میری شاعری کو پڑھ کے
میری دوستیں پوچھتی ہیں
سنو گڑیا
کہیں تمھارے لفظوں میں
خوشی کے رنگ ملتے ہیں
کہیں تمھارے جذبوں میں
غموں کے تاثر دکھتے ہیں
کہیں تم روتی ہوں
شدتِ غم کے حوالوں سے
کہیں چپ سی نظر آتی ہو
گہرے خیالوں میں
مگر جب تم
ہمارے ساتھ ہوتی ہو
تو تمھاری آنکھوں میں دُکھ کا
کوئی سایہ نہیں دِکھتا
تمھاری مسکراہٹ
زندگی سے بھرپور ہوتی ہے
کہ تم گنگناتی ہوں
تم سب مدہوش ہوتے ہیں ،
ہمیں اک بتلاؤ
تمھارا کونسا ہے روپ ؟
جسے اصلی سمجھ لیں ہم ؟
تو دھیرے سے میں کہتی ہوں
بہت سادہ سے لفظوں میں
مجھے یہ بات کہنی ہے
کہ میرے لفظ میری شاعری ہے ترجمہ میرا
کہ میں خود ہی نہیں ہوں جانتی اپنا کوئی پتا
ہاں پر اتنی حقیقت ہے
کسی اپنے کے ہجر نے
بہت ہی توڑ ڈالا ہے
وجہ بس اتنی سی ہے کہ
میرے لفظوں کی سب راہیں
اسی منزل کو جاتی ہیں
تو سب محسوس کرتے ہیں
طوفان غم کی شدت کو
میرے سب لفظ سب کو ٹوٹے پھوٹے بکھرے سے لگتے ہیں
میرے جذبے سبھی کو روکھے سوکھے گہرے لگتے ہیں
مگر
خود کو چھپا کر مسکراہٹ کے پردے تلے
میں مسکراتی، کھکھلاتی ، چہچہاتی ہوں
کہ میں یہ جانتی ہوں
زندگی کی قوس قزح کے رنگ ہیں یہ سب
بنا ان کے ادھوری ہوں
اور ان کے سنگ پوری ہوں !

از: ناعمہ عزیز
اسے کہو
تیری آنکھیں
سمندر سے بھی گہری ہیں
بہت شفاف سی آنکھیں
یہ ہنستی کھیلتی آنکھیں
اسے کہو
کہ اتنے مہنگے خواب مت دیکھے
مجھے وہ ہنستی کھیلتی ہی اچھی لگتی ہے
اسے کہو
کہ خوابوں کو سجانے میں
اک عرصہ بیت جاتا ہے
مگر پھر ٹوٹ جانے میں
ذرا سی دیر لگتی ہے۔۔

از ناعمہ عزیز
محبتوں کے وہ باب سارے
وہ چاہتوں کے گلاب سارے
سنبھال رکھنا ،
خیال رکھنا
وفا میں ساری عنایتوں کا
وہ ٹوٹے دل کی شکایتوں کا
حساب رکھنا ،
خیال رکھنا
گلاب رت کے وہ سارے قصے
کبھی کسی کو سنانا چاہو
تو لفظوں کو بے مثال رکھنا
خیال رکھنا
کبھی جو ہم تم کو یاد آئیں
تو ہم سے تعلق بحال رکھنا ،
یہ دوستی لازوال رکھنا
خیال رکھنا ۔

از ناعمہ عزیز


2012 کا سورج غروب ہو گیا !
ہاہ !!!!
ہر سال یونہی تو ہوتا ہے۔بڑی تیزی سے وقت چلتا ہی جا رہا ہے۔ زندگی گزر رہی ہے اور گزرتی ہی جارہی ہے۔ 2012 ہی نہیں ہر سال ہی آتا ہے اور آ کر چلا جاتا ہے۔ کتاب حیات میں کئی باب کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ کئی ٍ صفحات کالے ہوچلے ہیں ۔ کہیں تلخ اسباق کی تلخی ہے اور کہیں شریں لفظوں کی مٹھاس ہے۔
دنیا میں آئے اتنا عرصہ ہو چلا ہے ۔ ایک نظر پیچھے کی طرف دیکھا تو خیال ہے کہ زندگی کیا ہے !
تو محسوس ہوا کہ زندگی ریل گاڑی کی طرح ہے آہستہ آہستہ سب ہی اپنی زندگی کی گاڑیوں کو لے رواں دواں ہیں ۔ کہیں رُک جاتی ہے ۔ کہیں چلنے لگتی ہے ۔ لوگ اس میں سوار ہوتے ہیں اور اپنے مطلوبہ اسٹیشن پر اتر جاتے ہیں ۔ جذبات میں ہلچل ہونے لگتی ہے ۔ خون جوش مارتا ہے لیکن یہ وقت بڑا ظالم ہے ۔ ہر زخم کو بھرتا ہی چلا جاتا ہے !
زندگی ایک کتاب کی طرح ہے ! لفظ بکھرے پڑے ہیں ! فہرست کی ترتیب ہو چکی ہے مگر آنکھوں سے اوجھل ہے ۔ ابواب میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، کتاب کے صفحات تیزی سے بڑھنے لگتے ہیں ۔ محبتوں سے دور کا آغاز ہوتا ہے نفرتوں سے آشنائی ہوتی ہے ۔ جنون ہوتا ہے تو ہم وہ سب کرتے ہی چلے جاتے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں ! پھر موجوں کے اضطراب کو سکون میسر آتا ہے ۔ پچھلے صفحات پر نظر ڈالتے ہیں تو ڈھیر ساری غلطیوں کا پچھتاوا ڈسنے لگتا ہے ۔تجربات کی دنیا وسیع ہو جاتی ہے مگر وقت ختم ہو چکا ہوتا ہے ۔
زندگی یہی ہے شاید !!

ہر دن کا سورج چڑھتا ہے غروب ہوتا ہے ۔ دن پورے ہو جاتے ہیں ۔ سال گزر جاتا ہے ۔ اور پھر دن پورے ہوتے ہیں تو زندگی ختم ہو چکی ہوتی ہے ۔
ہر سال نیا سال آنے کی بڑی خوشی ہوتی تھی ! اس بار نہیں ہوئی ۔ پتا نہیں کیوں ۔ جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو ہم مکمل ہی بے سکون ہو جاتے ہیں۔ بڑے عرصے سے زندگی بے سکون ہے ۔ حالات میں ڈھالنے کا سلیقہ نہیں آرہا ! خون کی گردش تیز ہو جاتی ہے ۔ اذیت بڑھ جاتی ہے ، زندگی سے وحشت ہونے لگتی ہے اور موت سے خوف آتا ہے ۔ پر پھر بھی ہم زندہ ہے پتا ہے کیوں ؟ کیوں کہ ہمیں اپنے حصے کا جینا ہی ہے ۔ غم کا برتنا نہیں آیا تو بھی ! زندگی نہیں گزر رہی یہ ہمیں لگتا ہے مگر زندگی کی گاڑی اب بھی رواں ہے اور رہے گی۔ جینا بھی آہی جائے گا، شاید کچھ اور وقت لگ جائے۔
ہر سال کی طرح اس بار بھی ڈھیروں دعائیں میرے پیاروں کے لیے میرے اپنوں کے لئے ، خدا ان کو سدا سلامت خوش و مطمئن رکھے اور سب کے لئے آسانیاں عطا فرمائے آمین

فضاؤں میں ابھی تک احساس ہے دُکھ کا
اندر کہیں کچھ خالی سا ہوا ہے
بہت دنوں سے
کچھ ڈھونڈ رہی ہیں نگاہیں
اک وہ جو اب پاس نہیں رہا ہے
ہاں وہ دور جا بسا ہے کہیں
بنا کے اسکے کچھ سوجھ نہیں رہا ہے
کرب و اذیت نے توڑ دیا ہے اندر تلک
ہاں اب سمجھ آیا
زندگی کیا بلا ہے !
ہم زندہ ہیں یہ حقیقت ہے
لیکن
ہم بھی مر گئے تھے اسی روز
یقین جانو
جس دن سے وہ روٹھ کر گیا ہے
ہاں مگر سانس جاری ہے ابھی تک
کیونکہ
زندگی نے اک نیا جنم لیا ہے ۔
مرحوم بھائی باقر عزیز کے نام اس کے جانے کا اس درد کو بیان کرنے کی کوشش جو اس کے جانے کے بعد اندر کہیں بہت کچھ توڑ پھوڑ رہا ہے ۔
بظاہر ایک چھوٹا سا لفظ ہے
"یاد"
مگر نہیں یہ چھوٹا سہی ! اس نے اپنے اندر ایک دنیا آباد کر رکھی ۔ دنیا ! خوشی کی دنیا ! غم کی دنیا ! مسکراہٹ اور آنسوؤں کی دنیا ، قہقوں اور آہ زاریوں کی دنیا ! یہ لفظ خوشی کے شادیانوں کے لمحات بھی بھی یہ اپنے اندر رکھتا ہے اور اذیت و کرب کا وقت بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے !
یہ لفظ دیکھنے میں پڑھنے میں لکھنے میں بالکل بڑا نہیں ہے ، لیکن جب اسے محسوس کیا جائےتو یہ جذبات کی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دینے کی طاقت اپنے اندر رکھتا ہے ! یہ آنکھوں کووضو کرانے کی قوت رکھتا ہے ! یہ ہونٹوں پر ہنسی بکھیر دیتا ہے ! یہ لمحے میں تنہا کر دیتا ہے اور پل میں ہمارے اردگرد بھیڑ لگا دیتا ہے ۔
ہم گزرے لمحوں کو یاد کرتے ہیں، روتے ہیں ہنستے ہیں ، وہ سب اذیت اور کرب کے لمحے جو ہمارے آنکھوں میں مجسم ہو جاتے ہیں جو ہمارے دل کے زمین پر نقش ہو جاتے ہیں، آنکھیں بند کر کے جب ان لمحوں کو یاد کیا جاتا ہے تو آنکھیں ہمارے اختیار میں نہیں رہتی ! خون کی گردش تیز ہو جاتی ہے ، دل بند ہونے کا امکان لگتا ہے ، دماغ سائیں سائیں کرنے لگتا ہے ، غرض یوں لگتا ہے وقت تھم گیا ، زندگی رک گئی ، ہم ایک بار پھر سے اسی گھڑی میں پہنچ جاتے ہیں ، وحشت عود آتی ہے ! مایوسی چھانے لگتی ہے ! اور پھر جب ہم وہ سب دہرا کر اپنی زندگی کی حقیقتوں میں واپس آتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یادیں ہمیں کھنچ کر کہاں لے گئیں تھیں ۔
اور یہی یاد جب ہمیں خوشی کے شادیانوں میں لئے جاتی ہیں ، زندگی کے لمحے حسین ہو جاتے ہے ، دل جینے پر آمادہ ہو جاتا ہے ، جذبات احساسات میں ہلچل مچ جاتی ہے ، لیکن یہ ہلچل ہمیں خوشی اور فرحت کا احساس مہیا کر دیتی ہے ، بے اختیار لبوں پر مسکراہٹ رقص کرنے لگتی ہے ۔ مایوسی کے بادل چھٹنے لگتے ہیں ،وقت تیزی سے گزرنے لگتا ہے ، اور کتنی ہی دیر تک یہ احساسات ہم پر حاوی رہتے ہیں ، ہمیں سکون پہنچاتے اور آسودگی مہیا کرتے ہیں ۔
یادیں سرمایہ بھی ہوتی ہیں اور کمزوری بھی ، یہ ہمیں مضبوط بھی کرتی ہیں اور ہماری توڑ پھوڑ بھی جاری رکھتی ہیں ، غرض یادوں کا طوفان اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ ہماری زندگی میں اپنا اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ یاد چیزوں سے وابسطہ ہو یا لوگوں سے ، کسی پیارے کے دائمی جدائی کا دکھ ہو کسی کے ساتھ گزرے حسین لمحے ، ہمارے اندر کی دنیا میں ایک طوفان آتا ہے اور آکر گزر جاتا ہے پھر سب کچھ ساکت و جامد ہو جاتا ہے ، سفر جاری ہو جاتا ہے ، اور یادیں بنتی رہتی ہے ، اور پھر یادوں کا یہ سلسلہ جو ہمارے ہوش میں آنے سے شروع ہو جاتا ہے تو سانس ختم ہونے پر یہ بھی اپنا اختتام کر دیتا ہے ، اس طرح ہم سے وابسطہ لوگوں میں ہماری ساتھ گزری وہ تمام یادیں منتقل ہو جاتیں ہیں پھر وہ ہمیں یاد کرتے ہیں ، ہمارے ساتھ گزرے اچھے بُرے لمحات اور زندگی کی گاڑی یادوں کا سفر ساتھ لئے یونہی جاری رہتی ہے ۔۔۔ ۔۔۔

تحریر۔ ناعمہ عزیز ۔


کبھی تم نے یہ سوچا ہے ؟
کہ بہنوں کی ادائیں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیں ،
یہ خود بھوکی بھی رہتی ہیں ،
یہ خود پیاسی بھی رہتی ہیں ،
پر جھلستی دھوپ میں یہ پریاں
چھاؤں جیسی ہوتی ہیں ،
کبھی تم نے یہ سوچا ہے ؟
تمھاری عزتوں کی چادر کی حفاظت کرتی ہیں ،
تمھاری غیرتوں کے نام پر قربان ہوتی ہیں ،
یہ اپنی خواہشوں کے اکثر
گلے کو گھونٹ دیتی ہیں ،
یہ پھولوں سی نازک جانیں ،
تمھارا مان ہوتی ہیں ،
کبھی تم نے یہ سوچاہے ؟
تمھارے غم میں اکثر ،
اٹھ اٹھ کر جو راتوں کو ۔
یہ بے آواز روتی ہیں !
تمھارے حصے کے سب درد ،
اپنی قسمت میں لکھنے کی ،
جو رب سے دعائیں کرتی ہیں!
یہ اپنے حصے کی خوشیاں
جو تم پر وار دیتی ہیں ،
کبھی تم نے یہ سوچا ہے ؟
یہ ایسا کیونکر کرتی ہیں ؟

کیونکہ
یہ ماں کا روپ ہوتی ہیں ۔
یہ ماؤں جیسی ہوتی ہیں ۔

Total Pageviews

Powered By Blogger

Contributors

Followers