میں یقین رکھتی ہوں کہ ہر انسان کو ہر لمحے ہر دن اور زندگی میں اُتنا ہی ملتا ہے جتنا کہ اُس کی قسمت ہو، تقدیر تو رب کی ذات نے لکھ دی ہے مگر تدبیر ہمیں ہی کرنی ہے۔ اور ہم کرتے ہیں ، ہر صبح سے شام تک ہم تدبیر کرتے ہیں، ہمیں کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا ، کس راہ پہ چلنا ہے کس پہ نہیں چلنا ، کس کو خوش رکھنا ہے کس سے بات تک نہیں کرنی۔
مگر اس سب کے باوجود ہم وہ بھی کرتے ہیں جو ہم نہیں کرنا چاہتے ، ہم وہ کام بھی کرتے ہیں جس کا انجام اچھا نہیں ہو تا ، ہم جانے انجانے میں لوگوں کو دکھ بھی دیتے ہی اور پھر بھول جاتے ہیں ہم اُس راہ پہ بھی چلتے ہیں جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی،
بقو ل علامہ اقبال
’’ اگر راستہ خوبصورت ہے تو پتا کرو کس منزل کو جاتا ہے لیکن اگر منزل خوبصورت ہے تو راستے کی پروا مت کرو۔‘‘
پر ہم یہ کہاں سوچے ہیں؟؟؟؟ اگر ہم ایسی باتوں پہ عمل کرنے لگ جائیں تو کیا زندگی آسان نا ہو جائے!!
پر مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے نفس کے غلام ہیں، ہر وہ کام کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں جس کا کسی نا کسی کو نقصان ضرور ہوتا ہے۔ پر ہم یہ بھول جاتے ہمارے اندر بھی ایک جج براجمان ہے ، جونا بکتا ہے نا جھکتا ہے ، عین ٹائم پہ آپ کے دماغ میں الارم بجے گا اور ٹک ٹک ٹک ،،آپ کو بلایا جائے گا آپ کو مجرم بنا کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا اور ٖ ثابت کیا جائے گا ’’غلط کیا ،غلط کیا‘‘ پھر فیصلہ بھی ہوجائے گا اُسی وقت!!! سز ا ملنے میں دیر لگے گی ، تب تک آپ خود کو بہلائیں گے ، تسلی دیں گے کہ نہیں سب ٹھیک ہے، آپ کے اندر بے سکونی رہے گی ہلچل رہے گی، پھر ایک دن کچھ ویسا ہی سلوک آپ کے ساتھ کیا جائے گا جو آپ نے کسی اور کے ساتھ کیا ہو گا ، پھر جا کے آپ کو اندازہ ہو گا کہ آپ نےغلط کیا تھا ۔
پر یہ جو سب میں نے لکھا یہ سب اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جن کے ضمیر ابھی زندہ ہوں ، جو لوگ ٖغلطی، گناہ، اور دھوکے دے کر اپنے دل کو کالا کر دیتے ہیں انہیں ایسا کوئی احساس نہیں کیوں کہ اُن کا ضمیر مر چکا ہوتا ہے اُن کے اندر ایک شیطان براجمان ہو جاتا ہے جو ہر فیصلہ ان ہی کہ حق میں کرتا ہے اور وہ بڑے فخر سے سر بلند کرکے کہتے ہیں ہم ٹھیک کر رہے ہیں ، نا صرف یہ بلکہ وہ آپ کو الزام دیں گے آپ پہ چڑھائی کریں گے کہ آپ غلط ہیں۔ ایسے لوگوں کو ایک ہی بار چوٹ لگتی ہے جو ان کی روح کو اندر تک گھائل کر دیتی ہے، پھر جب وہ اپنے آپ سے ملتے ہیں تب اُن کو احساس ہوتا ہے۔پر تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ گزرا وقت لوٹ کر نہیں آسکتا اور پچھتاوے کے سوا اور کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔
ہم دنیا میں آئے ہیں ایک دن جانا بھی ہے۔
یہ دنیا مکافات عمل ہے، یہاں ہر شخص کو اپنے کیے کا حساب دینا ہے، ہر جھوٹ ، ہر دھوکے، ہر فریب ، ہر تکلیف، ہر اذیت جو وہ کسی کو دیتا ہے، اُسے اپنی ذات پہ بھگتنا ہے۔ہر غلط ارادے ، سوچ، عمل کا حساب دینا ہے۔
با با آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی ؟شہر کا رخ بھی کرتے ہیں؟
میں نے آنکھیں موندے بظاہر تھکن سے چُور نظر آنے والے بابا سے پوچھا ۔
’’ ہماری کوئی ایک جگہ مقرر نہیں ہوتی ۔ اور ہمیں خؤد بھی یاد نہیں رہتا کل کہاں تھے ور آج کہاں ہیں‘‘
ان کی آنکھوں نے سرخ ڈوروں نے میرے اندر کچھ خوف سا جگا دیا۔
’’ ہم جاہ جاہ پھرتے ، نگر نگر گھومتے اور پھر چرسا بھر زمین کی چادر اوڑھے سو رہتے ہیں۔ سکون کہیں بھی نہیں ہوتا ۔ بس اپنے اندر ہوتا ہے۔ جس تک پہنچنے کے لئے اندر دھیان لگانا پڑتا ہے۔ یہ جو شخص مٹی کی چادر اوڑھے پڑا ہے نا ۔ برسوں پہلے ایک عام شخص تھا ۔ روٹی ، کپڑا، مکان کے چکر میں ذلیل و خوار ہونے والا شخص ۔ یہاں آیا تو اپنی پریشانیؤن کا حل سو چنے کو اسی پہاڑ پر بیٹھا۔ اور اسے ان کاحل مل گیا اس نے اپنے اندر دھیان لگایا ۔ اور فطرت کی گہرائی میں بھکرے سکون نے اسے اندر کے دھیان میں پکا کر دیا ۔ اور پھر اس نے اس دھیان کو ٹوٹنے نا دیا ۔۔۔۔۔ چھوڑ دیا بس کچھ بس یہیں کا ہو رہا ۔۔۔۔۔ اب تک یہیں ہے‘‘
لیکن کیا ، دنیا میں اپنی ذمہ داریوں سے یوں گھبرا کر ایک کونے میں بیٹھ کر اللہ کے نام کی مالا جپتے رہنا بہت آسان نہیں‘‘
’’کم فہم انسان ہے نا تو عشق کو نہیں جانتا ۔۔۔۔ عشق کی دیوانگی کو کیا سمجھے گا، عشق پہ کسی کا زور ہوتا تو دنیا میں کوئی دیوانہ نا ہوتا، تو عشق کو آسان سمجھتا ہے۔ ایک بھی منزل عبو کر کے دکھا تو تجھے جانوں۔ ہر منزل پہ انگنت کشٹ ہیں اور ساری بات نصیب کی ہے۔ کسی کے نصیب میں عشق ہے اور کسی کے نہیں ‘‘۔
میں بابا کے لہجے میں اپنے لئے کرختگی دیکھ کر سہم سا گیا۔
یوں لگا جیسے میں نے عشق کی تو ہین کر کے بابا کا دل دکھایا ہے۔
’’ بابا عشق کا یقین کیسے آتا ہے۔‘‘
’’یقین، میں تیری کج فہمی پہ حیران ہوں کیا تو نے زندگی میں کبھی عشق نہیں کیا۔ کسی بندے سے بھی نہیں ۔۔۔۔ وہ جو عشق کی پہلے منزل ہے، تجھے اتنا بھی معلوم نہیں کہ عشق تو خود اپنا یقین ہے۔ جب یہ ہو جائے تو اس سے بڑا یقین اور کوئی نہیں رہتا‘‘۔
مجھے اپنے گئے گزرے عشق پہ حقارت ہونے لگی وہ جوہمیشہ بے یقینی کا شکار رہا۔ عین وصل میں ہجر کا ڈر۔۔۔ بہار کی دہلیز پہ خزاں کے خشک پتوں کا اُدھم، مجھے یوں لگا جیسے میرے سامنے ایک ٹھنڈے پانی کا جھڑنا ہے اور میں اس کے قریب پیاس سے مر رہا ہوں۔ میں سوچنے لگا۔
محبت اسقدر بے سکونی اور بے یقینی کیوں دیتی ہے۔ پھر بابا سے نظریں ملانے کی بجائے سورج کی زائل ہونے والی توانائیوں کی آسمان پر بے بسی کا نظارہ کرنے لگا جیسے کوئی اپنے زوال کے تھکے ہارے سفر کو مائل ہو۔
میں بابا سے اور بھی باتیں کرنا چاہتا تھالیکن عشق کے بارے میں اپنی ناسمجھی اور بے خبری کی وجہ سے ڈرتے ہوئے کوئی اور سوال نا کر سکا ۔ میرا دھیان عشق کے سبق سے ٹوٹا نا تھا ۔ کب سے بابا کو خاموشی سے ذکرِ الہٰی کرتے دیکھ رہا تھا۔ بابا نے بہت وقت بیت جانے کے بعد آنکھیں کھولیں اور بولے۔
’’ تو سمجھ رہا ہے کہ تیرا دھیان ٹوٹا نہیں ، تو سمجھ لے کہ تیرا دھیان کبھی عشق سے جڑا ہی نہیں۔ کچی مٹی پہ چھڑکاؤ کرو تو ہرجاہ بھینی بھینی خوشبو پھوٹتی ہے۔ اس خوشبو کے لئے مٹی ہزاروں سال سے چلچلاتی دھوپ میں جلتی بلتی چلی آ رہی ہے۔ وہ اگر دھوپ میں نا جلتی تو پانی چھڑکا ؤ اس کے وجود میں مہک کے بھانبھڑ نا مچاتا۔ من کو عشق کی خوشبو دینے کے لیے تن کو دکھوں اور آزمائشوں کی دھوپ میں جلانا پڑتا ہے۔ تو دنیا کے مقام مرتبے کا دھنی ، تیرا گزر عاشق کے بے سروسامان راستے سے کہاں؟؟
دیکھ بچے ہر روح تلاش کے سفر میں ہے۔ حقیقت کے باطن میں چھپے اسرار کی تلاش ، محدود سے لا محدود کے رستے کی تلاش، منظر جو سامنے ہے بڑا دلکش ہے، دلفریب ہے لیکن منظر جو پوشیدہ ہے وہی اصل ہے۔ منظر سے دھیان ہٹا کر پسِ منظر کو کریدنا اتنا آسان نہیں جتنا تو سمجھتا ہے۔ ظاہر کے بدن کو چیر کر باطن میں اترنا اتنا سہل نہیں جتنا تیرے گمان میں ہے۔ ٕمحدود کت سکون کو چھوڑ کر لامحدود کے اضطراب میں قدم رکھنا اتنا آسان ہوتا تو سب جستجو کرنے والے بامراد ہو جاتے۔ محدود سے آگے دیکھنے کے لیے وہ نظر چاہیے جو عشق ہی دے سکتا ہے۔ عشق ہی وہ طاقت ہے جو ظاہر کو چیر کر باطن میں اتر جانے کو اسلوب سکھاتی ہے۔ ہاں واحد نام عشق کا قائم ۔۔ باقی ہر اک شے فانی۔‘‘
میں نے آنکھیں موندے بظاہر تھکن سے چُور نظر آنے والے بابا سے پوچھا ۔
’’ ہماری کوئی ایک جگہ مقرر نہیں ہوتی ۔ اور ہمیں خؤد بھی یاد نہیں رہتا کل کہاں تھے ور آج کہاں ہیں‘‘
ان کی آنکھوں نے سرخ ڈوروں نے میرے اندر کچھ خوف سا جگا دیا۔
’’ ہم جاہ جاہ پھرتے ، نگر نگر گھومتے اور پھر چرسا بھر زمین کی چادر اوڑھے سو رہتے ہیں۔ سکون کہیں بھی نہیں ہوتا ۔ بس اپنے اندر ہوتا ہے۔ جس تک پہنچنے کے لئے اندر دھیان لگانا پڑتا ہے۔ یہ جو شخص مٹی کی چادر اوڑھے پڑا ہے نا ۔ برسوں پہلے ایک عام شخص تھا ۔ روٹی ، کپڑا، مکان کے چکر میں ذلیل و خوار ہونے والا شخص ۔ یہاں آیا تو اپنی پریشانیؤن کا حل سو چنے کو اسی پہاڑ پر بیٹھا۔ اور اسے ان کاحل مل گیا اس نے اپنے اندر دھیان لگایا ۔ اور فطرت کی گہرائی میں بھکرے سکون نے اسے اندر کے دھیان میں پکا کر دیا ۔ اور پھر اس نے اس دھیان کو ٹوٹنے نا دیا ۔۔۔۔۔ چھوڑ دیا بس کچھ بس یہیں کا ہو رہا ۔۔۔۔۔ اب تک یہیں ہے‘‘
لیکن کیا ، دنیا میں اپنی ذمہ داریوں سے یوں گھبرا کر ایک کونے میں بیٹھ کر اللہ کے نام کی مالا جپتے رہنا بہت آسان نہیں‘‘
’’کم فہم انسان ہے نا تو عشق کو نہیں جانتا ۔۔۔۔ عشق کی دیوانگی کو کیا سمجھے گا، عشق پہ کسی کا زور ہوتا تو دنیا میں کوئی دیوانہ نا ہوتا، تو عشق کو آسان سمجھتا ہے۔ ایک بھی منزل عبو کر کے دکھا تو تجھے جانوں۔ ہر منزل پہ انگنت کشٹ ہیں اور ساری بات نصیب کی ہے۔ کسی کے نصیب میں عشق ہے اور کسی کے نہیں ‘‘۔
میں بابا کے لہجے میں اپنے لئے کرختگی دیکھ کر سہم سا گیا۔
یوں لگا جیسے میں نے عشق کی تو ہین کر کے بابا کا دل دکھایا ہے۔
’’ بابا عشق کا یقین کیسے آتا ہے۔‘‘
’’یقین، میں تیری کج فہمی پہ حیران ہوں کیا تو نے زندگی میں کبھی عشق نہیں کیا۔ کسی بندے سے بھی نہیں ۔۔۔۔ وہ جو عشق کی پہلے منزل ہے، تجھے اتنا بھی معلوم نہیں کہ عشق تو خود اپنا یقین ہے۔ جب یہ ہو جائے تو اس سے بڑا یقین اور کوئی نہیں رہتا‘‘۔
مجھے اپنے گئے گزرے عشق پہ حقارت ہونے لگی وہ جوہمیشہ بے یقینی کا شکار رہا۔ عین وصل میں ہجر کا ڈر۔۔۔ بہار کی دہلیز پہ خزاں کے خشک پتوں کا اُدھم، مجھے یوں لگا جیسے میرے سامنے ایک ٹھنڈے پانی کا جھڑنا ہے اور میں اس کے قریب پیاس سے مر رہا ہوں۔ میں سوچنے لگا۔
محبت اسقدر بے سکونی اور بے یقینی کیوں دیتی ہے۔ پھر بابا سے نظریں ملانے کی بجائے سورج کی زائل ہونے والی توانائیوں کی آسمان پر بے بسی کا نظارہ کرنے لگا جیسے کوئی اپنے زوال کے تھکے ہارے سفر کو مائل ہو۔
میں بابا سے اور بھی باتیں کرنا چاہتا تھالیکن عشق کے بارے میں اپنی ناسمجھی اور بے خبری کی وجہ سے ڈرتے ہوئے کوئی اور سوال نا کر سکا ۔ میرا دھیان عشق کے سبق سے ٹوٹا نا تھا ۔ کب سے بابا کو خاموشی سے ذکرِ الہٰی کرتے دیکھ رہا تھا۔ بابا نے بہت وقت بیت جانے کے بعد آنکھیں کھولیں اور بولے۔
’’ تو سمجھ رہا ہے کہ تیرا دھیان ٹوٹا نہیں ، تو سمجھ لے کہ تیرا دھیان کبھی عشق سے جڑا ہی نہیں۔ کچی مٹی پہ چھڑکاؤ کرو تو ہرجاہ بھینی بھینی خوشبو پھوٹتی ہے۔ اس خوشبو کے لئے مٹی ہزاروں سال سے چلچلاتی دھوپ میں جلتی بلتی چلی آ رہی ہے۔ وہ اگر دھوپ میں نا جلتی تو پانی چھڑکا ؤ اس کے وجود میں مہک کے بھانبھڑ نا مچاتا۔ من کو عشق کی خوشبو دینے کے لیے تن کو دکھوں اور آزمائشوں کی دھوپ میں جلانا پڑتا ہے۔ تو دنیا کے مقام مرتبے کا دھنی ، تیرا گزر عاشق کے بے سروسامان راستے سے کہاں؟؟
دیکھ بچے ہر روح تلاش کے سفر میں ہے۔ حقیقت کے باطن میں چھپے اسرار کی تلاش ، محدود سے لا محدود کے رستے کی تلاش، منظر جو سامنے ہے بڑا دلکش ہے، دلفریب ہے لیکن منظر جو پوشیدہ ہے وہی اصل ہے۔ منظر سے دھیان ہٹا کر پسِ منظر کو کریدنا اتنا آسان نہیں جتنا تو سمجھتا ہے۔ ظاہر کے بدن کو چیر کر باطن میں اترنا اتنا سہل نہیں جتنا تیرے گمان میں ہے۔ ٕمحدود کت سکون کو چھوڑ کر لامحدود کے اضطراب میں قدم رکھنا اتنا آسان ہوتا تو سب جستجو کرنے والے بامراد ہو جاتے۔ محدود سے آگے دیکھنے کے لیے وہ نظر چاہیے جو عشق ہی دے سکتا ہے۔ عشق ہی وہ طاقت ہے جو ظاہر کو چیر کر باطن میں اتر جانے کو اسلوب سکھاتی ہے۔ ہاں واحد نام عشق کا قائم ۔۔ باقی ہر اک شے فانی۔‘‘
" تمہیں بھی اپنے لیے کوئی راہ تلاش کرنا ہو گی سیمی ،،،،، پیچھے رہ جانے والوں کے لیے اور کوئی صورت نہیں ہوتی !"
وہ محبت کے ترازو میں برابر کا تلنا چاہتی تھی اور دوسری طرف مجھے کوئی ایسا بٹہ رکھنا نہیں آتا تھا جس کی وجہ سے اس کا توازن ٹھیک ہو جاتا۔ اگر میں آفتاب کو خوش ظاہر کرتا تو وہ تنفر کی صورت میں بے قابو ہو جاتی ، اگر میں اسے اداس ظاہر کرتا تو بے یقینی ، ناامیدی اور شدید غم تلے دب کر آہیں بھرنے لگتی، محبت کا آرا اوپر تلے برابر اس کے تختے کاتتا چلا جا رہا تھا۔
میں سوشیالوجی کے طالبعلم کی طرح سوچنے لگا کہ جب انسان نے سوسائیٹی کو تشکیل دیا ہو گا تو یہ ضرورت محسوس کی ہو گی کہ فرد علیحدہ علیحدہ مطمئن زندگی بسر نہیں کر سکتے، باہمی ہمدردی ، میل جول اور ضروریات نے معاشرہ کو جنم دیا ہو گا، لیکن رفتہ رفتہ سوسائٹی اتنی پیچ در پیچ ہو گئی کہ باہمی میل جول ، ہمدردی اور ضرورت نے تہذیب کے جذباتی انتشار کا بنیادی پتھر رکھا ۔ جس محبت کے تصور کے بغیر معاشرے کی تشکیل ممکن نہ تھی شاید اسی محبت کو مبالغہ پسند انسان نے خداہی سمجھ لیا اور انسان دوستی کو انسانیت کی معراج ٹھہرایا ،پھر یہی محبت جگہ جگہ نفرت حقارت اور غصے سے زیادہ لوگوں کی زندگیا سلب کرنے لگی ، محبت کی خاطر قتل ہونے لگے ، خود کشی وجود میں آئی ،،،،، سوسائٹی اغوا سے شبخون سے متعارف ہوئی ، رفتہ رفتہ محبت ہی سوسائٹی کا ایک بڑا روگ بن گئی ، اس جن کو ناپ کی بوتل میں بند رکھنا معاشرے کے لیے ممکن نہ رہا ، اب محبت کے وجود یا عدم وجود پر ادب پیدا ہونے لگا ، بچوں کی سائیکالوجی جنم لینے لگی ، محبت کے حصول پر مقدمے ہونے لگے ، ساس بن کر ماں ڈائن کا روپ دھارنے لگی ، معاشرے میں محبت کے خمیر کی وجہ سے کئی قسم کا ناگوار بیکٹیریا پیدا ہوا۔
نفرت کا سیدھا سادا شیطانی روپ ھے ۔ محبت سفید لباس میں ملبوس عمرو عیار ھے ، ہمیشہ دو راہوں پر لا کھڑا کر دیتی ھے ۔ اس کی راہ پر ہر جگہ راستہ دکھانے کو صلیب کا نشان گڑا ہوتا ھے ، محبتی جھمیلوں میں کبھی فیصلہ کن سزا نہیں ہوتی ہمیشہ عمر قید ہوتی ھے ، جس معاشرے نے محبت کو علم بنا کر آگے قدم رکھا وہ اندر ہی اندر اس کے انتظار سے بری طرح متاثر بھی ہوتی چلی گئی۔ جائز و ناجائز محبت کے کچھ ٹریفک رولز بنائے لیکن ہائی سپیڈ معاشرے میں ایسے سپیڈ بریکر کسی کام کے نہیں ہوتے کیونکہ محبت کا خمیر ہی ایسا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زیادہ خمیر لگ جائے تو بھی سوسائٹی پھول جاتی ھے ، کم رہ جائے تو بھی پپڑی کی طرح تڑخ جاتی ھے ۔
شکست و ریخت، بد بختی و سوختہ سامانی ۔
آج تک سوسائٹی جرائم کی بیخ کنی پر اپنی تمام قوت استعمال کرتی رہی ھے ، اس نے اندازہ نہیں لگایا کہ کتنے گھروں میں کتنے مسلکوں میں سارا نقص ہی محبت سے پیدا ہوتا ھے ، سوسائٹی کا بنیادی تضاد ہی یہ ھے کہ ابھی تک وہ محبت کا علم اٹھائے ہوئے ھے حالانکہ وہ اس کے ہاتھوں توفیق بھر تکلیف اٹھا چکی ھے ، جب تک یہ ن دوبارہ بوتل میں بند نہیں ہو جاتا اور اس کے ٹریفک رولز مقرر نہیں ہوتے ، تب تک شانتی ممکن نہیں کیونکہ محبت کا مزاج ہوا کی طرح ھے کہیں ٹکتا نہیں اور معاشرے کو کسی ٹھوس چیز کی ضرورت ھے ۔
وہ محبت کے ترازو میں برابر کا تلنا چاہتی تھی اور دوسری طرف مجھے کوئی ایسا بٹہ رکھنا نہیں آتا تھا جس کی وجہ سے اس کا توازن ٹھیک ہو جاتا۔ اگر میں آفتاب کو خوش ظاہر کرتا تو وہ تنفر کی صورت میں بے قابو ہو جاتی ، اگر میں اسے اداس ظاہر کرتا تو بے یقینی ، ناامیدی اور شدید غم تلے دب کر آہیں بھرنے لگتی، محبت کا آرا اوپر تلے برابر اس کے تختے کاتتا چلا جا رہا تھا۔
میں سوشیالوجی کے طالبعلم کی طرح سوچنے لگا کہ جب انسان نے سوسائیٹی کو تشکیل دیا ہو گا تو یہ ضرورت محسوس کی ہو گی کہ فرد علیحدہ علیحدہ مطمئن زندگی بسر نہیں کر سکتے، باہمی ہمدردی ، میل جول اور ضروریات نے معاشرہ کو جنم دیا ہو گا، لیکن رفتہ رفتہ سوسائٹی اتنی پیچ در پیچ ہو گئی کہ باہمی میل جول ، ہمدردی اور ضرورت نے تہذیب کے جذباتی انتشار کا بنیادی پتھر رکھا ۔ جس محبت کے تصور کے بغیر معاشرے کی تشکیل ممکن نہ تھی شاید اسی محبت کو مبالغہ پسند انسان نے خداہی سمجھ لیا اور انسان دوستی کو انسانیت کی معراج ٹھہرایا ،پھر یہی محبت جگہ جگہ نفرت حقارت اور غصے سے زیادہ لوگوں کی زندگیا سلب کرنے لگی ، محبت کی خاطر قتل ہونے لگے ، خود کشی وجود میں آئی ،،،،، سوسائٹی اغوا سے شبخون سے متعارف ہوئی ، رفتہ رفتہ محبت ہی سوسائٹی کا ایک بڑا روگ بن گئی ، اس جن کو ناپ کی بوتل میں بند رکھنا معاشرے کے لیے ممکن نہ رہا ، اب محبت کے وجود یا عدم وجود پر ادب پیدا ہونے لگا ، بچوں کی سائیکالوجی جنم لینے لگی ، محبت کے حصول پر مقدمے ہونے لگے ، ساس بن کر ماں ڈائن کا روپ دھارنے لگی ، معاشرے میں محبت کے خمیر کی وجہ سے کئی قسم کا ناگوار بیکٹیریا پیدا ہوا۔
نفرت کا سیدھا سادا شیطانی روپ ھے ۔ محبت سفید لباس میں ملبوس عمرو عیار ھے ، ہمیشہ دو راہوں پر لا کھڑا کر دیتی ھے ۔ اس کی راہ پر ہر جگہ راستہ دکھانے کو صلیب کا نشان گڑا ہوتا ھے ، محبتی جھمیلوں میں کبھی فیصلہ کن سزا نہیں ہوتی ہمیشہ عمر قید ہوتی ھے ، جس معاشرے نے محبت کو علم بنا کر آگے قدم رکھا وہ اندر ہی اندر اس کے انتظار سے بری طرح متاثر بھی ہوتی چلی گئی۔ جائز و ناجائز محبت کے کچھ ٹریفک رولز بنائے لیکن ہائی سپیڈ معاشرے میں ایسے سپیڈ بریکر کسی کام کے نہیں ہوتے کیونکہ محبت کا خمیر ہی ایسا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زیادہ خمیر لگ جائے تو بھی سوسائٹی پھول جاتی ھے ، کم رہ جائے تو بھی پپڑی کی طرح تڑخ جاتی ھے ۔
شکست و ریخت، بد بختی و سوختہ سامانی ۔
آج تک سوسائٹی جرائم کی بیخ کنی پر اپنی تمام قوت استعمال کرتی رہی ھے ، اس نے اندازہ نہیں لگایا کہ کتنے گھروں میں کتنے مسلکوں میں سارا نقص ہی محبت سے پیدا ہوتا ھے ، سوسائٹی کا بنیادی تضاد ہی یہ ھے کہ ابھی تک وہ محبت کا علم اٹھائے ہوئے ھے حالانکہ وہ اس کے ہاتھوں توفیق بھر تکلیف اٹھا چکی ھے ، جب تک یہ ن دوبارہ بوتل میں بند نہیں ہو جاتا اور اس کے ٹریفک رولز مقرر نہیں ہوتے ، تب تک شانتی ممکن نہیں کیونکہ محبت کا مزاج ہوا کی طرح ھے کہیں ٹکتا نہیں اور معاشرے کو کسی ٹھوس چیز کی ضرورت ھے ۔
وہ کہتا تھا۔
جب میری بیوی مجھ پہ الزام دھرتی اور وہ اکثر مجھ پہ الزام دھرتی تھی، اس وقت میرا جی چاہتا کہ اسے کہوں بی بی میرا قصور نہیں ہےعین اُس وقت قدرت اللہ شھاب میرے منہ پہ ہاتھ رکھ دیتا اور اور کہتا وہ جو کہتی ہے مان تو کہہ ہان جی ۔ جھگڑا نا کرو۔ مان لینے میں برا سُکھ ہے۔
میں بڑا عفیل آدمی ہوں اور میرا غصہ سُدھ بُدھ مار دینے والا ہے۔ا ِک جھکڑ چلتا ہے ٹہنی ٹہنی پتا پتا گزرتا ہے اور پھر وہی گرد۔
جب مجھے غصہ آتا تو قدرت اللہ میرے کان میں کہتا چھلنی بن جاؤ اس جھکڑ کو گزر جانے دو اندر رُکے نہیں۔ روکو گے تو چینی کی دکان میں ہاتھی گھس آئے گا۔ غصہ کھانے ی نہیں پینے کی چیز ہے۔
جب میں کسی چیز کے حصول کے لئے کوشش بار بار کو شش کرتا تو قدرت اللہ کی آواز آتی ضد نا کرو اللہ کو اجازت دو اپنی مرضی کو کام میں لائے۔
جب میں دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا تو وہ کہتا نا ہار جاؤ۔ ہار جاؤ ۔ ہار جانے میں ہی جیت ہے۔
جب بھی میں تھکا ہوتا کوئی مریض دوا لینے آتا تو میں اُسے ٹالنے کی سوچتا تو قدرت اللہ کہتا دے دو دوا ، شاید اللہ کو تمھاری یہی ادا پسند آ جائے۔
یہ وہ سبق ہے جو ہماری روز مرہ کی زندگی میں کام آ سکتا ہے۔ کتنی آسان باتیں ہیں اگر ہم سمجھیں تو عمل کرنا بھی آسان ہوجائے گا:)
جب میری بیوی مجھ پہ الزام دھرتی اور وہ اکثر مجھ پہ الزام دھرتی تھی، اس وقت میرا جی چاہتا کہ اسے کہوں بی بی میرا قصور نہیں ہےعین اُس وقت قدرت اللہ شھاب میرے منہ پہ ہاتھ رکھ دیتا اور اور کہتا وہ جو کہتی ہے مان تو کہہ ہان جی ۔ جھگڑا نا کرو۔ مان لینے میں برا سُکھ ہے۔
میں بڑا عفیل آدمی ہوں اور میرا غصہ سُدھ بُدھ مار دینے والا ہے۔ا ِک جھکڑ چلتا ہے ٹہنی ٹہنی پتا پتا گزرتا ہے اور پھر وہی گرد۔
جب مجھے غصہ آتا تو قدرت اللہ میرے کان میں کہتا چھلنی بن جاؤ اس جھکڑ کو گزر جانے دو اندر رُکے نہیں۔ روکو گے تو چینی کی دکان میں ہاتھی گھس آئے گا۔ غصہ کھانے ی نہیں پینے کی چیز ہے۔
جب میں کسی چیز کے حصول کے لئے کوشش بار بار کو شش کرتا تو قدرت اللہ کی آواز آتی ضد نا کرو اللہ کو اجازت دو اپنی مرضی کو کام میں لائے۔
جب میں دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا تو وہ کہتا نا ہار جاؤ۔ ہار جاؤ ۔ ہار جانے میں ہی جیت ہے۔
جب بھی میں تھکا ہوتا کوئی مریض دوا لینے آتا تو میں اُسے ٹالنے کی سوچتا تو قدرت اللہ کہتا دے دو دوا ، شاید اللہ کو تمھاری یہی ادا پسند آ جائے۔
یہ وہ سبق ہے جو ہماری روز مرہ کی زندگی میں کام آ سکتا ہے۔ کتنی آسان باتیں ہیں اگر ہم سمجھیں تو عمل کرنا بھی آسان ہوجائے گا:)
کچھ عرصہ پہلے میں نے اردو ویب کی لائبریری کے لیے ایک کتاب ’حسنِ خیال‘ کے چند صفحات کو یونی کوڈ میں لکھا تھا۔ ان میں سے مجھے جو پسند اور سمجھ آیا سوچا اُسے الگ سے یہاں پوسٹ کروں۔
’’حضرت بہلول رضی اللہ عنہ نے ایک درویش سے پوچھا کہ تمھاری زندگی کیسی گزرتی ہے؟
درویش نے کہا: تمام عالم میرے اشاروں پہ چل رہا ہے،
بہلول نے اس اجما ل کی تفصیل پوچھی ،
درویش نے جواب دیا: یہ سُن لو کہ تمام کام اُسی کے حکم سے ہوتے ہیں ۔
توخدا کی مرضی اور بندے کی خواہش ایک ہی چیز ہے۔ اس لئے میں وہ چاہتا ہوں جو ہو رہا ہے۔ اور جو ہوتا ہے یعنی میں نے اپنی خواہش کو رضائے الہٰی میں فنا کر دیا ہے۔ اس لئے زمین آسمان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے میری مرضی کے موافق ہو رہاہے۔
اس لئے میں وہ ہوں کہ ،
دریا اور سیلاب میری مرضی سے چلتے ہیں،
ستارے میرے کہنےکے مطابق گردش کرتے ہیں،
میری مرضی کے بغیر ایک پتا درخت سے نہیں گرتا،
میری مرضی کے بغیر کو ئی موت واقع نہیں ہوتی،
میری مرضی کے بغیر زمین سے آسمان تک ایک بھی اگ جنبش نہیں کرسکتی‘‘۔۔۔
’’حضرت بہلول رضی اللہ عنہ نے ایک درویش سے پوچھا کہ تمھاری زندگی کیسی گزرتی ہے؟
درویش نے کہا: تمام عالم میرے اشاروں پہ چل رہا ہے،
بہلول نے اس اجما ل کی تفصیل پوچھی ،
درویش نے جواب دیا: یہ سُن لو کہ تمام کام اُسی کے حکم سے ہوتے ہیں ۔
توخدا کی مرضی اور بندے کی خواہش ایک ہی چیز ہے۔ اس لئے میں وہ چاہتا ہوں جو ہو رہا ہے۔ اور جو ہوتا ہے یعنی میں نے اپنی خواہش کو رضائے الہٰی میں فنا کر دیا ہے۔ اس لئے زمین آسمان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے میری مرضی کے موافق ہو رہاہے۔
اس لئے میں وہ ہوں کہ ،
دریا اور سیلاب میری مرضی سے چلتے ہیں،
ستارے میرے کہنےکے مطابق گردش کرتے ہیں،
میری مرضی کے بغیر ایک پتا درخت سے نہیں گرتا،
میری مرضی کے بغیر کو ئی موت واقع نہیں ہوتی،
میری مرضی کے بغیر زمین سے آسمان تک ایک بھی اگ جنبش نہیں کرسکتی‘‘۔۔۔
میں پچھلے تین دن سے بخا ر میں مبتلا ہوں۔ ایسا بھی نہیں بخار مجھے مسلسل رہا ہے۔ کافی دنوں سے گلا خراب ہو رہا تھا اور تین دن پہلے رات کو ذرا کھانسی کا دورہ پڑا اور صبح بخار۔ دوپہر کو ٹھیک ہوگئی تھی رات کو پھر بخار ہوگیا، اگلے دن بالکل تھی یہ بھی نہیں تھا کہ بخار کے بعد کمزوری محسوس ہو رہی ہو۔ مگر اسی شام پھر بخار ہوگیا۔ اور کل پھر ٹھیک ہو گئی تھی بس یہ سوچا تھا کہ اب ذرا بیڈ ریسٹ کو لوں تاکہ مکمل طور پہ ٹھیک ہو جاؤں پھر بستر کی جان چھوڑ دو ں گی۔
آج رات پھر کھانسی کو دورہ پڑا تھا 2 بجے تھے تب اماں بھی اٹھی تھیں میں نے اماں کو کہا مجھے بھی پانی لا دیں ۔ انہوں نے پانی لا دیا اور میں کھانسی کا شربت پیا۔ اس کے بعد چل سو چل۔ کبھی نیند آجاتی کبھی آنکھ کھل جاتی۔ اسی اثناٰ میں وقت دیکھا تو 5:27 ہو گئے تھے۔ سوچا اماں کو جگا دوں ناشتہ بنا لیں یہی سوچتے پھر سے آنکھ لگ گئی۔ 6 بجے اماں نے لائٹ آن کی تو میں بھی جاگ گئی۔
یہ سب تو میں نے مختصراً حال بتا یا ہے آ پ کو۔ اب آگے چلیے مجھے جو یہ لگ رہا تھا میں ٹھیک ہو گئی ہوں، تو میں نے سوچا نیند تو آنہیں رہی کیوں نا ذرا اماں کے ساتھ جا کے ہا تھ بٹا لیا جائے ۔ ہڈیاں بھی ڈھیٹ ہوگئی تھی آرام کرکر کے لچک ہی ختم ہو گئی تھی۔ میں اٹھنے لگی تو میری گردن میں بل پڑ گیا ۔ اور میں اٹھ کے بیٹھی تو مجھے لگا کہ میرے اندر بہت سی زہریلی گیسیں جمع ہو گئی ہیں سانس لینا مشکل ہو گیا ۔ اس سے پہلے کہ قے آجاتی میں آہستہ سے کھڑی ہوئی اور چپل پہنی۔ دروازہ کھولا اور میرے ذہن کی بتیاں بجھنے لگ گئیں۔ اس سے پہلے کی سب ہی بتیاں بجھ جاتیں میں 6 قدم کا فاصلہ طے کیا اور واقع اندھیرا چھا گیا اور بے بسی کی آخری حدوں کو چھوتے ہو ئے اور اپنے حواسوں کو بحال کرنے کی ناکام کوشش میں ، میں گر پڑی اور گرتے ہوئے آخری لفظ جو میرے منہ سے نکلا"امی"
امی کچن میں تھیں کہنے لگی کیا ہوا ؟
میں نے جواب نہیں دیا تو خود اٹھ کے آئیں مجھے گرا ہو ا دیکھ کے اٹھا یا ، کہنے لگی ایسے کیوں چلی آئی۔ خیر کوئی 1 منٹ کے بعد میرے حواس بحال ہوئے تو میں پانی کے نل کے قریب گئی۔ امی نے پوچھا کیا ہوا ہے؟ میں نےاشارے سے کہا قے آرہی ہے۔ اگلے ایک منٹ میں اسی کیفیت میں رہی کہ جیسے ابھی قے آجائے گی مگر میرے معدے میں پانی کے ایک بوند میں بھی ہلچل نہیں ہوئی۔
اس لئے کہ میں نے رات کو کچھ کھا یا ہی نہیں تھا۔
اگلے لمحے میرا سارا جسم پسینےسے ایسے شرابور تھا جیسے جون جولائی میں بجلی کے چلے جانے پہ ہوتا ہے اور اس سے اگلہ لمحہ اِس سے بھی حیران کن تھا میں کھڑ ی ہوئی تو ایسے ٹھنڈی پڑ گئی جیسے برف کی سِل میں لگا دیا ہو یہاں تک کے میرے کانوں سے سردی نکل رہی تھی۔ جو بھی تھا بہت عجیب تھا۔ میں نے کُلی کی اور چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی کمرے میں اور بستر پہ لیٹ گئی۔
اب اپنے پاؤں پہ کھڑا نہیں ہوا جارہا۔ دھوپ میں بیٹھتی ہوں تو گرمی لگتی چھاؤں میں بیٹھتی ہوں تو سردی لگتی ہے۔ سر ابھی بھی بہت بھاری ہے۔ اور میں سوچ رہی ہوں ابھی میں نے اتوار والے دن ہی دوست کو کہا تھا یار بخار ہی نہیں ہوتا بندہ ذرا خدمت ہی کروا لیتا ہے۔ !!!!!!
آج رات پھر کھانسی کو دورہ پڑا تھا 2 بجے تھے تب اماں بھی اٹھی تھیں میں نے اماں کو کہا مجھے بھی پانی لا دیں ۔ انہوں نے پانی لا دیا اور میں کھانسی کا شربت پیا۔ اس کے بعد چل سو چل۔ کبھی نیند آجاتی کبھی آنکھ کھل جاتی۔ اسی اثناٰ میں وقت دیکھا تو 5:27 ہو گئے تھے۔ سوچا اماں کو جگا دوں ناشتہ بنا لیں یہی سوچتے پھر سے آنکھ لگ گئی۔ 6 بجے اماں نے لائٹ آن کی تو میں بھی جاگ گئی۔
یہ سب تو میں نے مختصراً حال بتا یا ہے آ پ کو۔ اب آگے چلیے مجھے جو یہ لگ رہا تھا میں ٹھیک ہو گئی ہوں، تو میں نے سوچا نیند تو آنہیں رہی کیوں نا ذرا اماں کے ساتھ جا کے ہا تھ بٹا لیا جائے ۔ ہڈیاں بھی ڈھیٹ ہوگئی تھی آرام کرکر کے لچک ہی ختم ہو گئی تھی۔ میں اٹھنے لگی تو میری گردن میں بل پڑ گیا ۔ اور میں اٹھ کے بیٹھی تو مجھے لگا کہ میرے اندر بہت سی زہریلی گیسیں جمع ہو گئی ہیں سانس لینا مشکل ہو گیا ۔ اس سے پہلے کہ قے آجاتی میں آہستہ سے کھڑی ہوئی اور چپل پہنی۔ دروازہ کھولا اور میرے ذہن کی بتیاں بجھنے لگ گئیں۔ اس سے پہلے کی سب ہی بتیاں بجھ جاتیں میں 6 قدم کا فاصلہ طے کیا اور واقع اندھیرا چھا گیا اور بے بسی کی آخری حدوں کو چھوتے ہو ئے اور اپنے حواسوں کو بحال کرنے کی ناکام کوشش میں ، میں گر پڑی اور گرتے ہوئے آخری لفظ جو میرے منہ سے نکلا"امی"
امی کچن میں تھیں کہنے لگی کیا ہوا ؟
میں نے جواب نہیں دیا تو خود اٹھ کے آئیں مجھے گرا ہو ا دیکھ کے اٹھا یا ، کہنے لگی ایسے کیوں چلی آئی۔ خیر کوئی 1 منٹ کے بعد میرے حواس بحال ہوئے تو میں پانی کے نل کے قریب گئی۔ امی نے پوچھا کیا ہوا ہے؟ میں نےاشارے سے کہا قے آرہی ہے۔ اگلے ایک منٹ میں اسی کیفیت میں رہی کہ جیسے ابھی قے آجائے گی مگر میرے معدے میں پانی کے ایک بوند میں بھی ہلچل نہیں ہوئی۔
اس لئے کہ میں نے رات کو کچھ کھا یا ہی نہیں تھا۔
اگلے لمحے میرا سارا جسم پسینےسے ایسے شرابور تھا جیسے جون جولائی میں بجلی کے چلے جانے پہ ہوتا ہے اور اس سے اگلہ لمحہ اِس سے بھی حیران کن تھا میں کھڑ ی ہوئی تو ایسے ٹھنڈی پڑ گئی جیسے برف کی سِل میں لگا دیا ہو یہاں تک کے میرے کانوں سے سردی نکل رہی تھی۔ جو بھی تھا بہت عجیب تھا۔ میں نے کُلی کی اور چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی کمرے میں اور بستر پہ لیٹ گئی۔
اب اپنے پاؤں پہ کھڑا نہیں ہوا جارہا۔ دھوپ میں بیٹھتی ہوں تو گرمی لگتی چھاؤں میں بیٹھتی ہوں تو سردی لگتی ہے۔ سر ابھی بھی بہت بھاری ہے۔ اور میں سوچ رہی ہوں ابھی میں نے اتوار والے دن ہی دوست کو کہا تھا یار بخار ہی نہیں ہوتا بندہ ذرا خدمت ہی کروا لیتا ہے۔ !!!!!!
جب میں میٹرک میں تھی تو ہم اکثر اردو کے پیراگراف کا انگلش میں ترجمعہ کیا کرتے تھے ، ان میں ایک پیراگراف کی لائن مجھے بہت اچھی لگتی تھی جو مجھے ابھی تک یاد ہے،"زندگی کے نشیب و فراز میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب انسان نااُمید ہوجاتا ہے ، مگر اب جا کے مجھے اس کا مطلب سمجھ میں آیا ہے ۔
ہمارے ملک کے موجودہ حالات جن میں، دہشت گردی ، قتل و غارت ، ڈاکہ زنی ، چوری چکاری، دھوکہ دہی بڑی عام باتیں ہیں ۔ اس کے علاوہ مذہب سے دوری اور لوگوں کے رویے ہمیں مایوس کرنے کو کافی ہیں۔ ان حالات میں جب انسان گھر سے نکلتا ہےتو اُسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ زندہ واپس بھی آئے گا کہ نہیں ، کسی بم دھماکے کی نذرہو جائے گا ! یا راستے میں لوٹ لیا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ سب انسا ن کو مایوس اور ذہنی طور پر مفلوج کرنے کے لئے کافی نہیں ہے، ایسے میں کس طرح نوجوان نسل کی میں کام کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گی ۔ غریب لوگ اپنے بچوں کی دو وقت کی روٹی کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں ۔ مہنگائی نے سب کو متاثر کیا ہے۔
لیکن پھر بھی امید کے سہارے ہی دنیا قائم ہے ۔ کل میں ایک ڈائجسٹ پڑھ رہی تھی تو مجھے ایک بات بہت اچھی لگی، . ضروری یہ نہیں ہوتا کہ ہمیں خوش رہنے کے لیے کتنی آسائشیں درکار ہیں بلکہ ضروری یہ ہوتا ہے ہم کتنی آسائشیوں میں خوش رہنا سیکھ جاتے ہیں"! اور اگر ہم اس بات کو یوں لے لیں کہ ضروری یہ نہیں کہ ہم مایوس کتنے ہیں ؟ ہمارے اردگرد مشکلات اور الجھنوں کا گھیر ا کتنا تنگ ہے بلکہ ضروری یہ ہے کہ ان مشکلات اور الجھنوں کے جال میں ہم ایک چھوٹی سی خوشی کو کس طر ح تلاش کرسکتے ہیں؟ زندگی شطرنج کی بازی کی طرح ہے۔ جب سارے راستے بند ہوجائیں تو ایک راستہ ضرور کھلا ہوتا ہے اور اُسی ایک راستے کو تلاش کرنے کے لئے ہمیں اپنے ذہین کی تمام کھڑ کیاں کھلی رکھنی ہو تی ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں" ایک در بند سو کھلے" ہم زندگی میں اکثر اس لیے مایوس ہوجاتے ہیں کہ ہم اپنے نفس کو بے لگام چھوڑ دیتے ہیں ، اس کی ہر خواھش کو پورا کرنا چاہتے ہیں ۔ انسان اگر نفس کے تقاضوں کو پورا کرنے لگے تو نفس بہت طاقتور ہوجاتا ہے اور انسا ن نفس کا غلام بن جاتا ہے۔ اور اگر ہم نفس کو پسپا رکھیں اور خو د کو مار دیں تو ہم انسا نیت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہو سکتے ہیں۔
مگر آج کا انسان! مایوس ہوکر اپنی ہی زندگی کو ختم کرنے کے درپے ہوجاتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ مر کر وہ تمام حالات سے نجات پا لے گا۔ میں نے محفل پہ ہی "کھیل ہی کھیل کے ایک دھاگے میری ڈائر ی کا ایک ور ق " پہ بوچھی اپیا کا ایک پیغام پڑھاتھا۔ جو کہ شاید کچھ ایسے تھا
" بے بسی کے دن لمبے اور راتیں چھوٹی ہوتیں ہیں ۔ ناکام ی کے بارے میں نا سوچا کرو ایسی سوچیں انسا ن کے ذہن کو کمزور اور لاغر بنو دیتیں ہیں ۔ ناکامی کو نصیب سمجھ کر قبول کر لینا چاہئے جس کا دائرہ مہکنے میں وسیع اور سمجھنے میں محدود ہوتا ہے"
مگر ان سے باوجود ہم انسا ن ہیں اور ہم مایوس ہوتے ہیں ۔ میں خود بھی مایوسی کا شکار ہوتی ہوں اور مایوسی بھی انتہا کی۔ مگر ایسے میں جب لوگوں کے رویے مجھے مایوس کر دیں اور مجھے دنیا میں کو ئی اپنا نا نظر آئے اور مجھے لگے کہ میں کسی سے اپنی پریشانی نہیں کہہ سکتی ہوں اور مجھے لگے کہ مجھے میری طرح کوئی نہیں سمجھ سکتا ۔ نہر میں بھی اگر پانی اس کی اوقات سے زیادہ ہوجائے تو اس کے کناروں سے باہر آنے لگتا ہے ۔ اسی طرح وہ سب کچھ جب میری آنکھوں سے عیاں ہونے لگے ، تو میں شیشے کے سامنے بیٹھ جاتی ہوں اور اپنی پریشانی اپنی ذات سے کہتی ہوں۔ یا شام کو ڈوبتے سورج کے وقت اکیلی چھت پے جا کے آلتی پالتی مار کے بیٹھ جاتی ہوں ۔ کچھ دیر فرش پہ لکیریں کھنچتی ہوں ۔ پھر دیرتک ان کو خالی ذہین کے ساتھ تکتی رہتی ہوں ، پھر اپنی ذات کا محاصر کرتی ہوں اپنے اعمال کا جائزہ لیتی ہوں۔ ناکامی اور مایوسی کے بادل ذہن میں اندھیرا کر دیتے ہیں اور پھر بارش ہونے لگتی ہے، رب کو پکارتی ہوں ، اس سے گلہ کرتی ہوں شکوہ کرتی ہوں ، پھر خودہی معافی مانگتی ہوں، پھر دعا کرتی ہوں اور دعا میں صرف سکون مانگتی ہوں ۔ یا میں نمازپڑھتے ہوئے ہر سجدے میں روتی ہوں۔پتا نہیں کہاں سے آجاتے ہیں اتنے آنسو! اور حیر ت کی بات ہے میرا ذہین ہلکا ہو جاتا ہے ۔ پر یہ سب میں کسی کے سامنے نہیں کرتی کہ لوگ مجھے پاگل خیال کریں گے۔ شاید آپ میں سے بھی کو ئی شیشے کے سامنے بیٹھ کر باتیں کرنے والے کو اکثر پاگل ہی سمجھے۔
مگر سچ تو یہ کہ میں اپنی نفسیات جانتی ہوں اور مجھے پتا ہے کہ میں نے ناعمہ کو کیسے قابو میں رکھنا ہے ، اور کیسے کسی انتہائی قدم سے کسی غلط راستے سے روکنا ہے۔
یہ تو رہی میں ، آپ کیسے اپنے آپ کو قابو کرتے ہیں؟
ہمارے ملک کے موجودہ حالات جن میں، دہشت گردی ، قتل و غارت ، ڈاکہ زنی ، چوری چکاری، دھوکہ دہی بڑی عام باتیں ہیں ۔ اس کے علاوہ مذہب سے دوری اور لوگوں کے رویے ہمیں مایوس کرنے کو کافی ہیں۔ ان حالات میں جب انسان گھر سے نکلتا ہےتو اُسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ زندہ واپس بھی آئے گا کہ نہیں ، کسی بم دھماکے کی نذرہو جائے گا ! یا راستے میں لوٹ لیا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ سب انسا ن کو مایوس اور ذہنی طور پر مفلوج کرنے کے لئے کافی نہیں ہے، ایسے میں کس طرح نوجوان نسل کی میں کام کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گی ۔ غریب لوگ اپنے بچوں کی دو وقت کی روٹی کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں ۔ مہنگائی نے سب کو متاثر کیا ہے۔
لیکن پھر بھی امید کے سہارے ہی دنیا قائم ہے ۔ کل میں ایک ڈائجسٹ پڑھ رہی تھی تو مجھے ایک بات بہت اچھی لگی، . ضروری یہ نہیں ہوتا کہ ہمیں خوش رہنے کے لیے کتنی آسائشیں درکار ہیں بلکہ ضروری یہ ہوتا ہے ہم کتنی آسائشیوں میں خوش رہنا سیکھ جاتے ہیں"! اور اگر ہم اس بات کو یوں لے لیں کہ ضروری یہ نہیں کہ ہم مایوس کتنے ہیں ؟ ہمارے اردگرد مشکلات اور الجھنوں کا گھیر ا کتنا تنگ ہے بلکہ ضروری یہ ہے کہ ان مشکلات اور الجھنوں کے جال میں ہم ایک چھوٹی سی خوشی کو کس طر ح تلاش کرسکتے ہیں؟ زندگی شطرنج کی بازی کی طرح ہے۔ جب سارے راستے بند ہوجائیں تو ایک راستہ ضرور کھلا ہوتا ہے اور اُسی ایک راستے کو تلاش کرنے کے لئے ہمیں اپنے ذہین کی تمام کھڑ کیاں کھلی رکھنی ہو تی ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں" ایک در بند سو کھلے" ہم زندگی میں اکثر اس لیے مایوس ہوجاتے ہیں کہ ہم اپنے نفس کو بے لگام چھوڑ دیتے ہیں ، اس کی ہر خواھش کو پورا کرنا چاہتے ہیں ۔ انسان اگر نفس کے تقاضوں کو پورا کرنے لگے تو نفس بہت طاقتور ہوجاتا ہے اور انسا ن نفس کا غلام بن جاتا ہے۔ اور اگر ہم نفس کو پسپا رکھیں اور خو د کو مار دیں تو ہم انسا نیت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہو سکتے ہیں۔
مگر آج کا انسان! مایوس ہوکر اپنی ہی زندگی کو ختم کرنے کے درپے ہوجاتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ مر کر وہ تمام حالات سے نجات پا لے گا۔ میں نے محفل پہ ہی "کھیل ہی کھیل کے ایک دھاگے میری ڈائر ی کا ایک ور ق " پہ بوچھی اپیا کا ایک پیغام پڑھاتھا۔ جو کہ شاید کچھ ایسے تھا
" بے بسی کے دن لمبے اور راتیں چھوٹی ہوتیں ہیں ۔ ناکام ی کے بارے میں نا سوچا کرو ایسی سوچیں انسا ن کے ذہن کو کمزور اور لاغر بنو دیتیں ہیں ۔ ناکامی کو نصیب سمجھ کر قبول کر لینا چاہئے جس کا دائرہ مہکنے میں وسیع اور سمجھنے میں محدود ہوتا ہے"
مگر ان سے باوجود ہم انسا ن ہیں اور ہم مایوس ہوتے ہیں ۔ میں خود بھی مایوسی کا شکار ہوتی ہوں اور مایوسی بھی انتہا کی۔ مگر ایسے میں جب لوگوں کے رویے مجھے مایوس کر دیں اور مجھے دنیا میں کو ئی اپنا نا نظر آئے اور مجھے لگے کہ میں کسی سے اپنی پریشانی نہیں کہہ سکتی ہوں اور مجھے لگے کہ مجھے میری طرح کوئی نہیں سمجھ سکتا ۔ نہر میں بھی اگر پانی اس کی اوقات سے زیادہ ہوجائے تو اس کے کناروں سے باہر آنے لگتا ہے ۔ اسی طرح وہ سب کچھ جب میری آنکھوں سے عیاں ہونے لگے ، تو میں شیشے کے سامنے بیٹھ جاتی ہوں اور اپنی پریشانی اپنی ذات سے کہتی ہوں۔ یا شام کو ڈوبتے سورج کے وقت اکیلی چھت پے جا کے آلتی پالتی مار کے بیٹھ جاتی ہوں ۔ کچھ دیر فرش پہ لکیریں کھنچتی ہوں ۔ پھر دیرتک ان کو خالی ذہین کے ساتھ تکتی رہتی ہوں ، پھر اپنی ذات کا محاصر کرتی ہوں اپنے اعمال کا جائزہ لیتی ہوں۔ ناکامی اور مایوسی کے بادل ذہن میں اندھیرا کر دیتے ہیں اور پھر بارش ہونے لگتی ہے، رب کو پکارتی ہوں ، اس سے گلہ کرتی ہوں شکوہ کرتی ہوں ، پھر خودہی معافی مانگتی ہوں، پھر دعا کرتی ہوں اور دعا میں صرف سکون مانگتی ہوں ۔ یا میں نمازپڑھتے ہوئے ہر سجدے میں روتی ہوں۔پتا نہیں کہاں سے آجاتے ہیں اتنے آنسو! اور حیر ت کی بات ہے میرا ذہین ہلکا ہو جاتا ہے ۔ پر یہ سب میں کسی کے سامنے نہیں کرتی کہ لوگ مجھے پاگل خیال کریں گے۔ شاید آپ میں سے بھی کو ئی شیشے کے سامنے بیٹھ کر باتیں کرنے والے کو اکثر پاگل ہی سمجھے۔
مگر سچ تو یہ کہ میں اپنی نفسیات جانتی ہوں اور مجھے پتا ہے کہ میں نے ناعمہ کو کیسے قابو میں رکھنا ہے ، اور کیسے کسی انتہائی قدم سے کسی غلط راستے سے روکنا ہے۔
یہ تو رہی میں ، آپ کیسے اپنے آپ کو قابو کرتے ہیں؟
Subscribe to:
Posts (Atom)
