی آخری حدوں کو چھوتے ہو ئے اور اپنے حواسوں کو بحال کرنے کی ناکام کوشش میں ، میں گر پڑی اور گرتے ہوئے آخری لفظ جو میرے منہ سے نکلا"امی"
امی کچن میں تھیں کہنے لگی کیا ہوا ؟
میں نے جواب نہیں دیا تو خود اٹھ کے آئیں مجھے گرا ہو ا دیکھ کے اٹھا یا ، کہنے لگی ایسے کیوں چلی آئی۔ خیر کوئی 1 منٹ کے بعد میرے حواس بحال ہوئے تو میں پانی کے نل کے قریب گئی۔ امی نے پوچھا کیا ہوا ہے؟ میں نےاشارے سے کہا قے آرہی ہے۔ اگلے ایک منٹ میں اسی کیفیت میں رہی کہ جیسے ابھی قے آجائے گی مگر میرے معدے میں پانی کے ایک بوند میں بھی ہلچل نہیں ہوئی۔
اس لئے کہ میں نے رات کو کچھ کھا یا ہی نہیں تھا۔
اگلے لمحے میرا سارا جسم پسینےسے ایسے شرابور تھا جیسے جون جولائی میں بجلی کے چلے جانے پہ ہوتا ہے اور اس سے اگلہ لمحہ اِس سے بھی حیران کن تھا میں کھڑ ی ہوئی تو ایسے ٹھنڈی پڑ گئی جیسے برف کی سِل میں لگا دیا ہو یہاں تک کے میرے کانوں سے سردی نکل رہی تھی۔ جو بھی تھا بہت عجیب تھا۔ میں نے کُلی کی اور چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی کمرے میں اور بستر پہ لیٹ گئی۔
اب اپنے پاؤں پہ کھڑا نہیں ہوا جارہا۔ دھوپ میں بیٹھتی ہوں تو گرمی لگتی چھاؤں میں بیٹھتی ہوں تو سردی لگتی ہے۔ سر ابھی بھی بہت بھاری ہے۔ اور میں سوچ رہی ہوں ابھی میں نے اتوار والے دن ہی دوست کو کہا تھا یار بخار ہی نہیں ہوتا بندہ ذرا خدمت ہی کروا لیتا ہے۔ !!!!!!
جب میں میٹرک میں تھی تو ہم اکثر اردو کے پیراگراف کا انگلش میں ترجمعہ کیا کرتے تھے ، ان میں ایک پیراگراف کی لائن مجھے بہت اچھی لگتی تھی جو مجھے ابھی تک یاد ہے،"زندگی کے نشیب و فراز میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب انسان نااُمید ہوجاتا ہے ، مگر اب جا کے مجھے اس کا مطلب سمجھ میں آیا ہے ۔
ہمارے ملک کے موجودہ حالات جن میں، دہشت گردی ، قتل و غارت ، ڈاکہ زنی ، چوری چکاری، دھوکہ دہی بڑی عام باتیں ہیں ۔ اس کے علاوہ مذہب سے دوری اور لوگوں کے رویے ہمیں مایوس کرنے کو کافی ہیں۔ ان حالات میں جب انسان گھر سے نکلتا ہےتو اُسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ زندہ واپس بھی آئے گا کہ نہیں ، کسی بم دھماکے کی نذرہو جائے گا ! یا راستے میں لوٹ لیا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ سب انسا ن کو مایوس اور ذہنی طور پر مفلوج کرنے کے لئے کافی نہیں ہے، ایسے میں کس طرح نوجوان نسل کی میں کام کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گی ۔ غریب لوگ اپنے بچوں کی دو وقت کی روٹی کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں ۔ مہنگائی نے سب کو متاثر کیا ہے۔
لیکن پھر بھی امید کے سہارے ہی دنیا قائم ہے ۔ کل میں ایک ڈائجسٹ پڑھ رہی تھی تو مجھے ایک بات بہت اچھی لگی، . ضروری یہ نہیں ہوتا کہ ہمیں خوش رہنے کے لیے کتنی آسائشیں درکار ہیں بلکہ ضروری یہ ہوتا ہے ہم کتنی آسائشیوں میں خوش رہنا سیکھ جاتے ہیں"! اور اگر ہم اس بات کو یوں لے لیں کہ ضروری یہ نہیں کہ ہم مایوس کتنے ہیں ؟ ہمارے اردگرد مشکلات اور الجھنوں کا گھیر ا کتنا تنگ ہے بلکہ ضروری یہ ہے کہ ان مشکلات اور الجھنوں کے جال میں ہم ایک چھوٹی سی خوشی کو کس طر ح تلاش کرسکتے ہیں؟ زندگی شطرنج کی بازی کی طرح ہے۔ جب سارے راستے بند ہوجائیں تو ایک راستہ ضرور کھلا ہوتا ہے اور اُسی ایک راستے کو تلاش کرنے کے لئے ہمیں اپنے ذہین کی تمام کھڑ کیاں کھلی رکھنی ہو تی ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں" ایک در بند سو کھلے" ہم زندگی میں اکثر اس لیے مایوس ہوجاتے ہیں کہ ہم اپنے نفس کو بے لگام چھوڑ دیتے ہیں ، اس کی ہر خواھش کو پورا کرنا چاہتے ہیں ۔ انسان اگر نفس کے تقاضوں کو پورا کرنے لگے تو نفس بہت طاقتور ہوجاتا ہے اور انسا ن نفس کا غلام بن جاتا ہے۔ اور اگر ہم نفس کو پسپا رکھیں اور خو د کو مار دیں تو ہم انسا نیت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہو سکتے ہیں۔
مگر آج کا انسان! مایوس ہوکر اپنی ہی زندگی کو ختم کرنے کے درپے ہوجاتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ مر کر وہ تمام حالات سے نجات پا لے گا۔ میں نے محفل پہ ہی "کھیل ہی کھیل کے ایک دھاگے میری ڈائر ی کا ایک ور ق " پہ بوچھی اپیا کا ایک پیغام پڑھاتھا۔ جو کہ شاید کچھ ایسے تھا
" بے بسی کے دن لمبے اور راتیں چھوٹی ہوتیں ہیں ۔ ناکام ی کے بارے میں نا سوچا کرو ایسی سوچیں انسا ن کے ذہن کو کمزور اور لاغر بنو دیتیں ہیں ۔ ناکامی کو نصیب سمجھ کر قبول کر لینا چاہئے جس کا دائرہ مہکنے میں وسیع اور سمجھنے میں محدود ہوتا ہے"
مگر ان سے باوجود ہم انسا ن ہیں اور ہم مایوس ہوتے ہیں ۔ میں خود بھی مایوسی کا شکار ہوتی ہوں اور مایوسی بھی انتہا کی۔ مگر ایسے میں جب لوگوں کے رویے مجھے مایوس کر دیں اور مجھے دنیا میں کو ئی اپنا نا نظر آئے اور مجھے لگے کہ میں کسی سے اپنی پریشانی نہیں کہہ سکتی ہوں اور مجھے لگے کہ مجھے میری طرح کوئی نہیں سمجھ سکتا ۔ نہر میں بھی اگر پانی اس کی اوقات سے زیادہ ہوجائے تو اس کے کناروں سے باہر آنے لگتا ہے ۔ اسی طرح وہ سب کچھ جب میری آنکھوں سے عیاں ہونے لگے ، تو میں شیشے کے سامنے بیٹھ جاتی ہوں اور اپنی پریشانی اپنی ذات سے کہتی ہوں۔ یا شام کو ڈوبتے سورج کے وقت اکیلی چھت پے جا کے آلتی پالتی مار کے بیٹھ جاتی ہوں ۔ کچھ دیر فرش پہ لکیریں کھنچتی ہوں ۔ پھر دیرتک ان کو خالی ذہین کے ساتھ تکتی رہتی ہوں ، پھر اپنی ذات کا محاصر کرتی ہوں اپنے اعمال کا جائزہ لیتی ہوں۔ ناکامی اور مایوسی کے بادل ذہن میں اندھیرا کر دیتے ہیں اور پھر بارش ہونے لگتی ہے، رب کو پکارتی ہوں ، اس سے گلہ کرتی ہوں شکوہ کرتی ہوں ، پھر خودہی معافی مانگتی ہوں، پھر دعا کرتی ہوں اور دعا میں صرف سکون مانگتی ہوں ۔ یا میں نمازپڑھتے ہوئے ہر سجدے میں روتی ہوں۔پتا نہیں کہاں سے آجاتے ہیں اتنے آنسو! اور حیر ت کی بات ہے میرا ذہین ہلکا ہو جاتا ہے ۔ پر یہ سب میں کسی کے سامنے نہیں کرتی کہ لوگ مجھے پاگل خیال کریں گے۔ شاید آپ میں سے بھی کو ئی شیشے کے سامنے بیٹھ کر باتیں کرنے والے کو اکثر پاگل ہی سمجھے۔
مگر سچ تو یہ کہ میں اپنی نفسیات جانتی ہوں اور مجھے پتا ہے کہ میں نے ناعمہ کو کیسے قابو میں رکھنا ہے ، اور کیسے کسی انتہائی قدم سے کسی غلط راستے سے روکنا ہے۔
یہ تو رہی میں ، آپ کیسے اپنے آپ کو قابو کرتے ہیں؟
ہمارے ملک کے موجودہ حالات جن میں، دہشت گردی ، قتل و غارت ، ڈاکہ زنی ، چوری چکاری، دھوکہ دہی بڑی عام باتیں ہیں ۔ اس کے علاوہ مذہب سے دوری اور لوگوں کے رویے ہمیں مایوس کرنے کو کافی ہیں۔ ان حالات میں جب انسان گھر سے نکلتا ہےتو اُسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ زندہ واپس بھی آئے گا کہ نہیں ، کسی بم دھماکے کی نذرہو جائے گا ! یا راستے میں لوٹ لیا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ سب انسا ن کو مایوس اور ذہنی طور پر مفلوج کرنے کے لئے کافی نہیں ہے، ایسے میں کس طرح نوجوان نسل کی میں کام کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گی ۔ غریب لوگ اپنے بچوں کی دو وقت کی روٹی کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں ۔ مہنگائی نے سب کو متاثر کیا ہے۔
لیکن پھر بھی امید کے سہارے ہی دنیا قائم ہے ۔ کل میں ایک ڈائجسٹ پڑھ رہی تھی تو مجھے ایک بات بہت اچھی لگی، . ضروری یہ نہیں ہوتا کہ ہمیں خوش رہنے کے لیے کتنی آسائشیں درکار ہیں بلکہ ضروری یہ ہوتا ہے ہم کتنی آسائشیوں میں خوش رہنا سیکھ جاتے ہیں"! اور اگر ہم اس بات کو یوں لے لیں کہ ضروری یہ نہیں کہ ہم مایوس کتنے ہیں ؟ ہمارے اردگرد مشکلات اور الجھنوں کا گھیر ا کتنا تنگ ہے بلکہ ضروری یہ ہے کہ ان مشکلات اور الجھنوں کے جال میں ہم ایک چھوٹی سی خوشی کو کس طر ح تلاش کرسکتے ہیں؟ زندگی شطرنج کی بازی کی طرح ہے۔ جب سارے راستے بند ہوجائیں تو ایک راستہ ضرور کھلا ہوتا ہے اور اُسی ایک راستے کو تلاش کرنے کے لئے ہمیں اپنے ذہین کی تمام کھڑ کیاں کھلی رکھنی ہو تی ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں" ایک در بند سو کھلے" ہم زندگی میں اکثر اس لیے مایوس ہوجاتے ہیں کہ ہم اپنے نفس کو بے لگام چھوڑ دیتے ہیں ، اس کی ہر خواھش کو پورا کرنا چاہتے ہیں ۔ انسان اگر نفس کے تقاضوں کو پورا کرنے لگے تو نفس بہت طاقتور ہوجاتا ہے اور انسا ن نفس کا غلام بن جاتا ہے۔ اور اگر ہم نفس کو پسپا رکھیں اور خو د کو مار دیں تو ہم انسا نیت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہو سکتے ہیں۔
مگر آج کا انسان! مایوس ہوکر اپنی ہی زندگی کو ختم کرنے کے درپے ہوجاتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ مر کر وہ تمام حالات سے نجات پا لے گا۔ میں نے محفل پہ ہی "کھیل ہی کھیل کے ایک دھاگے میری ڈائر ی کا ایک ور ق " پہ بوچھی اپیا کا ایک پیغام پڑھاتھا۔ جو کہ شاید کچھ ایسے تھا
" بے بسی کے دن لمبے اور راتیں چھوٹی ہوتیں ہیں ۔ ناکام ی کے بارے میں نا سوچا کرو ایسی سوچیں انسا ن کے ذہن کو کمزور اور لاغر بنو دیتیں ہیں ۔ ناکامی کو نصیب سمجھ کر قبول کر لینا چاہئے جس کا دائرہ مہکنے میں وسیع اور سمجھنے میں محدود ہوتا ہے"
مگر ان سے باوجود ہم انسا ن ہیں اور ہم مایوس ہوتے ہیں ۔ میں خود بھی مایوسی کا شکار ہوتی ہوں اور مایوسی بھی انتہا کی۔ مگر ایسے میں جب لوگوں کے رویے مجھے مایوس کر دیں اور مجھے دنیا میں کو ئی اپنا نا نظر آئے اور مجھے لگے کہ میں کسی سے اپنی پریشانی نہیں کہہ سکتی ہوں اور مجھے لگے کہ مجھے میری طرح کوئی نہیں سمجھ سکتا ۔ نہر میں بھی اگر پانی اس کی اوقات سے زیادہ ہوجائے تو اس کے کناروں سے باہر آنے لگتا ہے ۔ اسی طرح وہ سب کچھ جب میری آنکھوں سے عیاں ہونے لگے ، تو میں شیشے کے سامنے بیٹھ جاتی ہوں اور اپنی پریشانی اپنی ذات سے کہتی ہوں۔ یا شام کو ڈوبتے سورج کے وقت اکیلی چھت پے جا کے آلتی پالتی مار کے بیٹھ جاتی ہوں ۔ کچھ دیر فرش پہ لکیریں کھنچتی ہوں ۔ پھر دیرتک ان کو خالی ذہین کے ساتھ تکتی رہتی ہوں ، پھر اپنی ذات کا محاصر کرتی ہوں اپنے اعمال کا جائزہ لیتی ہوں۔ ناکامی اور مایوسی کے بادل ذہن میں اندھیرا کر دیتے ہیں اور پھر بارش ہونے لگتی ہے، رب کو پکارتی ہوں ، اس سے گلہ کرتی ہوں شکوہ کرتی ہوں ، پھر خودہی معافی مانگتی ہوں، پھر دعا کرتی ہوں اور دعا میں صرف سکون مانگتی ہوں ۔ یا میں نمازپڑھتے ہوئے ہر سجدے میں روتی ہوں۔پتا نہیں کہاں سے آجاتے ہیں اتنے آنسو! اور حیر ت کی بات ہے میرا ذہین ہلکا ہو جاتا ہے ۔ پر یہ سب میں کسی کے سامنے نہیں کرتی کہ لوگ مجھے پاگل خیال کریں گے۔ شاید آپ میں سے بھی کو ئی شیشے کے سامنے بیٹھ کر باتیں کرنے والے کو اکثر پاگل ہی سمجھے۔
مگر سچ تو یہ کہ میں اپنی نفسیات جانتی ہوں اور مجھے پتا ہے کہ میں نے ناعمہ کو کیسے قابو میں رکھنا ہے ، اور کیسے کسی انتہائی قدم سے کسی غلط راستے سے روکنا ہے۔
یہ تو رہی میں ، آپ کیسے اپنے آپ کو قابو کرتے ہیں؟
زندگی کتنی غیر اہم سی ہوگئی ہے کوئی وقعت ہی نہیں رہی۔ قتل کر دینا کتنی آسان سی بات ہے، میں سوچتی ہوں کہ ہم آنے والی نسل کو کیا دے رہے ہیں؟ اخلاقی قدریں ختم ہو کے رہ گئی ہیں ، کوئی کسی کا آسرا نہیں ہے، بھائی بھائی دشمن بن گئے ہیں یہاں اپنوں کو اپنوں سے ہی خطرہ لاحق ہو گیا ہے تو کیا یہ وہی پاکستان ہے جو علامہ اقبال کا خواب تھا ! جس کی تعبیر کا سہرا قائداعظم کے سر تھا! آج بھی اقتدارمیں آئے ہوئے لوگوں کو گالیاں دیتے ہیں ، کوئی گھر بیٹھ کر ، کوئی میڈیا پر ، کوئی سڑک پر احتجاج کرتا ہے تو کوئی فٹ پاتھ پہ ہی بیٹھا کوستا رہتا ہے، تو کیا ہم اس پاکستان سے جہاں اپنے اپنوں کے دشمن ہیں اُس ہندوستان میں اچھے نہیں تھے جہاں غلامی کی زندگی تھی پر اپنوں کا خیال تھا احساس تھا ، غلام ہو کر بھی ایک تھے ، ہم کیا باور کروا رہے ہیں دنیا کو کہ ہم نے اس لئے آزاد ملک حاصل کیا تھا کہ یہاں ہم آرام اور سکون سے اپنوں کے ساتھ لڑ سکیں اور کو قتل کر سکیں۔ کیوں مر گئے ہیں ہمارے احساس، جذبات، دوسروں کے لیے محبتیں کیوں ختم ہو گئیں ہیں! ہر طرف مایوسی کا عالم ہے ۔ ہم تو وہ لوگ ہیں کہ عید الضحی سے چار دن پہلے بکرا لا کر پال لیں تو عید پہ اسے قربان کرتے ہوئے گھر اس کونے میں جہاں اس کی چیخوں کی آواز نا آئے جا کر آنسو بہا تے ہیں ۔ تو پھر یہ کون لوگ ہیں جن کو کسی انسان کو قتل کرتے ہوئے ذرا بھی دکھ نہیں ہوتا ! یہاں قاتلوں کو سلیوٹ کیے جاتے ہیں! یہاں بے بس کا مذاق اڑایا جاتا ہے ! یہاں بہن بیٹوں کو عزتوں کو پامال کیا جاتا ہے۔ تو پھر پاکستان اور ہندوستا ن میں کیا فرق ہے؟ کونسے مسلمان ہیں ہم کہ جنت کی خاطر لاکھوں لوگوں کو بم بلاسٹ میں اڑا دیتے ہیں ۔ اب پاکستان میں کچھ نہیں ہے، جہاں بجلی ، گیس ، آٹا ، چینی، حتی کہ ٹماٹر پیاز تک بہران ہے وہاں ہی اخلاقی روایات ، اخلاقی اقدار، جذبات ، احساسات کا بحران ان سب سےکہیں بڑھ کر ہے۔ اور ہم یہ سوچ کر چپ ہو جاتے ہیں کہ یہی ہے مقدر میں! یا پھر پاکستان چھوڑ کر کسی اور ملک کو تر جیح دیتے ہیں۔ مجھے گلہ نہیں کرنا چاہئے شاید کیوں کہ ہم سب ہی اپنے آپ کو بدلنا نہیں چاہتے ۔
اور شاید اب اسے پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا کہ
منیر اب مان لے تو بھی مقدر کی حقیقت کو
جو ہے وہ بھی ضروری ہے جو تھا وہ بھی ضروری تھا۔
واسلام۔
اور شاید اب اسے پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا کہ
منیر اب مان لے تو بھی مقدر کی حقیقت کو
جو ہے وہ بھی ضروری ہے جو تھا وہ بھی ضروری تھا۔
واسلام۔
گزرا سال اور دسمبر۔
دسمبر پھر سے لوٹ آیا ہر سال آتاہے ، اور تب پتا چلتا ہے ایک سال اور گزر گیا ،زندگی کی مدت کچھ اور کم ہو گئی ہے۔ بہت سی نادانیاں اس سال بھی کی ہوں گی۔ اور وقت نے کچھ پختگی بھی دے دی ہے سوچ کو، جینے کا کچھ ڈھنگ اور آگیا ہے۔ کچھ برداشت اور مل گئی ہے ۔ کچھ دنیا کے رنگ اور دیکھ لئے ہیں، اور بہتتتتت سی پیاری یادیں اس سال سے وابسطہ ہیں جو یہ لے کے چلا جائے گا کبھی نا لوٹ کر آنے لے لئے، پر وہ خوبصورت سی یادیں دل کے گلدان میں پھولوں کی طرح ہمیشہ تازہ رہیں گی۔ خوشبو دیں گی اور کبھی لبوں پہ مسکراہٹ بکھیر کر لمحوں کو خوبصوت کر دیا کریں گی اور کچھ ایسی بھی تلخ ہیں کہ جو دل دکھا بھی گیئں اور یہ سمجھا بھی کہ آئندہ ایسا نا ہو کبھی۔ اب نیا سال آنے والا ہے پر ڈر لگتا ہے کہ اگلا سال کیا دے گا؟ کیا چھین لے گا؟زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی وہ مثبت ہو گی یا منفی۔ ایک عزم لئے کہ اب کے پرانی غلطیوں کو نہیں دہرانا۔ اب کی بار کچھ نیا کرنا ہے۔ اب کی بار کچھ ایسا کرنا ہے کہ اگلے سال دسمبر میں جب ضمیر کی عدالت لگے اور میں کٹہرے میں کھڑی ہوں، تو شرمندگی سے اپنی ہی نظروں میں نا گر جاؤں۔ ایسا کوئی گناہ نا ہو کہ جو ضمیر کی عدالت میں ناقابل معافی قرار دے دیا جائے۔ اور میں ایک اور سال کی مجرم بن جاؤں۔ کچھ ایسا نا ہو کہ کسی کا دل دکھے۔ کچھ ایسا نا ہو کہ کوئی روٹھ جائے۔ کچھ ایسا نا ہو کی غلطی کر کے تسلیم نا کروں۔ اپنی انا میں آ کر پتھر نا بن جاؤں۔ مجھ سے وابسطہ لوگوں کی امیدیں نا ٹوٹ جایں۔ اگلے سال جب دسمبر آئے تو دل کی حالت مطمئن ہو، ذہن پہ کوئی بوجھ نا ہو۔
مگر مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں نیا سال کو ئی ایسا زخم نا دے جو ساری عمر کا روگ بن جائےکوئی ایسی سزا نا دے جس کے آثار آخری سانس تک باقی رہیں۔
میں دعا کرتی ہوں، زندگی سب کے لئے آسان ہوجائے ، ہم سب کو آسانیاں دیں، سب ہم سے خوش رہیں۔ میں اب کے سال زندہ رہوں تو زندگی فخر کرے اور میں مر جاؤں تو لوگ یاد رکھیں۔
ایک خوبصورت سا گانا اس دسمبر کے لئے، اچھی یادوں کے نام، ان لوگوں کے نام جن سے میں نے بہتت کچھ سیکھا اور ان کے نام جنہوں نے میرا دل دکھایا
دسمبر پھر سے لوٹ آیا ہر سال آتاہے ، اور تب پتا چلتا ہے ایک سال اور گزر گیا ،زندگی کی مدت کچھ اور کم ہو گئی ہے۔ بہت سی نادانیاں اس سال بھی کی ہوں گی۔ اور وقت نے کچھ پختگی بھی دے دی ہے سوچ کو، جینے کا کچھ ڈھنگ اور آگیا ہے۔ کچھ برداشت اور مل گئی ہے ۔ کچھ دنیا کے رنگ اور دیکھ لئے ہیں، اور بہتتتتت سی پیاری یادیں اس سال سے وابسطہ ہیں جو یہ لے کے چلا جائے گا کبھی نا لوٹ کر آنے لے لئے، پر وہ خوبصورت سی یادیں دل کے گلدان میں پھولوں کی طرح ہمیشہ تازہ رہیں گی۔ خوشبو دیں گی اور کبھی لبوں پہ مسکراہٹ بکھیر کر لمحوں کو خوبصوت کر دیا کریں گی اور کچھ ایسی بھی تلخ ہیں کہ جو دل دکھا بھی گیئں اور یہ سمجھا بھی کہ آئندہ ایسا نا ہو کبھی۔ اب نیا سال آنے والا ہے پر ڈر لگتا ہے کہ اگلا سال کیا دے گا؟ کیا چھین لے گا؟زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی وہ مثبت ہو گی یا منفی۔ ایک عزم لئے کہ اب کے پرانی غلطیوں کو نہیں دہرانا۔ اب کی بار کچھ نیا کرنا ہے۔ اب کی بار کچھ ایسا کرنا ہے کہ اگلے سال دسمبر میں جب ضمیر کی عدالت لگے اور میں کٹہرے میں کھڑی ہوں، تو شرمندگی سے اپنی ہی نظروں میں نا گر جاؤں۔ ایسا کوئی گناہ نا ہو کہ جو ضمیر کی عدالت میں ناقابل معافی قرار دے دیا جائے۔ اور میں ایک اور سال کی مجرم بن جاؤں۔ کچھ ایسا نا ہو کہ کسی کا دل دکھے۔ کچھ ایسا نا ہو کہ کوئی روٹھ جائے۔ کچھ ایسا نا ہو کی غلطی کر کے تسلیم نا کروں۔ اپنی انا میں آ کر پتھر نا بن جاؤں۔ مجھ سے وابسطہ لوگوں کی امیدیں نا ٹوٹ جایں۔ اگلے سال جب دسمبر آئے تو دل کی حالت مطمئن ہو، ذہن پہ کوئی بوجھ نا ہو۔
مگر مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں نیا سال کو ئی ایسا زخم نا دے جو ساری عمر کا روگ بن جائےکوئی ایسی سزا نا دے جس کے آثار آخری سانس تک باقی رہیں۔
میں دعا کرتی ہوں، زندگی سب کے لئے آسان ہوجائے ، ہم سب کو آسانیاں دیں، سب ہم سے خوش رہیں۔ میں اب کے سال زندہ رہوں تو زندگی فخر کرے اور میں مر جاؤں تو لوگ یاد رکھیں۔
ایک خوبصورت سا گانا اس دسمبر کے لئے، اچھی یادوں کے نام، ان لوگوں کے نام جن سے میں نے بہتت کچھ سیکھا اور ان کے نام جنہوں نے میرا دل دکھایا
Subscribe to:
Posts (Atom)
