بھائی کے نام

یہ حقیقت ہے تو خواب کیوں نہیں ہو جاتی!

تیرے جانے کی سچائی سراب کیوں نہیں ہو جاتی !

کیوں ہوں میں اسقدر یقین و وہم میں مبتلا

یہ کہانی ہے تو مجھ پر وا کیوں نہیں ہو جاتی !

اکثر لگتا ہے یونہی ہنستے کھیلتے چلے آؤ گے تم

یہ امیدجھوٹی ہے تو راکھ کیوں نہیں ہو جاتی !

میں صبر و تحمل کی سب حدود و قیود میں ہوں

میرے ذہن و دل سے تمھاری یاد نہیں جاتی !!

میرے لبوں پہ التجا ہے دعا ہے تیرے واسطے

میری دعاؤں کی ہر راہ ہے تیری طرف جاتی ۔۔

از : ناعمہ عزی
ز
ہنستے چہرے ، باتوں میں دم
کھانا زیادہ ، پڑھائی کم
کہنا ہے تمھیں اتنا ہم دم
ڈھونڈو گے اگر کالج کالج
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
پریزنٹیشن کے وقت آوازیں مدھم
کانفڈنٹ لیول باعثِ شرم
اُٹھا کے سر فخر سے یہ کہتے ہیں ہم
ڈھونڈو گے اگر کالج کالج
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
بھگتی ہے ڈھیرو ڈانٹ ڈپٹ
پر آیا نہیں گردن میں خم
کہنا ہے تمھیں اتنا ہم دم
ڈھونڈو گے اگر کالج کالج
ملنےکے نہیں نایاب ہیں ہم
مجبوری تو ہے پر حقیقت ہے یہ
کالج چھوڑنے کا ہے ہم سب کو غم
کوئی مانے نا مانے مگر سچ ہے یہ
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہیں ہم ۔۔۔
از ۔۔۔ ناعمہ عزیز
آج کل تازہ ترین موضوع سیاست ہے ، ہر وہ میرے جیسا بندہ جسے نا سیاست میں دلچسبی ہے اور نا ہی اس کے بارے میں معلومات ہے سیاست پر بحث کرتا نظر آرہا ہے ، میں تو ویسے ہی اس موضوع سے بچتی ہوں ، الیکشن سے پہلے ہر بندے کی رائے کی ساری پارٹیوں کے بابت اپنی اپنی رائے تھی ہر کوئی دلائل دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ فلاں کو ووٹ دینا چاہئے ، بھئی سچی بات تو یہ ہے کہ میری زندگی کا پہلا ووٹ تھا جو میں نے کل دیا ، بلال بھائی نے کہا تھا ووٹ پی ٹی آئی کو دینا ہے ہمارے گھر سے چھ ووٹ پی ٹی آئی کو گئے ، مقصد یہ تھا کہ کچھ تبدیل ہو ہم سب تبدیلی چاہتے ہیں ، ہم ملک کے حالات کی بہتری ہم اپنی اور قوم کی بہتری چاہتے ہیں ، ہم وہ قیادت چاہتے ہیں جو پاکستان کو ترقی پذیر سے ترقی یافتہ بنائے ۔
الیکشن سے پہلے یہ حال ہے تھا کہ لوگ سیاستدانوں پر کیچڑ اچھالنے پر لگے تھے ، زرداری انکل کی تو جو مٹی پلید کرنی تھی وہ کی ساتھ ہی ساتھ عمران خان اور نواز شریف اور شہباز شریف پر تنقید کا سلسلہ کثرت سے جاری تھا ، ہمارے پاکستانیوں کا اور کوئی مسئلہ نہیں یہ تنقید اتنی پابندی سے کرتے ہیں جتنی پابندی سے ان کو عبادت کرنی چاہیے ،
لو جی الیکشن ہو گئے سیاپا مکا، ن لیگ فتح قرار پائی ، مجھے کوئی افسوس نہیں ، تحریک انصاف کو جتنی سیٹیں ملیں بڑی ہیں ،
اب آتے ہیں اصل مسئلے کی طرف، جو یہ ہے کہ اب ہر ہر ن لیگ کا ووٹر اور ن لیگ کا نعرہ لگانے والا پی ٹی آئی کے ووٹرز کو جھنڈی دکھا رہا ہے ، او اللہ دے بندیو ! تانو ملک نال غرض اے کہ پارٹی نال ؟؟؟ پارٹی سب کی ایک نا ہو گی ملک تو ایک ہی ہے کہ نہیں ؟
ابھی تھوڑی دیر پہلے مجھ سے کسی نے پوچھا جی کہ کہاں ہے آپ کا بلا ؟؟ نظر نہیں آ رہا ، اور اردو محفل پر آ کے دیکھا تو میں تو حیران ہو گئی ، فتح جس کو بھی ملی بجائے دوسروں پر تنقید کرنے اور پارٹی کی اچھائیاں بیان کرنے کے اللہ سے دعا کرو کہ وطن عزیز کی تقدیر جن ہاتھوں میں گئی اللہ ان کو مضبوط بنائے ، اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں ان کی مدد فرمائے ۔ اور ان کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے ۔ آمین
پین سیلویا دے کرتوت پُل نا پاواں گے
رچرڈ ویلبر نوں تے اسی پُھل چڑواں گے
ایشبیری دیاں نظماں اُتے طمالاں پاونیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں

ایڈرینن ریچ دا فیمینیزم پار لایا سی
کروسی بل دا جادو وی کر کے دکھایا سی
کیویں کیویں پڑھ کے اساں نیپڑے توڑیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں

ایڈورڈ سید دی سچی گل اے سمجھ نہ آئی سی
بیکن رسل نوں تے اسی سلامی پائی سی
پاہ سوفٹ نوں پڑھ کے ساریاں اے ہی بولیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں

ملٹن نوں پڑھان لئی ساڈی مس نا منی سی
سرے وائٹ دیاں نظماں دی وی لت پنی سی
ڈن نوں پڑھ کے کنیاں سانوں شرماں آونیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں

سفوکل نے کنگ کوئین دے نال ملایا سی
فاوسٹس نے جہنم دا نظارہ کرایا سی
اوسکر وائلڈ پڑھ کے ہس ہس کھلیاں پاونیاں
انگریزاں دیاں کتاباں سانوں یاد آونیاں ۔



بہار آئی
تو جیسے یک بار لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے
وہ خواب سارے
شباب شارے
ایگری کلچر یونیورسٹی فیصل آباد میں ہر سال جشن بہاراں کے سلسلے میں ایک میلے کا اہتمام کیا جاتا ہے ، جس میں اندرون و بیرون ملک سے لوگ شرکت کرتے ہیں ، دنیا بھر کے پھولوں اور جانوروں کی نمائش ہوتی ہے ۔ اور جب بہار آتی ہے تو ہر جگہ ہی نظر آنے لگتی ہے ، ٹھنڈی ہواؤں میں پھولوں کی خوشبو کا امتزاج، درختوں، بیلوں ، ٹہنیوں پر لدے پھول، ہرطرف قدرتی حسن چھا جاتا ہے ۔ زندگی لوٹ آتی ہے ، کالج جاتے ہوئے ، کنال روڈ نہر کے کنارے لگے قطار در قطار سفیدے کے درخت نہر کی خوبصورتی میں اصافہ کرتے آنکھوں کو بہت بھلے لگتے ہیں، اور کنال روڈ سے اتر کے دونوں سڑکوں کے درمیان گارڈن میں طرح طرح کے پھول، پھلوں کے درخت چھو لینے اور گھاس پر ننگے پاؤں چلنے کی خواہش بڑھنے لگتی ہے ، ہاں مگر سڑک کے اس پار بیٹھے اس بوڑھے شخص پر مجھے کسی موسم کا کوئی اثر نہیں لگتا ، سردی ، گرمی، بہار ، خزاں میں اس بوڑھے شخص کو وہاں ہی بیٹھے دیکھا ہے ، گنتی کے چند ایک کپڑے ، کبھی کبھی چائے کا ایک کپ تھامے ، چپ چاپ بیٹھے اس شخص کو دیکھ کر خزاں کا گمان گزرتا ہے ، دل کرتا ہے ان کے پاس جاؤں اور پوچھوں
بابا جی تسی ایتھے ای کیوں بیٹھے رہندے او ؟
بابا جی روٹی دا انتظام کتھوں کر دے او ؟
بابا جی تواڈی اولاد کوئی نہیں ِ؟

غرض کئی سوال ذہن میں لئے میں روز وہاں سے گزر جاتی ہوں ، مگر خزاں کا گمان صرف ان باباجی کو دیکھ کر ہی نہیں ہوتا، یہاں ہر شخص خزاں رسیدہ ہے ، اپنے اندر خزاں کا موسم چھپائے ہوئے ہے ، ایسا ہی نہیں بہار، گرمی سردی بھی انسانوں کے اندر چھپی ہے مگر خزاں کا موسم مستقل ہے بالکل بابا جی کے مستقل چپ کی طرح !
جو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھے
نکھر گئے ہیں گلاب سارے
یادوں کے موسم کو خزاں سے بھی تشبہیہ دی جاتی ہے ، اور شاید ہر کسی کے اندر یاد کا موسم ایسے ہی ہے جیسے کسی بوڑھے درخت کی جڑ، کہیں بہت اندر تلک ، بہت گہری !

جو تیری یادوں سے مشک بو ہیں
جو تیری عشاق کا لہوں ہیں
ابل پڑے ہیں عذاب سارے
کہنا صرف اتنا ہی ہے کہ موسم گرمی ہو یا سردی ، خزاں رہے یا بہار ، جب اندر کے موسم اچھے ہوں ، سکون اور اطمینان کے وسعتوں کو چھوتے ہوں تو خزاں بھی بہار لگنے لگتی ہے ، جون کی سخت دھوپ میں بھی ٹھنڈک اندر اتر جاتی ہے ۔ اور جب اندر بے سکونی کے گھٹاٹوپ اندھیرے لئے ، یادوں کے طوفان اپنی بپھرتی موجوں کے ساتھ آنکھوں میں اتر آتے ہوں تو مقابل بہار ہو ، قدرتی حسن کی بھرمارہو یا سرما کی پہلی بارش وہ طوفان آ کر ہی رہتا ہے ۔
ملال احوال دوستاں بھی
خمار آغوش مہوشاں بھی
غبار خاطر کے باب سارے
بہار آئی تو کھل گئے ہیں
نئے سرے سے حساب سارے۔



مرے طزر و فکر کا نقش گر
مرِی عقل و فہم سے بالاتر
کہ میں جان لوں تیرا راستہ
مِرا قلب تو ہے تیرا ہی گھر
مرِی آنکھ میں تیرا عکس ہو
مجھے خود میں اتنا فنا توُ کر
میں چھپی ہوں خود میں ہی کسقدر
مجھے کھول دےمیری ذات پر
مجھے آگہی کی دے روشنی
دے میرے جنون کو ر ہگزر
مرِی زندگی کا ہر اک سفر
ترِی راہ میں ہو گزر بسر
از: ناعمہ عزیز
میری شاعری کو پڑھ کے
میری دوستیں پوچھتی ہیں
سنو گڑیا
کہیں تمھارے لفظوں میں
خوشی کے رنگ ملتے ہیں
کہیں تمھارے جذبوں میں
غموں کے تاثر دکھتے ہیں
کہیں تم روتی ہوں
شدتِ غم کے حوالوں سے
کہیں چپ سی نظر آتی ہو
گہرے خیالوں میں
مگر جب تم
ہمارے ساتھ ہوتی ہو
تو تمھاری آنکھوں میں دُکھ کا
کوئی سایہ نہیں دِکھتا
تمھاری مسکراہٹ
زندگی سے بھرپور ہوتی ہے
کہ تم گنگناتی ہوں
تم سب مدہوش ہوتے ہیں ،
ہمیں اک بتلاؤ
تمھارا کونسا ہے روپ ؟
جسے اصلی سمجھ لیں ہم ؟
تو دھیرے سے میں کہتی ہوں
بہت سادہ سے لفظوں میں
مجھے یہ بات کہنی ہے
کہ میرے لفظ میری شاعری ہے ترجمہ میرا
کہ میں خود ہی نہیں ہوں جانتی اپنا کوئی پتا
ہاں پر اتنی حقیقت ہے
کسی اپنے کے ہجر نے
بہت ہی توڑ ڈالا ہے
وجہ بس اتنی سی ہے کہ
میرے لفظوں کی سب راہیں
اسی منزل کو جاتی ہیں
تو سب محسوس کرتے ہیں
طوفان غم کی شدت کو
میرے سب لفظ سب کو ٹوٹے پھوٹے بکھرے سے لگتے ہیں
میرے جذبے سبھی کو روکھے سوکھے گہرے لگتے ہیں
مگر
خود کو چھپا کر مسکراہٹ کے پردے تلے
میں مسکراتی، کھکھلاتی ، چہچہاتی ہوں
کہ میں یہ جانتی ہوں
زندگی کی قوس قزح کے رنگ ہیں یہ سب
بنا ان کے ادھوری ہوں
اور ان کے سنگ پوری ہوں !

از: ناعمہ عزیز

Total Pageviews

Powered By Blogger

Contributors

Followers