پاگل پن ایک بیماری ہے اور مجھے نہیں پتا پاگل انسان کس طرح کا ہوتا ہے!! میں اپنی طرز کی ایک عجیب سی پاگل ہوں ، فرسٹر یشن بھی ایک بیماری ہے ، اور مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے کہ یہ پاگل پن کی ایک قسم ہے کیونکہ جب میں فرسٹریشن کا شکار ہوتی ہوں تو میری کیفیت بالکل پاگلوں جیسی ہوتی ہے، انسان کو اپنی فرسٹریشن باہر نکالنے کے لئے بھی ایک زندہ انسان کی ضرورت پڑتی ہے، جس پر وہ جی بھر کی اند ر کا کوڑا کڑکٹ نکال لے، پر ضروری نہیں ہے کہ وہ بندہ ہمیں سمجھتا بھی ہو!!
اور ایسی حالت میں جب انسان ذہنی دباؤ کا شکار ہو اور مایوسی جیسے مرض میں مبتلا ہو تو پھر اللہ ہی وارث ہے!!
باتوں کی حد تک ہم بہت آگے آگے ہوتے ہیں پر عمل کرنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے، اشفاق احمد بھی فرمایا کرتے تھے کہ میں دنیا میں گوڈے گوڈے دھنسا ہوا ہو ں ۔
میرے پاس تو علم نہیں ہے عمل بھی نہیں ہے، مجھے لگتا ہے اگر دنیا میں کوئی بندہ ناکام ہے تو مجھ سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا کیونکہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے،
صوفی لوگ گلہ نہیں کیا کرتے تھے شکوہ نہیں کرتے، ساری دنیا ان کے اشاروں پر ناچتی ہے ، اس لئے کہ دنیا میں جو ہو تا ہے وہ اللہ کی مرضی سے ہو تاہے اور صوفی لوگ اللہ کی رضا میں راضی رہتے ہیں!!
جب میں فرسٹریشن کا شکا ر ہوتی ہو ں تو میں بھی یہ سوچتی ہو ں کہ جو ہو رہا ہے اللہ کے حکم سے ہے پر پھر بھی انسان ہوں قدم ڈگمگا ہی جاتے ہیں۔ یہ جان کر بھی سب کچھ اسی کے حکم سے ہے میں عام فہم لوگوں کی طرح گلہ بھی کرتی ہوں اور شکوہ بھی۔۔۔
عجیب بے بسی ہے کہ میں سچ لکھنا بھی چاہتی ہوں کہنا بھی چاہتی ہوں اور کہہ بھی نہیں سکتی!!
میں اپنی فرسٹریشن کو باہر نکالنا بھی چاہتی اور نکال بھی نہیں پاتی، کوئی حل نہیں ہے بیکا ر ہے سب !
اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اپنی مرضی سے بھیجا اپنی مرضی سے اٹھائیں گے، اور دنیامیں رکھ کر بھی کہتے ہیں کہ اگر میری مرضی پہ نا چلو گے تو نامراد ہو ناکام ہو!!
کیسا اصول ہے!
کیسی کشمکش ہے!
جب ہم اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کر سکتے تو پھر فرسٹریشن کا شکار کیوں ہوں!
ایک طرف اس بات پر یقین ہے کہ جو ہوتا ہے بہتری کے لئے ہو تا ہے اور ایک طرف مایوسی کے دورے!!
میں کہتی ہوں کہ اگر آپ سے کچھ چھن جاتا ہے تو اسی کے بدلے میں کچھ نا کچھ مل بھی جاتا ہے!
پر مسئلہ یہ ہے کہ یقین کی کمی ہے ، اور کیوں یہ بھی نہیں معلوم !
کہتے ہیں بندے کے پاس یقین ہو تو وہ ساری دنیا فتح کر سکتا ہے! ہم سے اپنا آپ فتح نہیں ہوتا دنیا خاک فتح کریں گے!!!!!!!

اتنا کچھ لکھ کر بھی فرسٹریشن سے جان نہیں چھوٹی!!!


مایوسی کفر ہے۔ ہم انسان امید کے سہارے زندہ ہیں اور یہ دنیا امید کے سہارے قائم ہے:)،

جی ہاں میں بات کر رہی ہوں پا کستان کی، میں آج چودہ اگست 2011 کو پاکستان کے خالات حاضرہ پر روشنی نہیں ڈالوں گی، مین پاکستان کے حکمرانوں کو بُرا بھلا بھی نہیں کہوں گی ، میں یہ بھی نہیں کہوں گی کہ قتل و غارت اور دہشت گردی کا بازات گرم ہے، میں یہ بھی نہیں کہوں لٹرے پاکستان کو لوٹتے جارہے ہیں۔۔۔۔

آج 14 اگست 2011 کو میں صرف اتنا ہی کہوں گی کہ اگر ہم چاہتے ہیں پاکستان، پاکستان بن جائے تو اپنی شخصی آزادی سے آزاد ہو کر ایک شہری کی حیثیت سے اپنا فرض ادا کرنا چاہئے،
نوجوانوں کو پاکستان کے مستقبل سے خوفزدہ نہیں ہو نا چاہئے کیونکہ اگر ہم  چاہیں کو ساری دنیا کو فتح کر سکتے ہیں اور پاکستان کو فتح کرنے کی ضرورت نہیں، ہمیں تو صرف حالات بدلنےہیں۔۔۔

کہتے ہیں چیزون کی قدر دو وقت میں ہوتی ہے
ایک تب جب وہ ہماری پہنچ میں نا ہوں اور ایک تب جب وہ ہماری پہنچ میں آکر نکل جائیں۔۔
جی پاکستان کی قدر ان لوگوں کو تھی جن کے پاس یہ نہیں تھا اور  ہمیں اس دن ہو گی جب ہمارے پاس نہیں ہو گا اور اللہ نا کرے ایسا کوئی وقت آئے اس لئے
LOVE YOU FREEDOM AND LOVE PAKISTAN
HAPPY INDEPENDENCE DAY TO ALL PAKISTANIS ۔۔۔۔۔۔


.
کہتے ہیں جب ایک سانس آ کر گزر جاتا ہے تو گویا موت کی طرف ایک قدم بڑھ جاتا ہے اور یہاں تو آوے کا آوا ہی گزر گیا ، مطلب پورا ایک سال!! جی ہاں عرف عام میں ہم بائیس سال کے ہو گئے ہیں!! چھوٹے بھیا کے مطابق عقل ابھی گھٹنوں میں ہی ہے، اور میرا اپنا خیال یہ ہے کہ شاید گھٹنوں سے بھی نیچے رہ گئی ورنہ بائیس سالوں میں کچھ نا کچھ تو ترقی مل ہی گئی ہوتی!!
اور بڑے بھیا کے مطابق دماغ میں مغز کے نام پر بھی بھوسا بھرا ہوا ہے اب بھلا ان کو کون سمجھائے کہ میں نے سفارش نہیں کی اللہ سائیں سے کہ دنیا جہان کا بھوسا ہما رے ہی دماغ میں بھر دیں، وہ تو بھلا ہو اللہ سائیں کا کہ بھوسا ہی بھر ڈالا اگر خالی ہی رہنے دیتے تو پھر نجانے ہمیں کیا کیا طعنے اور کوسنے سننے کو ملتے۔
اور میری اماں جان کو خیا ل ہے کہ
’’کام کی نا کاج کی دشمن اناج کی‘‘
کہ ہاں عرف عام میں میری اماں کی باتوں کا یہی مطلب نکلتا ہے پر قسم ہے اس بھوسے کی کہ جو میرے دماغ میں بھرا ہے اور اس عقل کی کہ گھٹنوں سے نیچے ہی رہ گئی کبھی بھی میری إماں نے یہ مختصر سا جملہ بولنے پر اکتفا نہیں کیا ہمیشہ وضاحت دیتیں ہیں
چھوٹی بہن کہتی ہے کہ تم لٹریچر پڑھ کر کیا کرو گی زیادہ سے زیادہ ٹیچر ہی لگ جاؤ گی نا ، آئی ٹی طرف ہی دھیان دو اپنا، دو چار پیسے کما لو گی، یعنی کہ وہی ، جی ہاں آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ وہ مجھ سے زیادہ عقلمند ہے ، ہاں نا تو کوئی بات نہیں ہم تو پہلے ہی اعتراف جرم کر چکے ہیں کہ ہمیں بنا عقل کے ہی دنیا میں بھیجا گیا تھا,
جب کہ ہمارا ذاتی خیال ہے کہ اس بار سی ایس ایس کا امتحا ن پاس کر کے دنیا کو حیران کر دیں ہاہاہاہاہاہاہا، آخر کو خوابوں میں چھچھرے دیکھنے کا ہمارا بھی من کر تا ہے
اور چھوٹے تو مجھ پہ باقاعدہ رعب ڈالتے ہیں ، ایک دن ہم کمپیوٹر پر ہی بیٹھے نیٹ گردی میں مصروف تھے کہ خالہ کی بیٹی جو کہ پانچویں کلاس کی طالبعلم ہےا ور بیٹا جو کہ چہارم میں پڑھتا ہے نے آ کر ہمیں بڑے رعب سے مخاطب کیا ،
کیا ناعمہ آپی اب اٹھ بھی جاؤ نا ہم نے کارٹون دیکھنے ہیں۔ ہم حیران بھی ہوئے اور پریشان بھی ، اور بڑی مسکین سے صورت بنائے ان سے سوال کی جسارت کی،
کہ جب عائشہ(چھوٹی بہن) بیٹھی ہوتی ہے تو اسے تو نہیں کہتے اٹھ جاؤ،
تو انہوں سے بڑی شان سے جواب دیا عائشہ باجی سے ڈر لگتا ہے آپ سے نہیں لگتا ،
اور اس دن سے ہم اس احساس کمتری میں مبتلا ہیں کہ چھوٹوں پر بھی اپنی دھاک نہیں بیٹھا سکے
پورے گھر بھر میں ایک ہی ہماری لاڈلی ہے، صالحہ، جی ہاں بچپن سے اب تک اماں کے بعد اسکا وقت ہمارے ساتھ ہی گزرتا ہے ، ہمارے لاڈ پیار نے اسے بھی اتنا بگاڑ دیا ہے کہ بس ،ا ب تو اماں سے او ر عائشہ سے اس لئے بھی ڈانٹ پڑ جاتی ہے کہ تم نے بگاڑا ہے، اب بھگتو ، مگر اتنا بگاڑنے کے باوجود بھی ہمارے محبت میں کوئی کمی نہیں آئی،
اور اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ پچھلے چھ دن سے وہ اور اس سے بڑی بہن خالہ کہ ہاں گئے ہیں چھٹیاں گزارنے کے واسطے اور ہم تھے کہ تیسرے ہی دن اداس ہو گئے ، پر کیا کرتے مجبوری تھی اپنی اداسی کو الفاظ کی زبان نا دے پائے، کل شام ابا جی موبائل لے کے خالو کو فون کیا کہ ذرا دیر کو اپنی لاڈلی بہن کی آواز ہی سن لیں تو انہوں نے کہ خالہ کے نمبر پہ فون کر لو میں ذرا مصروف ہوں ، اور ابا جی تو پہلے ہی دھمکی لگا چکے تھے کہ خبردار بیلنس ضائع نا کرنا آج ہی کروایا ہے بس پھر کیا تھا ڈرتے مارے ہمت ہی نا ہوئی کہ پھر سے فون کر لیتے ہیں۔
اور آج چونکہ میری سالگرہ کا دن تھا صبح ہی صبح خالہ کو فون آیا کہ صالحہ کو بخار ہو گیا ہے اور ہم نے فورا ہی اپنا بیان دینا مناسب سمجھا کہ دیکھا وہاں جا کر میرے بغیر ادا س ہو گئی،،، اماں صبح سے لینے گئی ہیں اور ہم انتظار کر رہےہیں کہ اب بھی آئی اب بھی آئی ، اور اسی انتطا ر میں دوپہر بھر ہمیں نیند بھی نہیں آئی۔۔ خیر اب وہ آگئی تو ہمیں سکون ہوا ہے،،
اور ہماری دوستوں کے خیا ل ہمارے بارے میں کچھ ایسے ہیں کہ ہم ان کے لئے انٹر ٹینمنٹ کا اچھا ذریعہ ہیں، البتہ انٹر نیٹ پر ہماری بونگیاں دیکھ کر انکو کبھی یقین نہیں آیا کہ میں بظاہر ہنس مکھ سی کڑی زندگی میں کبھی کسی لمحے میں سنجیدہ بھی ہو سکتی ہوں
یہ تو تھی ہماری کچھ نااہلی ، اور لاڈ پیار کی داستان ، اور ایسا کردار نبھاتے نبھاتے آج پورے بائیس سال ہو گئے ہیں
محبت وہ لفظ کہ جسے سن کر دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہو جاتا ہے، وہ جذبہ کہ جو دل کی سر زمین پر ایک طوفان برپا کر دیتا ہے، وہ   مرض کہ جس کو لگ جائے تو لاعلاج قرار دے دیا جا  تا ہے،  محبت وہ حقیقت ہے کہ جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی، بہت سے دلو ں کو خوشیاں سے ہمکنا ر ، بہت سے دلوں کو اجاڑ کر بنجر کر دینے ، اور بہت سے دلوں کو زندگی کی قید سے آزاد کر دینے والا یہ جذبہ جس سے شاید ہی دنیا کا کوئی انسان بچ پا یا ہو،
محبت ایک ایسا لفظ کہ جس پر دنیا کے تما م الفا ظ ختم ہیں، بڑے بڑے شاعروں کے اپنی شاعری کو محبت کے نام کر  ڈالا ، بڑے بڑے ادبیوں نے محبت کے نام پر کاغذ سیاہ کر  ڈالے، کتا بوں پر کتابیں لکھی گئیں،
محبت  دن کی طرح ہوتی ہے، جس کے تین پہر ہی محبت کا سرمایہ ہوتے ہیں ،
صبح جو دیکھنے میں بہت بھلی اور خوبصور ت سی لگتی ہے، اسی  صبح کی طرح محبوب کا ساتھ بھی  بہت بھلا اور خوبصورت محسوس ہوتا ہے ، زندگی میں ایک عجیب سے ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے ، وہ احساس جو  ہمیں ساری دنیا میں منفرد کر دے، وہ احساس کے جو ہمیں ہماری ہی نظر میں برتری کا احساس دلا دے،
پر محبت کرنے والے کیوں بھول جاتے ہیں کہ اگر صبح ہوئی ہے تو دوپہر بھی قریب ہی ہے ، ایسی دوپہر کہ جون کہ جو جون کے تپتے دنوں میں اندر کو جھلسا کر راکھ کر ڈالے گی،
ایسی گرمی کہ جو ہماری تمام تر توانائیوں کو سلب کر لے گی  ہم  سے ہمارا غرور چھین لے گی،
بالکل ایسے ہی محبوب دھوکہ دے یا چھوڑ  کر چلا جائے ( دھوکہ دینے والے اور جھوٹ بولنے والے کبھی محبت نہیں کرتے صرف ٹائم پاس کرتے ہیں)
یا زمانے کی رسموں کے سامنے مجبور ہو جائیں  تو یو ں ہی لگتا ہے کہ جیسے  21ہم جون کی تپتی دوپہر میں بنا سائبان کے کسی سڑک کے کنارے بیٹھے ہوئے بھکاری ہیں، اور یہ دوپہر کبھی ختم نہیں ہوگی ، ہماری فریاد ، ہمارا رونا بلکنا کبھی کام نہیں آئے گا ،
پر ایسا نہیں ہوتا دوپہر بیت جاتی ہے ، شام آ جاتی ہے ، جھولی میں یادیں رہ جاتیں ہیں،دل کسی  مسافر کی طرح ان یادوں کو لئے بھٹکتا ہے پر منزل کا کہیں پتا نہیں ہوتا ،
اور پھر  ہر روز کی طرح وہ دن گزر جاتا ہے ، رات اپنے پر پھیلاتی ہے ، پتا نہیں کیوں یہ رات اتنی مہربان کیوں ہوتی ہے، میٹھی میٹھی یادوں کی کسک میں رات کا اندھیرا  دل کی زمین کو ہولے ہولے سے  کھرچتا رہتا ہے، تنہائی  دل کے دروازے پر چپ چاپ بیٹھی رہتی ہے ، یوں لگتا ہے زندگی ٹھہر گئی ہو، پر ایسا نہیں ہوتا ،وقت کب کسی کا غلا م ہوتا ہے؟؟ یہ تو آتا ہے اور گزر جاتا ہے ، وقت کب یہ کسی کی پروا کرتا ہے!!!!
زندگی کی دن یوں ہی پورے ہوتے رہتے ہیں او ر آخرکارمحبت اپنے تمام تر، خوشگواریت، ویرانی، تنہائی اور یادوں کے ساتھ دل کے نہاں خانوں میں دفن ہو جاتی ہے۔۔
”ہمارا معاشرہ برُے انسانوں سے بھرا پڑا ہے“ یہ وہ عام سا فقرہ ہے جو روز مرہ زندگی میں اکثر استعمال کیا جاتا ہے۔ انسان کبھی بھی بُرا پیدا نہیں ہوتا۔ وہ پاک وصاف اس دنیا میں آتا ہے۔
تو پھر کیا چیز ہے جو اسے بُرا بنا دیتی ہے؟
میرے خیال میں گھر کا ماحول، والدین کی عدم توجہ اور معاشرہ اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اور اس بات ثابت کرنے کے میں خود کو ایک مثال دیا کرتی ہوں کہ ایک مسلمان کا بچہ مسلمان ہی بنتا ہے،اسے نماز، روزے ،قرآن کی تربیت دی جاتی ہے۔اور ہندو کا بچہ ہندو ہی بنے گا اسے ہندو ازم کی تربیت دی جائے گی۔ بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک ہندو کا بچہ ہندو ازم کو نا مانے اور ہمارے مذہب اسلام کا راستہ اختیار کرلے۔ یا مسلمانوں میں سے کوئی ایسا کرے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ ایسا نہیں ہوتا ۔ ہوتا ہے جس کو اللہ ہدایت کی توفیق دے اور جیسے سیدھے راستے کی طرف منتخب کرے وہ لوگ وہی راستہ اختیار کرتے ہیں۔
اور تیسری بات یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جیسے شیکسپیئر نے نظم لکھی ”آل دی وڑلڈ از سٹیج“
اور اس میں وہ لکھتا ہے کہ انسان اس دنیا میں آتا ہے اپنا کردار ادا کرتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ مطلب انسان کیا کردار ادا کے گا یہ لکھ دیا گیا ہے۔ مگر یہ بات میں اس قدر مانتی نہیں ہوں اور وہ اس لئے انسان کے پاس اپنا تو کچھ بھی نہیں سوائے اس کے ارادے کے ، تو اگر انسان ارادے کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے تو پھر وہ خود کو کیوں نہیں بدل سکتا؟

بات یہ ہے کہ ایک انسان جوہمیشہ اچھا ہی کام کرتا آیا ہے، اسے بُرا کام کرنا کیسا لگے گا؟
اور وہ انسان کہ جس نے دھوکے فریب کے سوا کچھ کیا ہی نہیں اس کے لیے بھی اچھا کام کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ عام حالات میں عام لوگوں کے خیالات،رویے،خواہشات اور ارادے بہت منتشر ہوتے ہیں اور یہ اس لیے ہوتے ہیں کہ انسان کی سوچ محدود ہے۔ ہم اپنی سوچ کولامحدود کر سکتے ہیں جب ہم اپنی ذات کو تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں۔ مگر یہ بات ہر کسی کی سمجھ میں نہیں آتی۔
پھر ایک بُرا انسان اگر بُرائی کر کر کے تھک جائے اور سیدھے راستے کی طرف آنا چاہے تو ہمارا معاشرہ اسے ایک اچھےانسان کی حیثیت سے قبول ہی نہیں کرتا۔مطلب ایک وہ انسان کہ جو لوگوں کی نظر میں معزز ہے ہمیشہ معزز ہی رہےگا چاہے وہ کتنے ہی غلط کام کرلے اور ایک بُرا انسان ہمیشہ بُرا ہی رہتا ہے چاہے وہ کتنے ہی اچھے کام کر لے۔
اب ایک ڈاکو اور چور کی مثال لے لیں جن کے نام پولیس والوں فہرست میں سب سے اوپر ہوتے ہیں۔ وہ چاہے یہ کام چھوڑ بھی دیں مگر جب بھی کوئی واردات ہوگی پولیس پہلے یہ پتا لگائے کہ فلاں ڈاکو اس دن کہاں تھا۔ یعنی جینے نہیں دینی عزت کی زندگی۔
اب اگر ایک چور مسجد میں نماز پڑھتا ہوا مل جائے تو لوگ کہتے ہیں ”نوسو چوہے کھو کے بلی
حج نوں چلی“
اور یہی لوگ ڈرتے ہیں اس بندے سے جب وہ اسلحے کے زور پہ لوٹتا ہے۔
یہی ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہم برداشت نہیں کرتے موقع نہیں دیتے کسی کو کہ سنور جائے۔ یہاں پولیس والے،بیوروکریٹ،اپوزیشن،حک ومت سب ہی بہروپئے ہیں سب ہی بُرے ہیں مگر ایک وہ انسان جو کہ ہے ہی چور اس میں کوئی بہروب نہیں ہمارے لئے ایک وہ ہی بُراہے۔
لوگ بڑے آرام سے غلط کام کرتے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ مگر اگر کو غلط بندہ اٹھ کے اچھا کام شروع کر سے تو سب کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں کہ ”آکی کر دا اے“؟
اللہ ہمیں برداشت کی توفیق دے۔
آمین

Total Pageviews

Powered By Blogger

Contributors

Followers