کبھی تم نے یہ سوچا ہے ؟
کہ بہنوں کی ادائیں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیں ،
یہ خود بھوکی بھی رہتی ہیں ،
یہ خود پیاسی بھی رہتی ہیں ،
پر جھلستی دھوپ میں یہ پریاں
چھاؤں جیسی ہوتی ہیں ،
کبھی تم نے یہ سوچا ہے ؟
تمھاری عزتوں کی چادر کی حفاظت کرتی ہیں ،
تمھاری غیرتوں کے نام پر قربان ہوتی ہیں ،
یہ اپنی خواہشوں کے اکثر
گلے کو گھونٹ دیتی ہیں ،
یہ پھولوں سی نازک جانیں ،
تمھارا مان ہوتی ہیں ،
کبھی تم نے یہ سوچاہے ؟
تمھارے غم میں اکثر ،
اٹھ اٹھ کر جو راتوں کو ۔
یہ بے آواز روتی ہیں !
تمھارے حصے کے سب درد ،
اپنی قسمت میں لکھنے کی ،
جو رب سے دعائیں کرتی ہیں!
یہ اپنے حصے کی خوشیاں
جو تم پر وار دیتی ہیں ،
کبھی تم نے یہ سوچا ہے ؟
یہ ایسا کیونکر کرتی ہیں ؟

کیونکہ
یہ ماں کا روپ ہوتی ہیں ۔
یہ ماؤں جیسی ہوتی ہیں ۔
سوال ہونا چاہتی ہوں ،
جواب ہونا چاہتی ہوں
خوشی و غم کے موت و زندگی کے
سبھی جذبوں سے آزاد ہونا چاہتی ہوں،
میں چاہتی ہوں خامشیوں کے سبھی سنگم
آسمان کی وسعتوں میں
محو پرواز ہونا چاہتی ہوں
پر ابھی تو بہت سفر باقی ہے ،
ابھی تو نغمگی کا ہوتا لازم ہے
ابھی تو قرب انسان واجب ہے
ابھی تو میں وفا اور استقامت کی خوبی تک نہیں پہنچی
ابھی تو فقیری عطا بھی نہیں ہوئی
ابھی تو قلندری کے رموز بھی نہاں ہیں
ابھی تو فکر و عمل سے دوری ہے ،
ابھی تو خیالات انتشار کا شکار ہیں
ابھی تو نوک خار پر کوئی صاحب حال
شبنم کی طرح رقص کرتا نہیں آیا
ابھی تو دل و نگاہ میں سمانا باقی ہے
ابھی تو وحدت کے آثار نمودار نہیں ہوئے
ابھی تو اس فیض کے قابل نہیں ہوں میں
ابھی تو یہ فیصلہ نصیب کی بابت ہوگا
از : ناعمہ عزیز 
میرے ساتھ بڑا عجیب مسئلہ ہے کہ جب کوئی بات مل جائے اس کی کھال اتارنے کو تیار ہو جاتی ہوں ، اور جب تک اسکی کھال نا اتر جائے مجھے چین نہیں آتا، مختصر الفاظ میں یہ کہ جب تک اپنے اندر کا اُبال باہر نا نکا ل لوںٕ مجھے وہ سوچ تنگ کرتی ہی رہتی ہے۔ میں نے سوچا تھا کہ جب تک امتحان نہیں ہو جاتے میں کچھ نہیں لکھوں گی ، نا کچھ سوچوں گی ،
مزے کی بات یہ ہو ئی کہ رات کو خواب میں بھی میں یہ کہتی رہی ہوں کہ
Excess of everything is bad.
اب اسکی بھی وضاحت کرتی چلوں ، دراصل ہر چیز کی زیاتی بُری ہو تی ہے اس کا تعلق بھی میرے موضوع سے ہے،!


اب یہ معاملہ ہی لے لیں کہ دو دن پہلے کی با ت ہے کہ میری دوست نے میرےسامنے اپنے تین چار سال کے بھانجے کو اس لئے ڈانٹ دیا کہ وہ پنجابی بول رہا تھا ، میں نے کہا ، کوئی بات نہیں بول رہا ہے تو بولنے دو ، اتنی اچھی لگ رہی اس کی انداز میں پنجابی ، اور ویسے بھی پنجابی ایک زبان ہے ،اور جتنا مزہ پنجابی میں ہے اتنا اور کسی زبان میں نہیں ،
آپ میری بات سے اتفاق کریں گے کہ اردو بولتے ہو ئے ذرا تکلف آجاتا ہے ، اور انگلش ایسی تو اس قدر تکلفانہ زبان ہے کہ میرے تو بول بول کر منہ میں درد ہو جاتا ہے !


میں یہ سمجھتی ہوں کہ نا کبھی بھی کچھ ایک انسان کی وجہ سے نہیں ہو تا ، آپ دیکھیں کہ بات پورے ملک کی ہے ، اور پورا ملک کسی ایک انسان کے غلط فیصلوں کی وجہ سے تھوڑی برباد ہو سکتا ہے ؟ جیسے ایک انسان کی بربادی کے پیچھے صرف اس کا اپنا ہی ہاتھ نہیں ہوتا بلکہ بہت سے لوگ جو اس کے اردگرد ہوتے ہیں ، اس سے وابسطہ ہوتے ہیں ، سب مل کر اسے تباہ و برباد کرتے ہیں ،
اسی طرح اگر ہم جائزہ لیتے ہیں تو ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ ہم آج بھی ایک غلام قوم ہیں ، ہماری تہذیب و روایات ہمار ی تاریخ ، ثقافت کو ہم سب نے خود مل کر ختم کیا ہے ، آپ دیکھیں کہ ہمارا قومی لباس شلوار قمیض ہے لیکن آپ دیکھیں کہ کوئی بھی شلوار قمیض پہننا پسند نہیں کرتا ، ہر نئے فیشن کی پیروی کرنا ثواب کا کام سمجھا جاتا ہے ، پہلے پی ٹی وی ایک ایسا چینل تھا جس کو سب کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا جاسکتا تھا لیکن اب پی ٹی وی والوں پر بھی مغرب کا رنگ چڑھ آیا ہے!
دراصل ہمارے ساتھ ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اصول پسند لوگ نہیں ہے ، کم ازکم ایک ملک میں رہنے والے باشندوں کو اپنی تہذیب و ثقافت اور روایات پر سمجھوتانہیں کرنا چاہئے ، ایران اور چین جیسے ملکوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ،
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ چین کے وزیراعظم تھے شاید جن سے ایک کانفرنس میں سوال کیا گیا کہ آپ انگلش میں کیوں نہیں جواب دیتے
تو انہوں نے جواب دیا
" کیا چین کی اپنی زبان نہیں"؟
اور یہ پڑھ کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ بیان سے باہر ہے!
ہمارے یہاں تو تعلیم کا معیار ہی ایسا بنا دیا گیا ہے کہ بیکن میں اعلیٰ درجے کی تعلیم دی جاتی ہے، ایجو کیٹرز میں ذرا درجہ اس سے نیچے ہے اور اس سے جیسے جیسے پرائیویٹ سکول نیچے آتے جاتے ہیں ، درجہ اتنا ہی کم ہوتا جاتا ہے ،
اور جب آتے ہیں آپ گورنمنٹ سکولوں کی طرف تو میں نے اکثریت یہی دیکھی ہے کہ پرائمری اور مڈل لیول کے سکولوں میں تعلیم کا معیار بہت گر چکا ہے ! ظاہر ہے غریبوں کے بچے گورنمنٹ سکولوں میں پڑھتے ہیں اس لئے ہمارے یہاں زیادہ تر وہ ہی بچے لائق فائق کہلائے جاتے ہیں جو سب سے اعلیٰ درجے انگلش فر فر بولتے ہیں اور وہ ہیں امیر طبقے کی اولاد!
آپ حیران ہو ں گے کہ میری دوست بتاتی ہے کہ میرے بھتیجے مجھ سےپو چھتے ہیں کہ پھوپھو بیلون کو اردو میں کیا کہتے ہیں ؟؟
امیر طبقہ زیادہ تر اپنے بچوں کو انگریزی بولتا دیکھ کر ہی خوش ہوتاہے ، مجھے یہ نہیں سمجھ آتا کہ ہم آج تک کیوں اپنے ذہنوں کو آزادنہیں کروا پائے ! انگلش بولنا کوئی ثواب کا کام تو نہیں ؟ آپ ہی بتائیے کہ پنجابی بولنے میں کیا گناہ ہے ؟؟ اگر بچہ پنجابی بولتا ہے تو بُرا کیوں سمجھا جاتا ہے ؟
میں یہ نہیں کہتی ہوں کہ آپ انگریزی نا سیکھیں میں خود انگریزی ادب میں ماسٹرز کر رہی ہوں ، اچھی چیز انسان کو جہاں سے بھی ملے اسے اپنا لینی چاہئے لیکن ایسا نا ہو کہ
" کو ا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا "
پنجابی کی اپنی کی ایک اہمیت ہے ، اپنا ایک مقام ہے ، یہ اتنے مزے کی زبان ہے کہ میں اکثر کہا کرتی ہوں کہ آپ اگر اس کو متبادل ڈھونڈیں تو آپ کو کہیں نہیں ملے گا ،آپ دیکھیں کہ اگر ہم انگریزی کو اتنا زیادہ بولیں گے تو پنجابی کا تو نام و نشان مٹ جائے گا نا ! اور ہمیں تو فخر کرنا چاہئے کہ ہمیں اردو اور انگلش کے علاوہ اور بھی زبانیں آتی ہیں ۔
خیر دیکھئے ، غور کرئیے ، اپنی شناخت کو مت کھویں ، اپنا آپ ختم کرکے دوسروں کا رنگ مت چڑھائیں خود پر ، ورنہ ایک روز ایسا آئے گا کہ یہ سب چھوٹی چھوٹی چیزیں ختم ہو کر رہ جائیں گی ۔


جب بھی کوئی موقع ایسا آتا ہے کہ پاکستان کی بات کی جائے ، پاکستانیوں کی بات کی جائے ، پاکستان کی سیاست کی بات کی جائے ، پاکستان کے حالات کی بات کی جائے تو بس ایک لمحے کو دل کرتا ہے کہ بندہ کہے ،
"نو کمنٹس"
مگر نہیں یہ بھی اختیار میں نہیں ہے ، ہم یہاں رہتے ہیں ، ہمیں پاکستان ایسے ہیعزیز ہے جیسے کہ ہمارا اپنا گھر ، جیسے ہم روز اپنا گھر صاف کرتے ہیں ، ایسے ہی دل کرتا ہے کہ ہمارا ملک بھی صاف ہو ، جیسے ہم اپنے خاندان کے لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں ایسے ہی دل کرتا ہے پاکستان کے لوگ مل جل کر رہیں ، پر افسوس ہوتا ہے جب ہم ملکی سیاست پر کیچر اچھالتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ ہم تو خود ہر جگہ ہر بندے کے ساتھ سیاست کھیلتے ہیں ، بات غور کرنے کی ہے ، کبھی غور کرئیے گا کہ ہم اپنےحصے کا ایک روپیہ بھی کسی کو معاف کرکے راضی نہیں ہیں، جبکہ دوسروں سے دس روپے بٹورنے کو بھی ہر لمحہ ہر وقت ایسے تیار رہتے ہیں جیسے ہندوستان کی ٹیم پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو ہرانے کے لئے ۔
خواب سا لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی ایسا بندہ ہو جو سب کچھ ٹھیک کر دے ، ہر جگہ ، ہر معاملے میں انصاف ہو۔
پاکستانی ہونے پر مجھے آج بھی فخر ہے ، اور فخر اس بات کا ہے کہ ہاں یہ وہ ملک ہے جسکو حاصل کرنے کے لئے ہم نے ایسی ایسی ناقابل فراموش قربانیاں دیں ہیں کہ آج بھی سننے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، پاکستان کی ہسٹری کو نکال کر دیکھ لیا جائے ، بڑے بڑے علما، مفکر، صوفی لوگ آپ کو ملیں گے ، آج بھی اس ملک میں اتنا ہی ٹیلنٹ موجود ہے ، مگر کمی صرف ڈائریکشن کی ہے ، ہمیں ڈائریکشن نہیں ملتی ، کمی صرف اتحاد کی ہے ، ہم مل جل کر نہیں رہتے ، کمی صرف جذبے کو جوان کرنے کی ہے ، کوئی تو ایسا ہو کہ جو اس جذبے کو ابھارے ، جو یہ بتائے کہ ہم ہی تو نگران ہیں ، ہمیں خود نگرانی کرنی ہے ، اور اگر ہم ہی گمراہ ہو لئے تو پھر یہ گھر کیسے بچ پائے گا ؟ اگر ہم خود ہی ہتھیار پھینک دیں گے تو کس طرح سے تحفظ کا احساس رہے گا ؟
ہم بس یہ کہتے ہیں ، کہ جب تک زرداری ہے کچھ نہیں ہو سکتا ، یہ آج کی بات نہیں ، یہ قصہ برسوں پرانا ہے ، جب تک مشرف تھا تب تک بھی تو کچھ نہیں ہوا ، تب حالات تھوڑے ٹھیک تھے ، اب تھوڑے اور خراب ہو گئے ہیں ، اور زرداری انکل کے بعد جو آئے گا تب شاید اس سے بھی زیادہ خراب ہو جائیں !
مسئلہ سیاست میں نہیں ، ہمارے اپنے اندر ہے ، ہم تعمیری کام نہیں کرتے ، بس تخیل میں دیکھتے ہیں ، لیکن سوال یہ ہے کہ جب آپ خواب دیکھتے ہیں اپنے ملک کی بہتری کے ، تو ایک اس میں تھوڑا سا حصہ تو ڈالیے ۔ قدم تو آگے بڑھائیے ، ایک بار اس خواب کی تعبیر کے لئے کوشش کر کے تو دیکھیے ! کیا خبر کہ آپ کے اس عمل سے کوئی متاثر ہو ، اور اپنا حصہ ڈالنے کو قدم بڑھائے ، کیا پتا آپ کسی کی آواز بن جائیں ، ایک بار اتحاد کا عہد تو کیا جائے ، اپنے حصے کی وفا کرنا پڑتی ہے تاکہ اندر بیٹھا ٖٖوکیل سوال وجواب نا کرے ، ہمیں کٹہرے میں کھڑا کرکے یہ نا پوچھے کہ تم نے کیا کر دیا ،کونسا کارنامہ سر انجام دیا اور کس بنیاد پر دوسروں کو تنقید کا نشانہ کیوں بنائے ہو ؟
خیر دُعا ہے کہ پاکستان کا مستقبل اچھا ہو، ہمارا اچھے لیڈروں سے واسطہ پڑے ، ہم سب کے اندر برداشت ، تحمل اور اتحاد و اتفاق ہو، اور ہم دوسروں پر تنقید کی بجائے اپنے حصے کا پودا لگائیں تاکہ آنے والی نسلیں یہ نا کہہ سکیں کہ قصور ہم لوگوں کا تھا ۔
إٓمین


میں نے بہت کم لوگ ایسے دیکھے ہیں جو اعلیٰ ظرف ہو ں او ر اس قدر اعلی ٰطرف ہوں کہ وہ دوسروں کو کسی بھی معاملے میں شاباش دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں ، بڑا مشکل ہو تا ہے شاید کسی کے لئے بھی کہ وہ کسی کو اپنے سے اوپر کا مقام دے ، اپنے سے اونچا بیٹھا دے ، اپنے سے زیادہ کامیاب ہونے دے ،
لیکن مسئلے کا حل صرف اسی بات میں چھپا ہے کہ جب تک آپ کسی کو کسی چھوٹے سے کام پر شاباشے نہیں دیتے ، اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے اس میں کسی بھی بڑے کام کو کرنے کو حوصلہ پیدا نہیں ہوتا، اگر اک ٹیچر کسی سٹوڈنٹ کی پریزنٹیشن پر اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گا تو پھر اسے یہ امید رکھنے کا اختیار بھی حاصل نہیں کہ وہ ہی سٹوڈنٹ اپنے ٹیچر کا نام روشن کرے ، اچھے نمبر لے ، ریکارڈ قائم کرے ،
آپ خود ہی سوچیں کہ اگر ایک ٹیچر آٹھ ٖصفحوں کی اسائنمنٹ میں 4 غلطیوں کو لے کر سٹوڈنٹ کا اپنےپاس بلا کر اس کی نشاندہی کرتا ہے، اور باقی جو ٹھیک ہے اس کے لئے کوئی حوصلہ افزائی نا کرے تو سٹوڈنٹ کو دل بھی نہیں کرے گا کہ اسائنمنٹ کو کھول کر دوبارہ سے دیکھے ، لیکن اس کے برعکس اگر وہ پاس اسے پاس بلا کر اسے شاباشے دیتا ہے ، اور یہ کہتا ہے کہ بہت اچھا کیا ، اورسٹودنٹ اگلی بار اس سے بھی زیادہ اچھا کرنے کی کوشش کرے گا۔ یہ جو کامیابی کا نشہ ہوتا ہے کہ حوصلہ افزائی سے ملتا ہے ، اور ایک بار جب یہ نشہ کسی کو ہو جائے اس کا دل چاہتا ہے کہ وہ کامیابی کی سیڑھی پر اوپر تک کی سیر کر کے آئے ۔
کچھ ایسا ہی معاملہ والدین کا اپنے بچوں سے ہوتا ہے اگر وہ ایک بار اچھے نمبر نہیں لے سکے تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ ان کو لعن طعن شروع کر دی جائے یا پھر ایموشنل بلیک میل کیا کہ تم نے میری امیدوں پر پانی پھیر دیا وغیرہ وغیر ہ، بچوں کے ذہن پر بھی دباؤ ہوتا ہے کہ فلاں فسٹ آیا ، فلاں سیکنڈ آیا میں صرف پاس ہوا ہوں آپ بچے کی حوصلہ افزائی کریں اس کو شاباشے دیں اور کہیں کہ کوئی بات نہیں اگلی بار تم اس سے اچھے نمبر لو گے ۔
ساس کا بہو کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتاہے ، ساس بہو کو طعنے کوسنے دیتی ہے لیکن ایک بار شاباشے نہیں دیتی ، اسے یہ نہیں کہتی کہ تم نے میرے بیٹے کے سب کام کرتی ہو، تم نے میرا گھر سنبھالا ، تم نے میری خدمت کی شاباش ، ایسا کرنے سے ساس کی عزت میں کوئی فرق نہیں آتا ، پر بہو کی خدمت کا جذبہ ریفریش ضرور ہوتا ہے ،
آپ کسی ملازم کو شاباشے دیے کر دیکھیں ، یہ ٹھیک ہے کہ آپ اسے اس کے کام کی تنخواہ دیتے ہیں ، لیکن پھر وہ بھی کام تنخواہ کے مطابق ہی کرتا ہے، آپ اسے شاباش دیتے رہیں وہ آپ کا کھانا نمک حرام نہیں کرے گا ۔
آپ نے شاید خودی بھی کبھی آزمایا ہو کہ شاباش اور حوصلہ افزائی سے جو کرنٹ انسا ن کے اندر دوڑتا ہے وہ ہی دراصل کو اتنی طاقت دیتا ہے کہ اگلا کام اس سے بھی اچھا ہو۔
تو انسان کو چاہئے کہ وہ خود کو اتنا اعلیٰ ظرف ضرور بنائے کہ دوسروں کو کھلے دل سے شاباش دے سکے ، تاکہ اس سے وابسطہ لوگ کو کامیابی تک پہنچنے کے لئے زیادہ وقت نا لگے ۔
ہمیں نرم خوئی کا حکم ہے - بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی شخص کے فعل پر ہمیں بہت غصہ آ رہا ہوتا ہے - لیکن آپ اس کے باوجود کہ اس پہ غصہ کیا جانا چائے آپ غصہ نہیں کرتے ہیں - یہ ان کا کمال فن ہوتا ہے یا پھر وہ نان ڈگری ماہر نفسیات ہوتے ہیں - ایک بار ایسا ہی ایک واقعہ میرے ساتھ بھی پیش آیا - میں ایک ضروری میٹنگ کے سلسلے میں مری گیا - وہ بارشوں کا موسم تھا - اب میں جلدی میں تھا اور میں نے دو جوڑے ہی کپڑوں کے ساتھ لیے تھے - راستے میں موسلا دھار بارش ہوئی اور خوب برسی - اس شدید بارش میں باوجود بچنے کے میں شدید بھیگ گیا - میں شام کو مری پہنچا - میں خود بھیگ چکا تھا جب کہ دوسرا جوڑا میرے پاس تھا ، پانی اس میں بھی گھس گیا - اب میں سخت پریشان - اگلے روز میٹنگ بھی اٹینڈ کرنی تھی - خیر میں مال روڈ پر آگیا کہیں سے کوئی لانڈری وغیرہ مل جائے تا کہ وہ کپڑے سکھا کر استری کر دے - مجھے مال پر تو کوئی لانڈری نہ ملی ، البتہ لوئر بازار میں چھوٹی سی ایک دکان نظر آئی جس پر لکھا تھا " کپڑے چوبیس گھنٹے میں تیار ملتے ہیں " میں یہ پڑھ کر بہت خوش ہوا اور جا کر کپڑے کاؤنٹر پر رکھ دیے - دکان کے مالک بابا جی نے کپڑوں کو غور سے دیکھا ، پھر بولے ٹھیک ہے " پرسوں شام کو لے جانا - جمعرات کی شام مغرب سے پہلے - "
میں نے ان سے کہا کہ " حضور آپ نے تو چوبیس گھنٹے میں تیار کرنے کا بورڈ لگایا ہوا ہے ؟"
وہ بابا جی (ذرا بڑی عمر کے تھے ) مسکرا کر بولے " ٹھیک ہے بیٹا چوبیس گھنٹوں میں ہی تیار کر کے دیتے ہیں - لیکن ہم روزانہ صرف آٹھ گھنٹے کام کرتے ہیں - آٹھ گھنٹے آج ، آٹھ گھنٹے کل ، اور آٹھ گھنٹے پرسوں - یہ کل چوبیس گھنٹے بنتے ہیں - آپ کے کپڑے پرسوں شام چوبیسواں گھنٹہ ختم ہونے سے پہلے مل جائیں گے - "
اب میں حیران و پشیمان کھڑا بابا جی کا منہ دیکھ رہا ہوں کہ انھوں نے کس طرح سے چوبیس گھنٹے پورے کر دیے اور میرے پاس کوئی جواب بھی نہ تھا -
آپ مراقبہ کریں ، تفکیر کریں ، یا خاموش ہو کر ایسے ہی بیٹھ رہیں - اس میں آپ کو ایک اصول پر ضرور عمل پیرا ہونا پڑیگا ، کہ آپ کے ارد گرد روشنی ہے - روشنی کا بہت بڑا تنبو ہے اور آپ اس کے نیچے بیٹھے ہیں - روشنی کی ایک آبشار ہے - نیا گرا فال ہے اور آپ اس کے امڈتے ہوئےجھلار میں نہا رہے ہیں -
روشنی کیوں ؟ میں نے پوچھا " خوشبو کیوں نہیں ، رنگ کیوں نہیں ، نظارہ کیوں نہیں ؟ "
پروفیسر نے کہا " اگر میں عربی
میں کہونگا تو تمھاری سمجھ میں نہیں آئے گا بہتر یہی ہے کہ میں اطالوی میں سمجھاؤں - آسان اور سادہ اطالوی میں اور تمھارے قریب ہو کر بتاؤں کہ الله روشنی دینے والا ہے - آسمانوں کواور زمین کو - مثال اس روشنی کی یہ ہے کہ جیسے ایک طاق ہو اور اس کے اندر ایک چراغ ........... اور وہ چراغ دھرا ہو ایک شیشے میں ، ایک قندیل میں اور وہ قندیل ہے جیسے ایک چمکتا ہوا ستارہ ، تیل جلتا ہے اس میں ایک برکت والے درخت کا جو زیتون کا ہے اور جو نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف !
لگتا ہے کہ اس کا تیل روشنی ہے اگرچے اس میں آگ نہ لگی ہو ............. روشن پر روشن ، نور پر نور .............. الله جس کو چاہے اپنی روشنی کی آگ دکھا دیتا ہے ، اور بیان کرتا ہے - الله کی مثالیں لوگوں کے واسطے ہیں اور الله سب چیز جانتا ہے - "
میں نے کہا " یہ تو کسی مذھبی کتاب کا بیان معلوم ہوتا ہے ، کسی پرانے صحیفے کا - "
انھوں نے میری بات کا جواب دینے کے بجائے کہا " خداوند زمین و آسمان کی رونق اور بستی ہے اور کائنات کی ساری مخلوقات کو اسی سے نور وجود ملتا ہے - چاند ، سورج ، ستارے ، سیارے ، معلوم اور لا معلوم ، حاضر اور غائب ، انبیاء ، اولیاء ، فرشتے اور ان کے علاوہ اور بھی جو کچھ ہے - اور ان میں جو واضح اور پوشیدہ روشنی ہے - وہ اسی خزانہ نور کی بدولت ہے - یہی وجہ ہے کہ استاد ، گرو ، پیر مرشد ، شیخ اور ہادی ، باطن کے مسافر کا پہلا قدم اندھیرے سے نکال کر نور کی شاہراہ پر رکھتے ہیں اور پھر اس کی انگلی پکڑ کر قدم قدم چلاتے ہیں - "
" لیکن اس میں طاق کا کیا مطلب ہے ؟ " میں نے پوچھا " جس میں روشنی کی قندیل رکھی ہے ؟"
کہنے لگے یوں تو خدا کے نور سے کل کائنات کے موجودات روشن ہیں لیکن گیان ذات کے متلاشی کا جسم ایک طاق کی مانند ہوجاتا ہے - ایک دراز قد محرابی طاق کی طرح ، اور اس کے اندر ستارہ کی طرح کا چمکدار شیشہ قندیل رکھ دیا جاتا ہے - یہ شیشہ اصل میں اس کا قلب ہوتا ہے - جو ایک اینٹینا کی طرح عالم بالا سے متعلق ہوتا ہے اور اپنے سارے سگنل وہیں سے وصول کرتا ہے -

از اشفاق احمد بابا صاحبا

Total Pageviews

Powered By Blogger

Contributors

Followers